وزیرستان: پانچ روز میں دوسری کارروائی، ’30 عسکریت پسند جاں بحق، کئی ٹھکانے تباہ‘

وزیرستان: پانچ روز میں دوسری کارروائی، ’30 عسکریت پسند جاں بحق، کئی ٹھکانے تباہ‘

پاکستان کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق منگل کی صبح پاکستانی فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے وزیرستان ایجنسی میں تین علاقوں پر بمباری کی جس میں ’تیس عسکریت پسند جاں بحق جبکہ عسکریت پسندوں کے کئی ٹھکانے‘ تباہ ہوئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ قبائلی علاقے شمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرحد پر واقع شوال پر فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
یہ کارروائی منگل کی صبح کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق اس بمباری میں عسکریت پسندوں کے کئی ٹھکانے تباہ ہو گئے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق جیٹ طیاروں نے شوال کے پشت زیارت کے علاقے پرے غار اور رضان نالہ کے علاقوں پر بمباری کی۔
اس کے علاوہ جیٹ طیاروں نے شمالی وزیرستان ایجنسی کے گروم گاؤں کو بھی نشانہ بنایا۔
یاد رہے کہ قبائلی علاقوں میں ذرائع ابلاغ کی عدم موجودگی میں ملک کے اس دور افتادہ علاقے سے آزادانہ ذرائع سےمعلومات حاصل کرنا ممکن نہیں ہے اور ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو سرکاری اور طالبان کی طرف سے کیے جانے والے دعوؤں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
واضح رہے کہ وزیرستان ایجنسی میں پانچ روز میں یہ دوسری کارروائی ہے۔
اس سے قبل بیس فروری کو شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی اور خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں دو مختلف کارروائیوں میں پندرہ عسکریت پسندوں کو جاں بحق کیا گیا تھا۔
اس کارروائی میں قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف دو کاروائیاں کی گئیں جن میں جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹرز کا استعمال ہوا۔
میر علی میں عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کی دو ماہ میں دوسری کارروائی تھی۔
اس سے قبل 20 جنوری کو پاکستانی فوج کے ذرائع نے اسی علاقے میں جیٹ طیاروں کی کارروائی میں تین جرمن شہریوں سمیت 40 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔
خیال رہے کہ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی جب ایف سی کے 23 اہلکاروں کی طالبان کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور دونوں جانب کی مذاکراتی کمیٹیاں حملے روکنے اور جنگ بندی کی اپیلیں کر رہی ہیں۔

بی بی سی اردو

 

 

 


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین