شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 17 اپریل 2026 کو زاہدان میں نماز جمعہ کے اجتماع کے دوران دین اسلام کی جانب سے اخلاق، عدل اور صحیح عمل پر تأکید کی طرف اشارہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ تمام علماء، مورخین، مفکرین اور محققین اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ دین اسلام دنیا میں تلوار، تشدد، جنگ اور لوگوں کے قتل سے نہیں پھیلا بلکہ اخلاق، درست کردار، عدل و انصاف اور تقوی و پرہیزگاری نے اہل دنیا کو متاثر کیا اور اسلام دنیا میں تیزی سے پھیل گیا۔
ہر انسان کی زندگی کی قدر انسانیت، اخلاق اور عدل میں ہے
زاہدان کے اہل سنت کے خطیبِ جمعہ کے دفتر کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے سورہ نحل کی آیت 90 کی تلاوت کے بعد اظہار خیال کیا کہ زندگی بہترین موقع اور آزمائش ہے۔ انسان کے وجود اور تخلیق کا فلسفہ ایک بہت بڑے موقع اور آزمائش میں شرکت ہے۔ اللہ تعالی نے تمام انسانوں کو پیدا کیا تاکہ ان کا امتحان لے کہ وہ کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔ اللہ تعالی کے ہاں بات اور دعوی معتبر نہیں، بلکہ عمل ہی کا اعتبار ہے۔
انہوں نے مزید کہا: تمام پیغمبروں اور آسمانی ادیان کی دعوت انسانیت کے لیے تھی۔ اگر انسان ہو لیکن انسانیت نہ ہو اور اخلاق و عمل نہ ہو تو انسان زندگی میں ناکام ہے، چاہے وہ تمام سہولیات اور سرمایوں سے مالا مال ہی کیوں نہ ہو، اور طاقت و اقتدار رکھتا ہو اور ملک فتح کرے۔ انسانیت اور پروردگار کی خوشنودی اخلاق، عدل و انصاف، سچائی اور دیانتداری میں ہے، لیکن اگر یہ چیزیں نہ ہوں، تو انسان کی زندگی بے وقعت اور برباد ہے۔
حکومتیں اور تمام انسان عدل و انصاف کے مخاطب ہیں
خطیبِ زاہدان نے مزید کہا: عدل و انصاف اور سچائی میں صرف حکومتیں اور حکام قرآن کے مخاطب نہیں ہیں، بلکہ ہر انسان چاہے مرد ہو یا عورت، بوڑھا ہو یا جوان مخاطب ہے۔ انسان اس لیے پیدا کیا گیا ہے تاکہ معاشرے میں انسانیت، ایمان، صحیح عقیدہ، پروردگار سے تعلق اور اچھے اخلاق کو پھیلائے۔
انہوں نے مزید کہا: اللہ تعالی نے انسانوں کو اپنے اور دوسروں کے حق میں عدل و انصاف اور دیانتداری کا حکم دیا ہے۔ انسان کو حق اور انصاف کی رعایت کرنی چاہیے؛ چاہے وہ اس کے اپنے نقصان میں اور دوسروں کے فائدے ہی میں کیوں نہ ہو۔ عدل، اخلاق اور سچائی پروردگار کا حکم ہیں۔ آپ اپنے عقیدے، قول اور فعل میں خدا اور خدا کے بندوں کے ساتھ سچے رہیں اور مسلمان و غیر مسلم اور تمام انسانوں کے ساتھ منصف رہیں۔
عدل و انصاف نیک نامی اور ظلم و فساد لوگوں اور قوموں کی بدنامی کا سبب بنتا ہے
مولانا عبدالحمید نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا: ہر انسان کی ترقی اور نیک نامی انسانیت، سچائی اور خوبصورت اخلاق میں ہے۔ نیک لوگوں نے تاریخ بھر میں ہمیشہ کوشش کی ہے کہ اپنے پیچھے نیک نام چھوڑ جائیں اور ان کی وفات کے بعد دوسرے یہ نہ کہیں کہ فلاں شخص ظالم، بے انصاف اور بد تمیز تھا۔ حضرت ابراہيم عليہ السلام کی دعاؤں میں جو قرآن مجید میں مذکور ہیں آیا ہے کہ پچھلوں میں میرا ذکر خیر باقی رکھ! حضرت ابراہيم کا صحیح اور درست راستہ اور اللہ و عوام کے ساتھ ان کے تعلق کی نوعیت اس کا سبب بنی کہ آج انہیں نیکی کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے اور تمام انسان ان سے منسوب ہونے پر فخر کرتے ہیں۔ عدل و انصاف انسان کے لیے دنیا اور آخرت میں نیک نامی چھوڑتا ہے۔
اسلام اخلاق اور عدل کے ساتھ دنیا میں پھیلا
انہوں نے مزید کہا: تمام علماء، مورخین، مفکرین اور محققین اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ دین اسلام دنیا میں تلوار اور تشدد سے نہیں بلکہ اخلاق، صحیح عمل، عدل و انصاف اور تقوی و پرہیزگاری سے پھیلا ہے۔ اسلام کے عدل کا سایہ اتنا وسیع تھا کہ وہ حکمران، کمانڈر، قاضی، گورنر، خلیفۃ المسلمین اور امیرالمومنین کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا تھا اور سب اسلام کے عدل کے سامنے برابر تھے، کوئی مکر و فریب اور دوغلا پن نہیں تھا اور مخلصانہ سیاست کا راج تها۔
ظلم، فساد اور جھوٹ دین کو نقصان پہنچاتے ہیں اور بدنامی کا سبب بنتے ہیں
خطیبِ زاہدان نے مزید کہا: دین اسلام نے اس وقت جب دنیا جہالت اور اندھیرے میں تھی علم، روشنی ،معرفت اور انسانیت لائی اور ان صفات کے ساتھ وہ قوموں کو متاثر کرنے اور انہیں توحید، ایمان، درست عقیدے اور صحیح اخلاق کی طرف بلانے میں کامیاب ہوا۔
انہوں نے مزید کہا: آج اگر کوئی دین اسلام کی خدمت کرنا چاہتا ہے تو اس کا راستہ اخلاق، عدل و انصاف اور سچائی ہے۔ بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، رشوت، قتل و غارت، راہزنی، مالی بدعنوانی اور جھوٹ نہ صرف کسی فرد، قوم اور دین کی نیک نامی اور ترقی کا سبب نہیں بنتے، بلکہ دین کو نقصان پہنچاتے ہیں اور دین، قوموں، معاشروں اور افراد کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔
حکومت اور حکمرانی کفر کے ساتھ باقی رہ سکتی ہے، لیکن ظلم کے ساتھ باقی نہیں رہتی
مولانا عبدالحمید نے واضح کیا کہ وہ حکومتیں جو اسلام کے نام پر قائم ہوئی ہیں، ان کا عمل اسلامی ہونا چاہیے تاکہ وہ دین کی ترقی کا سبب بن سکیں۔ الملک یبقی مع الکفر و لایبقی مع الظلم؛ وہ حکومت جو اسلام کے نام پر ہو لیکن ظلم کرے، پائیدار نہیں رہتی۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب کی بھلائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ میں ہے۔ کوئی بھی انسان، خطا سے پاک نہیں ہے، لیکن اپنی غلطی کا اعتراف کر کے اصلاح کی کوشش کرنا ہی صحیح راستہ ہے۔
سفارت کاری پر انتہاپسندوں کا اثر نہیں ہونا چاہیے
مولانا عبدالحمید نے جنگ کو روکنے کے لیے ملک کے سفارتی نظام کی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی سفارت کاری کو انتہا پسندوں سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ ان مشکل حالات میں ایک مضبوط اور بااختیار سفارت کاری کی ضرورت ہے تاکہ جنگ کے تسلسل کو روکا جا سکے۔ داخلی و خارجی پالیسیوں اور مسائل کی سنجیدہ تشخیص کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اہم نکتہ یہ ہے کہ سب کو ملک کے اندرونی اور بیرونی مسائل کو دیکھنا چاہیے اور ان کی جڑوں کا پتا لگانا چاہیے۔ یہ دیکھنا چاہیے کہ ان مسائل کی اصل وجہ عوام میں ہے یا ریاست میں۔ وہ پالیسیاں جو ناکام ہوچکی ہیں، انہیں تبدیل کیا جانا چاہیے۔
ایران کو ایک مضبوط اور بااختیار سفارت کاری کی ضرورت ہے
ممتاز عالم دین نے جنگ کو روکنے میں ملک کے سفارتی نظام کی ناکامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا: جنگ شروع ہونے سے پہلے بارہا پکارا گیا کہ جنگ کو روکیں، کیونکہ جنگ جانی و مالی نقصان لاتی ہے، لیکن بدقسمتی سے سفارتی نظام اسے روکنے میں ناکام رہا۔ ایران کو ایسی سفارت کاری کی ضرورت ہے جو چیلنجز کو ختم کرنے کے لیے مکمل اختیارات رکھتی ہو تاکہ جنگ اور کشیدگی کا تسلسل روکا جا سکے۔
انتہا پسندی ہر معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: انتہاپسندی ہر قوم کو نقصان پہنچاتی ہے، سفارت کاری کو انتہا پسندوں سے متاثر نہیں ہونا چاہیے بلکہ وہ صحیح راستہ اختیار کرنا چاہیے جو ایرانی قوم اور دنیا کے مفاد میں ہو۔ مشرق وسطیٰ کے خطے کو امن و سکون کی ضرورت ہے۔ اسلام امن کا دین ہے، رسول اکرم نے صلح حدیبیہ کے دوران خونریزی کو روکنے کے لیے مخالفین کی سخت شرائط کو قبول کیا، اور یہ صلح آخر کار مسلمانوں کے حق میں بہتر ثابت ہوئی۔
ہم کبھی بھی لوگوں کے مارے جانے اور ملک کی تباہی پر راضی نہیں ہیں
خطیبِ جمعہ زاہدان نے ان لوگوں پر تنقید کی جنہوں نے ان کی خاموشی کو جنگ پر رضامندی سے تعبیر کیا تھا۔
انہوں نے کہا: ہم ملک میں امن اور مذاکرات کے خواہاں ہیں اور جنگ کے مخالف ہیں۔ ہم کسی بھی انسان کے قتل پر راضی نہیں ہیں، بشمول ان لوگوں کے جنہوں نے اس ملک میں خدمات انجام دیں۔ ہم کہتے ہیں کہ لوگوں کی بات سنیں، لوگ انصاف اور آزادی چاہتے ہیں۔
سزائے موت اور مخالفین کی جائیدادوں کی ضبطی اللہ اور عوام کی ناراضگی کا سبب بنتی ہے
مولانا عبدالحمید نے سزائے موت اور مخالفین کی جائیدادیں ضبط کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ سزائے موت حکومت اور حاکم کے لیے نقصان دہ ہے، جائیدادوں کی ضبطی سے بھی اللہ اور لوگ ناراض ہوتے ہیں۔
واقعات سے سبق حاصل کریں اور اللہ اور عوام کی رضا کے راستے پر چلیں
خطیبِ جمعہء زاہدان نے آخر میں تاکید کی کہ ہم سب کو نرمی اور شفقت کی وصیت کرتے ہیں، کیونکہ دین اسلام، نرمی اور سچائی سے پھیلا ہے۔ ہمارے ملک نے اس جنگ میں بہت زیادہ جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے، اس لیے ہمیں ان واقعات سے سبق حاصل کرنا چاہیے، ایک دوسرے کی بات سننی چاہیے اور وہ راستہ اختیار کرنا چاہیے جس میں اللہ اور عوام کی رضا ہو۔

آپ کی رائے