مولانا عبدالحمید:

دین پر استقامت سے جنت کی نعمتیں ملتی ہیں

دین پر استقامت سے جنت کی نعمتیں ملتی ہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے چھ مئی دوہزار بائیس کے خطبہ جمعہ میں دنیا کو آزمائشوں اور امتحانات کی جگہ یاد کرتے ہوئے زندگی کے عروج و زوال کے تمام مراحل میں شریعت پر استقامت کے نتائج کو خوش آئند قرار دیا جن میں جنت کی نعمتیں اور اللہ تعالی کی بشارتیں شامل ہیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے اپنے بیان کا آغاز قرآنی آیت: کی تلاوت سے کیا۔
انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے دنیا کو آزمائشوں اور امتحانات کا مقام قرار دیا ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں جیسے ہی وہ ایمان کا دعویٰ کریں انہیں جنت ملے گی، حالانکہ زندگی میں مختلف قسم کی سختیاں، بلائیں، آفتیں اور اونچ نیچ پیدا ہوتی ہیں تاکہ سچے مسلمانوں کو آزمائشوں سے گزار کر معلوم کرایاجائے؛ ایمان کے دعوے میں سچے لوگ صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور جھوٹے لوگ صبر کا دامن چھوڑدیتے ہیں۔ صبر کرنے والوں پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا: صبر کا شمار بڑی عبادتوں میں ہوتاہے۔ اگر صبر نہ ہوتا، مسلمان رمضان میں روزہ نہیں رکھ سکتے تھے۔ اس صبر اور روزے کی برکت سے عید کی خوشیاں، موت کے وقت خوشی اور آخرت کی بشارت اور جنت کی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا: شیطانی وسوسوں کو اللہ کی یاد اور نام سے دفع کریں۔ دین پر استقامت کریں، حرام سے بچیں، گناہوں سے دوری کریں، لوگوں کے حقوق اور اللہ کے حقوق اور احکام پر ثابت قدم رہیں؛ ایسی استقامت سراسر رحمت ہے جیسا کہ قرآن پاک میں آیاہے۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: یہ بشارتیں نہ صرف بوقت موت کہ قیامت کے ہر منظر میں مومنوں کو نصیب ہوتی ہیں۔ قیامت کے روز مومن کو جنت اور اس کی خواہشات مل جائیں گی۔ یہ دن ان کے لیے خوشی اور سرور کا دن ہوگا جو استقامت کے نتائج ہیں۔ اس دن نبی کریم ﷺ کوثر کے پانی سے استقامت کرنے والوں کی تواضع کریں گے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے رمضان کے بعد دین پر استقامت کی تاکید کرتے ہوئے کہا: جو رمضان کے بعد دین میں کوتاہی اور سستی دکھائیں، مسجد، نماز اور صلہ رحمی کو چھوڑدیں، گناہوں کی طرف واپس لوٹیں، ایسے لوگوں نے استقامت نہیں کیا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان کے اس حصے کے آخر میں کہا: لوگوں کو دین کی طرف بلائیں اور بے حسی کا مظاہرہ نہ کریں، بے دینی اور گناہ سے آفتیں پیدا ہوتی ہیں اور اس کے منفی اثرات سے سب متاثر ہوجاتے ہیں۔ خود کو دین کا سپاہی سمجھ کر دین کا دفاع کریں۔

کمرتوڑ مہنگائی نے عوام کو پریشان کررکھاہے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطبہ جمعہ کے دوسرے حصے میں ایران میں بڑھتی ہوئی کمرتوڑ مہنگائی اور روٹی کی قیمت بڑھانے کی رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایران کے معاشی مسائل کی جڑ یں سیاسی مسائل میں پیوست ہیں۔
انہوں نے حکومت اور ریاستی ذمہ داروں کو مشورہ دیا موجودہ مسائل سے نجات کے لیے ’موافقین و مخالفین کی آرا‘ سے استفادہ کریں۔
ممتاز سنی عالم دین نے زاہدانی نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: افسوس سے کہنا پڑتاہے ملک میں مہنگائی اپنے عروج پر ہے۔ کمرتوڑ مہنگائی اور آسمان سے باتیں کرنے والی قیمتوں نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ملک میں موجود غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور سماج پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے حوالے سے حکومت اور ریاست کے ذمہ داروں کو ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ موجودہ صورتحال پر ہر صاحبِ ضمیرکا ضمیر دردمند ہے۔
مولانا عبدالحمید نے آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں اضافے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: خبروں میں آیا تھا روٹی کی قیمت بڑھنے والی ہے۔ روٹی لوگوں کی اولین ضرورت ہے۔ بہت سارے لوگ گوشت اور چاول خریدنے سے عاجز ہیں، اگر روٹی بھی ان کے دسترخوان سے غائب ہوجائے وہ بھوک سے مرجائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا: حضرات کا دعویٰ ہے کہ ہم روٹی کی سبسڈی نقد ادائیگی سے کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں اس پیشکش کا شکریہ، نقد سبسڈی کی ادائیگی دیگر جہگوں پر ہم نے دیکھا ہے۔ یہ باتیں محض لوگوں کے دل بہلانے کے لیے ہیں۔ آپ روٹی مہنگی نہ کریں تاکہ وہ طبقے جن کے ہاتھ سے دیگر اشیا دور ہیں، کم از کم روٹی ان کے دسترخوان سے غائب نہ ہوجائے۔ سستی روٹی بھی بعض خاندانوں کے پہنچ سے دور ہے، اگر روٹی مہنگی ہوگئی تو اس سے بڑھ کر بڑا بحران پیدا ہوگا۔ لہذا روٹی کی قیمت نہ بڑھانا ایک قومی مطالبہ ہے۔
مولانا عبدالحمید نے سیاسی مسائل کو موجودہ معاشی بحرانوں کی اصل وجہ یاد کرتے ہوئے کہا: بندہ پوری جرات کے ساتھ کہتاہے اور ثابت کرکے دکھابھی سکتاہے کہ معاشی مسائل پیدا ہونے کی اصل وجہ سیاسی مسائل ہیں۔آپ سیاسی مسائل حل کریں، معاشی مسائل خودبخود حل ہوجائیں گے؛ اگر ایسا نہیں ہوا پھر اس شخص کا گریباں پکڑیں جو معاشی مسائل کی جڑوں کو سیاسی مسائل میں دیکھتاہے۔
انہوں نے اعلیٰ حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: معاشی اور اقتصادی بحرانوں سے نجات کے لیے ماہرین معاشیات کے پاس نہ جائیں۔ میں آپ کو یقین دلاتاہوں کہ کوئی ماہر معاشیات ہمارے معاشی مسائل کا حل نہیں بتاسکتاہے، وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشی مسائل کی جڑ کہیں اور ہے۔ آپ داخلہ اور خارجہ پالیسیوں میں نظرثانی کرکے ان میں تبدیلی لائیں۔ اس بارے میں صرف کابینہ اور حکومتی ماہرین کے پاس جانے پر اکتفا نہ کریں، بلکہ علمائے دین سے بھی رابطہ کریں جو قرآن و سنت کی روشنی میں بات کرتے ہیں اور دیگر دانشور حضرات سے بھی رابطہ کرکے موافق و مخالف ماہرین کی آرا معلوم کریں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: اگر ان امور کا خیال رکھاجائے، ملک کے تمام مسائل بشمول معاشی مسائل حل ہوجائیں گے اور قومی کرنسی کی قدر بھی بڑھے گی جو اب دنیا میں سب سے کمزور کرنسیوں میں شمار ہوتی ہے۔ ایران کے پاس ایسے ذخائر اور وسائل ہیں جن کا بہت سارے ممالک سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا، لیکن واقعی ہمارے ملک کی کرنسی اس قدر بے وقعت اور کمزور کیوں ہے؟!حکام کو اس پر سوچنا چاہیے اور ذمہ داری کے احساس سے موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے چارہ جوئی کرنی چاہیے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں