زکات سب سے بڑی مالی عبادت ہے

زکات سب سے بڑی مالی عبادت ہے

اہل سنت ایران کے ممتاز دینی رہ نما مولانا عبدالحمید نے زکات کی ادائیگی پر زور دیتے ہوئے نماز کو سب سے بڑی جانی عبادت اور زکات کو سب سے بڑی مالی عبادت قرار دیا۔

پانچ جون دوہزار پندرہ کو زاہدان میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا: اللہ تعالی نے اپنی حکمت بالغہ سے اپنے بندوں پر ایسی عبادتوں کو لازم قرار دیا ہے جن پر عمل کرکے بندہ دل و جان اور مال سے اس کی بندگی کرتاہے۔ اس سے زندگی کے تمام شعبے اللہ کی بندگی سے خوشبو ہوتے ہیں۔

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: دل عقیدہ اور ایمان کی جگہ ہے۔ اسلام پر عمل کرنا دل ہی سے شروع ہوتاہے اور دل میں اگر صحیح عقیدہ ہو تب اعضا وجوارح عمل کی جانب جائیں گے۔ ایک مسلمان اپنے عمل، اخلاق، اچھا برتاو اور اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے سے اللہ تعالی کی بندگی کرتاہے۔ عبادت محض نماز کا نام نہیں ہے؛ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔

انہوں نے عبادت کی اقسام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: قلبی عبادت درست عقیدہ اور ایمان ہے۔ جبکہ جانی و بدنی عبادت میں نماز و روزہ شامل ہیں۔ زکات و صدقات دینے سے مالی عبادت ہوتی ہے۔ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا ایک عظیم عبادت ہے۔ زکات و صدقات دینا مالی عبادت کے علاوہ ایک اخلاقی عبادت اور فرض بھی ہے۔

مولانا عبدالحمید نے قرآن پاک سے استدلال کرتے ہوئے کہا: اللہ کی راہ میں انفاق کرنے اور زکات دینے سے بندے کی اصلاح و تزکیہ ہوجاتی ہے اور اس کے گناہ پاک ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سخاوت اور فراخی کی صفت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ نے فرمایاہے کنجوسی کی آخری سرحد زکات ہے؛ جو زکات ادا کرتاہے وہ کنجوس شمار نہیں ہوتاہے۔ لیکن زکات کے ساتھ صدقہ دینے سے بندہ بخل سے دور ہوجاتاہے۔
انہوں نے مزیدکہا: مالی صدقہ و خیرات بندے کو اللہ کے یہاں مقرب اور محبوب بنانے کے ذرائع ہیں۔ جو شخص دولت اور دنیا سے اتنی محبت رکھے کہ فرائض اور اسلامی احکام کی پرواہ نہ کرے وہ اللہ اور اس کے بندوں کی نظروں میں گرجائے گا۔

نماز اور زکات کی مزید اہمیت واضح کرتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: قرآن پاک میں ستر مرتبہ زکات اور نماز کا تذکرہ اکٹھے آیاہے۔ جو نماز یا زکات کے مسئلے میں کوتاہی کا مظاہرہ کرتاہے اس کا انجام برا ہوتاہے اور وہ اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔ زکات کی اہمیت کے لیے یہی کافی کہ جب نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد بعض لوگوں نے زکات کی ادائیگی سے انکار کیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف تلوار اٹھائی۔ کسی مسلمان کے لیے زکات اور نماز میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔

دارالعلوم زاہدان کے شیخ الحدیث نے قرآن کی روشنی میں گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا: زکات دینے سے مال میں بڑھوتری آتی ہے۔ جب کسی معاشرے میں زکات ادا کی جائے معاشی مسائل حل ہوجائیں گے اور تجارت و زراعت کے مسائل ختم ہوجائیں گے۔ لیکن زکات میں سستی دکھانے سے قحط اور خشک سالی آتی ہے۔

انہوں نے مزیدکہا: زکات کی ادائیگی اخلاص کے ساتھ ہونی چاہیے۔ جو صدقہ و زکات دے کر احسان جتاتاہے دراصل صدقہ باطل کرتاہے۔ زکات دیتے ہوئے کسی غریب پر منت نہ کریں جس سے اسے تکلیف پہنچے۔ یہ غریبوں کا ہم پر احسان ہے کہ ہماری زکات لے کر ہمیں پاک کرتے ہیں۔ دینی مدارس کو بطور خاص ان ایام میں یاد رکھیں اور اپنا مال دین کی ترقی میں خرچ کردیں۔

اللہ اور قوم پر بھروسہ کرکے بانی انقلاب کامیاب ہوئے
اپنے خطاب کے ایک حصے میں ایران میں بانیِ انقلاب کی برسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: اللہ پر توکل اور قوم پر بھروسہ کرنا ان کی کامیابی کا راز ہے۔ چھ جون کے قیام سے انقلاب کا آغاز ہوا جو عوام کی حمایت سے بالاخر کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ عوام ہی کے تعاون پر وقت کی طاقتوں امریکا اور سوویت یونین کے خلاف اٹھ کھڑے ہوکر آپ کامیاب ہوئے اور ایک سیکولر اور غیراسلامی حکومت کا تختہ الٹ دینے میں کامیاب ہوئے۔

تہران میں اہل سنت کے لیے مسجد کا حکم بانی انقلاب نے صادر کیا
صدر دارالعلوم زاہدان نے تہران میں اہل سنت کے لیے ایک مسجد کی الاٹمنٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: جب مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ اور بانی انقلاب تہران میں دل کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج تھے، مولانا عبدالعزیز ان کے پاس گئے اور اہل سنت کے لیے ایک مسجد تعمیر کرنے اورزمین کی الاٹمنٹ کی اجازت مانگے؛ انہوں نے بھی اجازت دی اور باقاعدہ حکم جاری کیا۔ اگلے دن تمام قومی اخبارات نے اس کی خبر شائع کردی۔

انہوں نے مزیدکہا: البتہ جب مختلف محکموں میں سرکاری کارروائی کے لیے کیس چلا تو مسئلہ پیچھے رہ گیا۔ امید ہے مرشداعلی جو ان کے تربیت یافتہ شاگرد ہیں اس مسئلے کو حل کریں گے۔ یہ مسجد ہماری برادری کی شدید ضرورت ہے جس کی تعمیر سے بھائی چارہ کو تقویت ملے گی اور اسلامی جمہوریہ ایران اور اہل تشیع کی عزت میں اضافہ ہوگا۔

حضرت مہدی خاندان نبوت میں ایک مجدد ہیں
ایران میں پندرہ شعبان کو سرکاری چھٹی اور جشن کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے کہا: اس موقع پر مناسب ہے اہل سنت والجماعت کے عقیدے کی جانب اشارہ کیا جائے؛ ہمارا عقیدہ ہے حضرت مہدی ایک مجدد ہیں جو انصاف کی فراہمی اور نفاذِ شریعت کے لیے اٹھیں گے۔

انہوں نے مزیدکہا: حضرت مہدی رضی اللہ عنہ پر شیعہ و سنی متفق ہیں البتہ اہل سنت کا عقیدہ ہے ابھی تک ان کی پیدائش نہیں ہوئی ہے۔ قرآن مجید میں ان کے حوالے سے کوئی اشارت نہیں ہے لیکن بہت ساری احادیث ان کی پیدائش اور خصوصیات کے حوالے سے موجود ہیں۔ قرب قیامت ان کی پیدائش ہوگی اور وہ صرف انصاف اور شریعت کے نفاذ کے لیے کمربستہ ہوں گے۔ ان کا تعلق بھی سادات اور خاندان نبوت سے ہوگا۔

مولانا عبدالحمید نے کہا: اس حوالے سے افراط و تفریط بھی دیکھنے میں آتی ہے؛ کچھ لوگ بالکل ان کے وجود کا انکار کرتے ہیں حالانکہ اہل سنت کا عقیدہ یہ نہیںہے۔ بعض لوگ ان کے لیے نبوت کی حد تک صفات گردانتے ہیں۔ یہ دونوں افراط وتفریط کرتے ہیں۔ نبوت کا خاتمہ ہوچکاہے اور وحی کا دروازہ بھی بند ہوگیاہے۔

انہوں نے کہا: حضرت مہدی ایک مجدد ہوں گے اور اصلاحی خدمات سرانجام دیں گے۔ اس سلسلے میں ضعیف روایات پر جو شیعہ وسنی کی کتابوں میں موجود ہیں، توجہ نہیں کرنی چاہیے۔ صحیح روایات ہی ہمارے لیے کافی ہیں اور اعتدال کی راہ بھی یہی ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین