مفتی محمدقاسم کا زاہدان کے نمازِ جمعہ اجتماع سے خطاب:

تمام انسان خانۂ کعبہ کی برکات سے مستفید ہوتے ہیں

تمام انسان خانۂ کعبہ کی برکات سے مستفید ہوتے ہیں

مفتی محمدقاسم قاسمی نے 5 جون 2026ء کو زاہدان کے نمازِ جمعہ اجتماع میں خانۂ کعبہ کو اللہ تعالیٰ کی ان عظیم اور خصوصی نعمتوں میں شمار کیا جو تمام انسانوں، خصوصاً مسلمانوں کے لیے عطا کی گئی ہیں۔ انہوں نے اسلام میں حج کی فضیلت اور اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور حجاجِ بیت اللہ کو حج کے انوار اور برکات کی حفاظت کی تلقین کی۔

حج میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور عظمت کی بڑی نشانیاں پوشیدہ ہیں
سورۂ آل عمران کی آیات 96 تا 97 کی تلاوت کے بعد مفتی محمدقاسم قاسمی نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں عظیم نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ دینِ اسلام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خانۂ کعبہ ایسی عظیم نعمتیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نوازا ہے۔ یہود و نصاریٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے نسبت رکھنے کے باوجود ان نعمتوں سے محروم ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ میں جو برکتیں رکھی ہیں، ان کے ذریعے صرف مسلمانوں پر نہیں بلکہ پوری انسانیت پر احسان فرمایا ہے۔ تمام انسان کسی نہ کسی صورت میں خانۂ کعبہ کی برکات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ حج میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور عظمت کی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ زمزم، مقامِ ابراہیم، عرفات اور منیٰ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی دائمی و ہمہ گیر حاکمیت کی نشانیاں ہیں۔

حج سابقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے
دارالعلوم زاہدان کے استاد حدیث و فقہ نے مزید کہا: حج ایک مؤثر عبادت ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص حج کرے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرے، وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جیسے ابھی اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا ہو۔ یہ فضیلت خاص طور پر دو اعمال کے لیے بیان کی گئی ہے: اسلام قبول کرنا اور ہجرت کرنا۔

حج حضرت آدم کی توبہ اور حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کی قربانیوں اور اخلاص کا مظہر ہے
مولانا قاسمی نے کہا: حج میں عظیم حقائق جلوہ گر ہوتے ہیں۔ حج میں حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ و ندامت اور انبیائے کرام کی دعاؤں کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ جنت سے زمین پر آنے کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ عرفات میں قبول ہوئی، اور جب حاجی عرفات میں حاضر ہوتا ہے تو گویا وہ منظر اس کی آنکھوں کے سامنے تازہ ہو جاتا ہے۔
انہوں نے مزید فرمایا: دوسرا عظیم منظر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی، دعا اور جدوجہد کا ہے۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام شام کی سرسبز زمین کو چھوڑ کر مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں حضرت ہاجرہ اور اپنے شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیل کو اللہ کے حکم سے چھوڑتے ہیں، تو حضرت ہاجرہ صبر اختیار کرتی ہیں اور یقین کے ساتھ کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ جب حضرت اسماعیل کو پیاس لگی تو حضرت ہاجرہ پانی کی تلاش میں سات مرتبہ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص اور جدوجہد کو اس قدر پسند فرمایا کہ اسے حج کے مناسک کا حصہ بنا دیا، اور قیامت تک حاجی اس عمل کو دہراتے رہیں گے۔

اسلام جدوجہد، اخلاص اور قربانی کا دین ہے
دارالافتاء دارالعلوم زاہدان کے سربراہ نے فرمایا: اسلام محنت، اخلاص، ایثار اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی دینے کا دین ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی فرد یا قوم کو قبول فرما لیتا ہے تو اسے دنیا میں عزت و رفعت عطا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم، حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کی قربانیوں، دعاؤں اور کوششوں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور خانۂ کعبہ اور سرزمینِ حرمین کی عظمت میں اضافہ فرمایا۔

کعبہ کا وجود دنیا کے امن کا سبب ہے
مفتی محمدقاسم قاسمی نے مزید کہا: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک عورت اور ایک بچے کے ساتھ مکہ مکرمہ کی بنیاد رکھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آباد فرمایا۔ انسانی آبادی کی ابتدا مکہ مکرمہ سے ہوئی۔ مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے معارف القرآن میں آیت «جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ» کی تفسیر میں لکھا ہے کہ خانۂ کعبہ کا وجود دنیا کے امن کا سبب ہے، اور اگر اس کا طواف بند ہو جائے تو دنیا تباہی اور زوال کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے۔

مولانا محمدقاسم نے اپنے خطاب کے اختتام پر عوام خصوصاً حجاجِ کرام کو قرآنِ کریم اور مساجد سے تعلق مضبوط کرنے، علماء و صالحین کی صحبت اختیار کرنے اور حج کے انوار و برکات اور اس کے حاصل شدہ ثمرات کی حفاظت کرنے کی تلقین کی۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں