مؤذن رسول؛ سیدنا بلال بن رباح رضی اللہ عنہ

مؤذن رسول؛ سیدنا بلال بن رباح رضی اللہ عنہ

طلوع اسلام کی پہلی کرن کے ساتھ ہی حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا وجود نور ایمان سے منور ہوچکا تھا اور وہ حلقہ بہ گوشان اسلام کے اولین دستے میں شامل ہوچکے تھے۔
امام ابونعیم اصبہانی کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کا شمار بھی اصحاب صفہ اور بارگاہ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر باش صحابہ رضی اللہ عنہم میں ہوتا ہے، آپ رضی اللہ عنہ ہر وقت خدمت اقدس میں موجود رہتے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے جاتے تو خادم جاں نثار کی طرح ساتھ ساتھ چلتے، عیدین و استسقاء کے مواقع پر بلّم لے کر آگے آگے دوڑتے، وعظ و پند کی مجلسوں میں بھی نیازمندانہ شریک ہوتے، افلاس و ناداری کے باوجود جو کچھ میسر آجاتا، اس کا ایک حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ضیافت کے لیے پس انداز کرتے اور موقع ملتے ہی پیش فرما کر دعائیں لیتے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی آواز نہایت بلند و دل کش تھی، آپ کی ایک صدا توحید کے متوالوں کو بے چین کردیتی تھی، مرد اپنا کار و بار، عورتیں شبستان حرم اور بچے کھیل کود چھوڑ کر والہانہ وارفتگی کے ساتھ آپ کی جانب متوجہ ہوجاتے، جب خدائے واحد کے پرستاروں کا مجمع کافی ہوجاتا تو نہایت ادب کے ساتھ آستانہ نبوت پر کھڑے ہوکر کہتے حی علی الصلوۃ، حی علی الفلاح، الصلوۃ یا رسول اللہ! اللہ کے رسول! نماز تیار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور نماز پڑھاتے۔ اس طرح حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی صدائے سامعہ نواز ایک لمبے زمانے تک بندگان توحید کو بارگاہ ذوالجلال والاکرام میں سر بہ سجود ہونے کے لیے صف بہ صف کھڑا کرتی رہی۔ (طبقات ابن سعد قسم اول جز و ثالث، بہ حوالہ انوارِ الاسلام)

مختصر سوانحی نقوش
نام و نسب
: آپ کا نام نامی: بلال، والد کا نام رباح اور والدہ کا نام حمامہ ہے، آپ عرب میں پیدا ہوئے اور حافظ ابن عساکر کا اندازہ ہے کہ عام الفیل سے تقریبا تین سال قبل آپ کی پیدائش ہوئی۔ آپ کی پرورش و پرداخت عربوں کے درمیان ہوئی، آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہم عمر تھے۔ (مستدرک 3/913) آپ کا ایک بھائی خالد، اور ایک بہن عفرۃ ہیں، والدہ سمیت ان تمام حضرات نے اسلام قبول کیا۔ (الاستیعاب لابن عبدالبر)

حلیہ: حضرت مکحول فرماتے ہیں: جن لوگوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے، ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ آپ کا رنگ گہرا گندمی، جسم دبلا پتلا، قد لمبا، پیٹھ میں قدرے جھکاؤ تھا اور ہلکے رخسار والے تھے، آپ کے بالوں میں سفیدی کے آثار تھے؛ مگر خضاب نہیں لگاتے تھے۔ (اسد الغابۃ)

ازدواج: حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے متعدد شادیاں کیں، ان کی بعض بیویاں عرب کے نہایت و معزز گھروانوں سے تعلق رکھتی تھیں، بنی زہرہ اور حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے خاندان میں رشتہ مصاہرت قائم ہوا تھا، لیکن کسی سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ (طبقات ابن سعد)

مرویات: علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ آپ کی کل مرویات چالیس (40) ہیں، آپ سے اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم اور کبار تابعین نے روایت لی ہے، حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت جابر، حضرت ابوسعید خدری، حضرت اسامہ بن زید، حضرت براء بن عازب، حضرت کعب بن عجرۃ رضی اللہ عنہم اجمعین؛ تابعین میں حضرت سعید بن المسیب، ابو عثمان نھدی، حضرت اسود، حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی اور حضرت ابو ادریس خولانی رحمہم اللہ و غیرہ نے آپ سے روایت نقل کی ہے۔ (سیر اعلام النبلاء)

قبول اسلام کا پس منظر
حضرت بلال رضی اللہ عنہ سرداران قریش میں سے ایک نامور شخص اُمیہ بن خلف کے غلام تھے، اُس دور میں غلاموں کی جو زندگی ہوا کرتی تھی، ویسی ہی زندگی آپ رضی اللہ عنہ بھی گزار رہے تھے، شب و روز بلا چون و چرا آقا کی خدمت اور اس کے لیے محنت و مشقت، بس یہی مقصد حیات اور حاصل زندگی تھا۔ انہی دنوں مکہ شہر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے چرچے ہونے لگے، تب سرداران قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کا مذاق اُڑایا کرتے اور خوب ٹھٹاکرتے، ان بیہودہ حرکتوں میں حضرت بلال کا آقا امیہ بن خلف سب سے پیش پیش رہتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازیبا الفاظ اور الفاظ و اخلاق سے گرے ہوئے کلمات کا استعمال کرتا تھا۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کانوں تک یہ تمام باتیں پہنچتی رہتی تھیں، وہ قریش کے ناروا ظلم کو بھی دیکھتے اور کے مقابلے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی استقامت کا بھی مشاہدہ کرتے۔ اس حوالے سے ایک عجیب و غریب بات جو ان دنوں بلال رضی اللہ عنہ نہایت شدت کے ساتھ محسوس کیا کرتے تھے، وہ یہ کہ ان کا آقا امیہ بن خلف نیز اس کے ہم نوا رؤسائے قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خوب مذاق بھی اڑایا کرتے تھے؛ لیکن ساتھ ہی وہ اکثر و بیشتر آپ میں ایک دوسرے کو مخاطب کرتے ہوئے یوں بھی کہا کرتے تھے کہ ‘‘بہ خدا ہم نے کبھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو جھوٹ بولتے ہوئے نہیں سنا، خیانت کرتے ہوئے نہیں دیکھا، غداری، بے وفائی اور وعدہ خلافی کرتے ہوئے نہیں پایا’’۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بڑی حیرت ہوتی کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق بھی اڑاتے ہیں، جھٹلاتے بھی ہیں، بیہودہ گوئی بھی کرتے ہیں، ایذاء بھی پہنچاتے ہیں؛ لیکن باہم ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ اخلاق و کردار کی خوب تعریف بھی کیا کرتے ہیں، یہ تو بڑا ہی عجیب معاملہ ہے۔ بلال اکثر رؤسائے قریش کو اسی بارے میں باہم سرگوشیاں کرتے ہوئے سنتے، آپ کی سماعت سے وقتاً فوقتاً ان کی باتیں ٹکراتی رہتیں، آخر کافی دنوں تک ان کی یہ سرگوشیاں مسلسل سنتے رہنے کے بعد بلال اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ تمام رؤسائے قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت و صداقت سے خوب واقف، بلکہ اس کے معترف ہیں، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور بغض و عناد پر صرف اس لیے کمر بستہ ہیں کہ اپنے باپ دادا کا دین چھوڑنا انہیں گوارا نہیں اور اپنی سرداری و بالادستی کے ختم ہوجانے کا سخت اندیشہ ہے۔
غرض اسی کیفیت میں وقت گزارتا رہا، رفتہ رفتہ بلال رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہونے لگی کہ کسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی جائے، اور ان کی گفتگو براہ راست سنی جائے۔ چنانچہ ایک روز موقع پا کر بلال رسول اللہ صلی اللہ علہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک گفتگو سنی، جس سے بے انتہا متاثر ہوئے، اور دعوت حق پر لبیک کہتے ہوئے مسلمان ہوگئے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سب سے پہلے جن لوگوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا، سات افراد ہیں: جناب محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم، حضرت ابوبکر، حضرت عمار، حضرت سمیہ، حضرت بلال، حضرت صہیب، حضرت مقداد رضی اللہ عنہم۔ (سیر اعلام النبلاء)

ظلم و ستم کی بھٹی میں
حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے جیسے ہی اسلام قبول کیا، امیہ نے آپ پر ظلم و ستم، جور و جفا اور جبر و تشدد کے دہانے کھول دیے، اذیت و تکلیف کے ممکنہ حربے استعمال کیے اور طرح طرح سے آپ کو ستایا، مگر صہبائے توحید سے مخمور حضرت بلال رضی اللہ عنہ چٹان کی طرح اپنے ایمانی موقف پر ڈٹے رہے۔ اپنے ظالم آقا امیہ بن خلف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈاک کر بہ بانگ دہل کہتے رہے کہ ‘‘میرے جسم پر تمہارا زور چل سکتا ہے، مگر میں اپنا دل اور اپنی جان محمد اور محمد کے خدا کے پاس رہن رکھ چکا ہوں’’۔ امیہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو جھلستی دوپہر میں گھر سے نکال کر حرہ کی تپتی ریت پر لٹا کر ایک بھاری پتھر سینے پر رکھ دیتا، تا کہ وہ جنبش تک نہ کرسکیں، کبھی انہیں بھوکا پیاسا رکھ کر تڑپنے کے لیے چھوڑ دیتا، کبھی لات و عزی کو معبود منوانے کے لیے غیر انسانی سلوک کرتا، کبھی گردن میں رسی ڈال کر اوباش قسم کے لونڈوں کے حوالے کردیتا، وہ مکہ کی گھاٹیوں میں جلتی ریت پر انہیں اوندھے منہ گھسیٹتے اور باپ دادا کے دین میں واپس آنے پر مجبور کرتے، مگر اس مرد آہن اور مومن کامل کی زبان سے احد احد کی صدا بلند ہوتی، ظلم کی چکی جس قدر تیز چلتی اتنے ہی ایمان، عزم اور حوصلے کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ کے لبوں پہ توحید کا ترانہ جاری ہوجاتا۔
اللہ کو اپنے اس مظلوم بندے کی عاشقانہ ادائیں پسند آئیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بلال کا صبر و شکر، عزم و استقلال اور اس گوہر نایاب کو مظالم کی چکی میں پِستا دیکھ کر بہت مغموم و دل گرفتہ ہوئے، بالآخر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے منہ مانگی قیمت پر امیہ سے بلال رضی اللہ عنہ کو خرید اور آزاد کردیا۔ اب بلال رضی اللہ عنہ مکہ کی تپتی ریت کے پیہم مظالم سے نجات پاکر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے دامانِ رحمت کی ٹھنڈی چھاؤں میں چلے آئے، تب سے سایہ کی طرح اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدموں سے لگے رہے اور دنیا ہی میں جنت کی خوش خبری پائی۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صبح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال کو بلایا اور فرمایا کہ اے بلال! کس عمل کی وجہ سے تم گزشتہ رات جنت میں (خادمانہ حیثیت سے) میرے آگے آگے چل رہے تھے، میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو دو رکعت نماز پڑھ لیتا ہوں۔ اور جب بھی میرا وضو ٹوٹ جاتا ہے تو میں اسی وقت وضو کرلیتا ہوں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی عمل کی وجہ سے ہے۔ (المستدرک علی الصحیحین للحاکم)

اذان کے لیے انتخاب
سن تیرہ نبوی میں ہجرت مدینہ کا حکم نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر تمام مسلمانوں نے اپنا آبائی شہر مکہ اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر محض دین و ایمان کی حفاظت کی خاطر مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ انہی مہاجرین میں حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ مدینہ پہنچنے کے بعد فوری طور پر مسجد نبوی کی تعمیر کا مقدس ترین کام انجام دیا گیا، جس میں عام مسلمانوں کے شانہ بشانہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بنفس نفیس تعمیری امور میں شریک رہے اور لکڑی، پتھر، مٹی و غیرہ سامان تعمیر اپنے کندھوں پر ڈھوتے رہے، جب مسجد کی تعمیر مکمل ہوچکی تو یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ ہر نماز باجماعت کے وقت سب کو مطلع کیسے کیا جائے؟ چنانچہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو خواب کے ذریعہ کلمات اذان کی تلقین کی گئی اور جب اس مقصد کے لیے ‘‘اذان’’ کی مشروعیت ہوئی تو یہ سوال درپیش ہوا کہ ہر روز پابندی کے ساتھ پانچ بار مسجد نبوی سے ‘‘اذان’’ دینے کا فریضہ کون انجام دے گا؟ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظرِ انتخاب حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ پر پڑی، جو ابتدائے اسلام سے ہی ‘‘اَحد، اَحد’’ کا نغمہ جاودان گنگناتے چلے آرہے تھے، اور اسی کو انہوں نے شب و روز اپنا ورد بنا رکھا تھا، لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ‘‘اذان کے لیے بھی انہی کو منتخب فرمایا، تا کہ شام و سحر اللہ رب العزت کی تکبیر و تہلیل کا مقدس ترین فریضہ بھی یہی انجام دیں۔
اس طرح سالہا سال تک حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کی انتہائی موثر و دل نشین آواز میں یہ اذان مدینہ کی فضاؤں میں گونجتی رہی، اور اہل ایمان کے دلوں کو گرماتی رہی، اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مبارک انتخاب کے نتیجے میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ تاریخ اسلام کے اولین موذن مقرر ہوئے، جو کہ یقیناً بہت برا شرف اور اعزاز تھا۔ (ملخص از اصحاب الرسول، ذکر موذن رسول: 240)

عہد نبوی اور اس کے بعد
حضرت بلال رضی اللہ عنہ تمام مشہور غزوات میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک رہے، غزوہ بدر میں آپ رضی اللہ عنہ نے دشمن اسلام امیہ بن خلف کو واصل جہنم کیا جو آپ کی ایذارسانی میں سب سے پیش پیش تھا۔ فتح مکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم رکابی کا شرف بھی آپ کے حصے میں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو اس مؤذن خاص کو بھی معیت کا فخر حاصل تھا۔ (کتاب المغازی باب دخول النبی صلی اللہ علیہ وسلم من اعلی مکۃ) انہیں حکم ہوا کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر توحید کی پر عظمت صدائے تکبیر بلند کریں، خدا کی قدرت کہ وہ حریم قدس جسے ابوالانبیاء ابراہیم علیہ السلام نے خدائے واحد کی پرستش کے لیے تعمیر کیا تھا، مدتوں صنم خانہ رہنے کے بعد پھر ایک حبشی نژاد کے نغمہ توحید سے گونج اٹھا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے تو آپ کی رحلت کا سانحہ نہایت اندوہناک سانحہ تھا، جس کی وجہ سے تمام مدینہ شہر میں رنج و الم کی لہر دوڑ گئی، ہر کوئی غم کے سمندر میں ڈوبا ہوا تھا، یہی کیفیت حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کی بھی تھی، اسی کا یہ اثر تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب انہوں نے مسجد نبوی میں اذان دینے کا سلسلہ ترک کردیا، کیوں کہ دورانِ اذان جب وہ ‘‘اشھد ان محمداً رسول اللہ’’ پر پہنچتے تو بہت اداس ہوجاتے، آواز گلوگیر ہوجاتی اور اذان مکمل کرنا دشوار ہوجاتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب مدینہ میں بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کا دل بھی نہیں لگتا تھا، یہی وجہ تھی کہ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ملک شامِ میں جو اسلامی فوج رومیوں کے خلاف بر سرِ پیکار ہے، میں بھی وہاں چلا جاؤں، اور اپنی باقی زندگی ان سپاہیوں کے شانہ بشانہ اللہ کے دین کی سربلندی میں گزار دوں۔ چنانچہ اس بارے میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ کے اولین جانشین اور خلیفہ وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اجازت چاہی، مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے منع کردیا اور اصرار کیا کہ: ‘‘بلال! آپ ہمیں چھوڑ کر مت جائیے’’ لیکن بلال جانے پر مُصر تھے، دونوں جانب سے اصرار و انکار کا سلسلہ چلتا رہا۔ آخر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ‘‘اگر آپ اس وجہ سے مجھے جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں کہ آپ نے مجھے مکہ میں اُمیہ سے خرید کر آزاد کیا تھا، تب تو ٹھیک ہے، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں! اور اگر آپ نے مجھے محض اللہ کی رضا کی خاطر آزاد کیا تھا تو میری آپ سے گذارش ہے کہ آپ مجھے مت روکیے، مجھے جانے کی اجازت دے دیجئے۔’’ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب بلال رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ بات سنی تو انہیں مدینہ سے ملک شام چلے جانے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ سے ملک شام منتقل ہوئے، اور وہاں اسلامی لشکر میں شامل ہو کر اللہ کے دین کی سربلندی کی خاطر جد وجہد میں مشغول و منہمک ہوگئے۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسند خلافت پر قدم رکھا تو ان سے بھی شرکتِ جہاد کی اجازت طلب کی، اور خلیفہ اول کی طرح خلیفہ دوم نے بھی ان کو روکنا چاہا، لیکن جوش جہاد کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا، بے حد اصرار کے بعد اجازت حاصل ہوئی، اور شامی مہم میں شریک ہوگئے۔ (بخاری و طبقات ابن سعد قسم اول جزو ثالث)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے 16ھ میں فتح بیت المقدس کے موقع پر شام کا سفر کیا تو دوسرے افسران فوج کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے بھی مقام جابیہ میں ان کو خوش آمدید کہا اور بیت المقدس کی سیاحت میں ہم رکاب رہے، ایک روز حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے اذان دینے کی فرمائش کی تو بولے: گو میں عہد کرچکا ہوں کہ حضرت خیرالانام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کے لیے اذان نہ دوں گا، تا ہم آج آپ کی خواہش پوری کروں گا، یہ کہہ کر اس عندلیب توحید نے کچھ ایسی لحن میں خدائے ذوالجلال کی عظمت و شوکت کا نغمہ سنایا کہ تمام مجمع بے تاب ہوگیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس قدر روئے کہ ہچکی بندھ گئی، حضرت ابوعبیدہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما بھی بے اختیار رو پڑے، غرض سب کے سامنے عہد نبوت کا نقشہ کھنچ گیا اور تمام سامعین نے ایک خاص کیفیت و لذت محسوس کی۔ (تاریخ طبری و اسدالغابہ: 208/1)

حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور قبر اطہر کی زیارت
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قیام شام کے زمانے میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ‘‘بلال یہ کیا بے وفائی ہے؟ کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ تم میری زیارت کے لئے (مدینہ) آؤ!’’ بلال رضی اللہ عنہ گھبراہٹ کی عالم میں نیند سے بیدار ہوئے، سواری پر سوار ہوئے۔ اُفتاں خیزاں مدینہ منورہ پہنچے، اور قبر مبارک پر حاضری دی، وہاں روتے رہے، اپنے چہرے کو قبر مبارک پر ملتے رہے۔ اتنے میں حسن و حسین رضی اللہ عنہما آگئے، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے دونوں کو گلے سے لگایا، پیار کیا، نواسوں نے فرمائش کی کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے زمانے میں جو اذان آپ دیا کرتے تھے ہم وہی اذان سنا چاہتے ہیں، اوپر چڑھیے اور اذان دیجیے، بلال رضی اللہ عنہ اس جگہ کھڑے ہوگئے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھڑے ہو کر اذان دیا کرتے تھے، اذان شروع کی، ‘‘اللہ اکبر، اللہ اکبر’’ کہا تو سارا مدینہ حرکت میں آگیا، ‘‘اشھد ان لا الہ الا اللہ’’ کہا تو یہ حرکت شدید ہوگئی، ‘‘اشھد ان محمداً رسول اللہ’’ کہا تو تو عورتیں بھی باہر نکل آئیں اور لوگ سوالیہ انداز میں کہنے لگے کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (دوبارہ) مبعوث کردیئے گئے؟ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جتنا اس دن مدینہ کی عورتیں اور مرد روئے اتنا رونا کسی اور دن نہیں دیکھا گیا۔’’ (تاریخ دمشق لابن عساکر، ج۵، ص: 265)

وفات: حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے شام ہی کو اپنا وطن بنالیا تھا، وہیں پر تا دم حیات مقیم رہے، اپنی وفات سے ایک دن پہلے گھروالوں سے فرمانے لگے: ‘‘غداً نلقی الاحبۃ، محمداً و حزبہ’’ کل ہم اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام سے ملاقات کریں گے۔ یہ سن کر اہلیہ محترمہ نے کہا ‘وَاوَیلاہ! ہائے افسوس! ہائے میری تباہی و بربادی! تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وَافَرحَاہ! یہ کیا ہی خوشی کی بات ہے! واہ میری خوشی و مسرت کہ کل اپنے محبوب کی زیارت نصیب ہوگی۔
اکثر مورخین کی رائے ہے کہ حضرت بلال کی وفات امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت سنہ 20ھ دمشق میں ہوئی اور اس وقت عمر مبارک ساٹھ سال سے متجاوز تھی۔ ‘‘باب الصغیر’’ یا ‘‘باب کیسان’’ میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔ رضی اللہ تعالی عنہ و ارضاہ (الاصابۃ: 204/1)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں