ریاست پاکستان کی کوششوں کے باوجود بلوچ نوجوان عسکریت پسندی کی جانب مائل کیوں ہو رہے ہیں؟

ریاست پاکستان کی کوششوں کے باوجود بلوچ نوجوان عسکریت پسندی کی جانب مائل کیوں ہو رہے ہیں؟

’فوجی حکام بلوچ نوجوانوں کو کہتے ہیں کہ وہ مثبت سوچ اپنائیں لیکن جب تک ریاستی ادارے مثبت انداز نہیں اپنائے گے تو اس وقت تک بہت مشکل ہے۔۔۔ ہم نے یہ محسوس کیا کہ بہت ساری چیزیں ان کے ہاتھوں سے نکل چکی ہیں۔‘
بلوچ طالب علم بتاتے ہیں کہ انھیں بعض اوقات سکیورٹی فورسز کے کیمپوں میں بلایا جاتا ہے، انھیں موٹیویٹ کیا جاتا ہے اور حتیٰ کہ لیپ ٹاپ اور سکالر شپس بھی تقسیم کی جاتی ہیں۔ ’مگر یہ سب ناکافی ثابت ہوا ہے۔‘
پاکستان کی وفاقی و صوبائی حکومت اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے صوبہ بلوچستان میں شورش کے خاتمے اور عسکریت پسند گروہوں کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے تحت فوجی آپریشن کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی سوچ کو تبدیل کرنے اور انھیں مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے جاتے رہے ہیں۔
ان اقدامات میں اندازاً ایک دہائی قبل صوبے کی دکانوں اور سٹالز پر بلوچ قوم پرست رہنماﺅں کی تصویروں اور قوم پرستی سے متعلق لٹریچر کی نشاندہی کر کے قبضے میں لینا تو کبھی اعلیٰ فوجی حکام کی جانب سے یونیورسٹیوں اور کالجوں میں نوجوانوں سے براہ راست رابطوں کا سلسلہ شروع کرنا شامل ہیں۔
تاہم بعض تجزیہ کاروں اور مبصرین کی رائے میں گذشتہ تین چار برسوں سے بلوچستان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں نہ صرف عسکریت پسندی کے رجحان میں اضافہ سامنے آیا بلکہ اس دوران جو خودکش حملے کیے گئے ان میں حصہ لینے والوں کی بڑی تعداد جدید تعلیمی اداروں سے پڑھے لکھے نوجوانوں پر مشتمل تھی۔
اس کی ایک مثال حال ہی میں کراچی یونیورسٹی کے احاطے میں چینی زبان کے مرکز کی وین پر ہونے والے خودکش دھماکے کی ہے جو شاری بلوچ نامی نوجوان بلوچ خاتون حملہ آور نے کیا تھا۔
یاد رہے کہ اس حملے میں چینی شہریوں سمیت چار افراد ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔
اس سے چند برس قبل کراچی سٹاک ایکسچینج حملے میں بھی نوجوان افراد ملوث تھے۔ تاہم بلوچستان میں شورش کو سرکاری حکام ایک بیرونی سازش قرار دیتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد پاکستان بشمول بلوچوں کو نقصان پہنچانا ہے۔
بلوچ نوجوانوں کا عسکریت پسندی کی جانب مائل ہونے کے عوامل پر بات کرنے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ حکومتی و سکیورٹی حکام کی جانب سے نوجوانوں کو اس سب سے دور رکھنے کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

سکیورٹی فورسز کا ‘قابل اعتراض’ لٹریچر اور کتابوں کا ضبط کرنا
سنہ 2013 کے عام انتخابات کے بعد وہ پہلا موقع تھا کہ دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے کوئلہ پھاٹک کے قریب فرنٹیئر کور کے کیمپ میں صحافیوں کو ایک بریفنگ کے لیے بلایا گیا تھا لیکن بعض صحافیوں کے لیے سکیورٹی فورسز کی جانب سے اس بریفنگ کا منظر بہت زیادہ حیرانی کا باعث تھا۔
کیونکہ وہاں ماضی کی طرح نمائشں کے لیے اسلحہ و گولہ بارود نہیں تھا بلکہ اس کے برعکس کتابیں اور لٹریچر وغیرہ رکھا گیا تھا۔ اس بریفنگ کے دوران حکام نے بتایا تھا کہ یہ لٹریچر انھوں نے ایران سے متصل بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت سے برآمد کیا ہے۔
کوئلہ پھاٹک کے ساتھ ایف سی کے کیمپ میں ٹینٹ بالکل اسی طرح لگے ہوئے تھے جس طرح اس سے قبل اسلحہ وغیرہ کی نمائش کے لیے لگائے جاتے تھے لیکن وہاں میزوں پر اسلحہ اور گولہ و بارود نہیں بلکہ کتابیں، میگزین، پمفلٹ اور ماہنامے وغیرہ رکھے گئے تھے۔
ان کتابوں اورلٹریچر کے بارے میں بریفنگ کے لیے ایف سی کے آفیسر محمد اعظم وہاں موجود تھے جو کہ اس وقت لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز تھے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کتابوں اور لٹریچر کو عطاشاد ڈگری کالج سمیت دو مقامات سے چھاپوں کے دوران برآمد کیا گیا۔ ان میں پمفلٹ، ماہنامے اور میگزین وغیرہ زیادہ تر قوم پرست طلبا تنظیم بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے مختلف گروپوں کے تھے جن میں مبینہ طور پر بلوچوں پر مظالم سے متعلق مواد شامل تھا۔
جبکہ کتابوں میں سے بعض مختلف قوم پرست اور سیکولر مصنفین کی تھیں اور ان میں سے کچھ بلوچ قوم پرست تحریکوں سے متعلق تھیں جبکہ ان میں سے کچھ کے مصنفین بھی بلوچ قوم پرست تھے۔
اسی طرح تربت سے چھاپوں میں برآمد کی جانے والی کتابوں میں دنیا کے دیگر خطوں میں آزادی کی تحریکوں اور ان کے رہنماﺅں کی حالات زندگی اور ان کی جدوجہد سے متعلق کتابیں بھی شامل تھیں۔ ان میں چی گویرا اور دیگر رہنماﺅں کی حالات زندگی سے متعلق کتابیں بھی تھیں۔
تاہم تاریخ دان مبارک علی اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے مصنفین کی جو کتابیں رکھی گئی تھیں ان میں سے زیادہ تر وہ تھیں جو کہ کراچی، لاہور اور پاکستان کے دیگر شہروں میں کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں۔
کتابوں میں مہاتما گاندھی کی حالات زندگی کے علاوہ بلوچستان کے قوم پرست رہنماﺅں کی حالات زندگی سے متعلق بھی کتابیں شامل تھیں۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ کرنل اعظم کا کہنا تھا کہ ‘کالعدم تنظیم بی ایس او آزاد کے شرپسند اور کالعدم بی ایس او آزاد کے عناصر اس لٹریچر کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے ان کو پاکستان مخالف پروپیگنڈا کا حمایتی بنا کر شرپسندی اور تخریب کاری کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔‘
کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تربت میں دو کارروائیوں میں بڑی تعداد میں قابل اعتراض لٹریچر وغیرہ برآمد کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ لٹریچر پاکستان اور اس کے استحکام کے خلاف تھا اور اس کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کر کے ملک کے خلاف کیا جاتا تھا، اسی وجہ سے اس کو ضبط کیا گیا۔

اعلیٰ فوجی حکام کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں نوجوان طلبا سے رابطے
ماضی میں بلوچستان میں کالجز اور یونیورسٹیوں میں بلوچ اور پشتون قوم پرست طلبا تنظیموں کی گرفت سب سے زیادہ مضبوط تھی جس کے باعث سرکاری حکام کے لیے یہ مشکل تھا کہ وہ ان تعلیمی اداروں میں جاکر نوجوانوں سے براہ راست رابطے کرتے۔
لیکن 2000 کی دہائی کے آخر میں بالخصوص 2010 کے بعد پاکستان کے سینیئر فوجی حکام نہ صرف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں گئے بلکہ وہاں انھوں نے بلوچ طلبا کے ساتھ براہ راست روابط کا بھی اہتمام کیا۔
کوئٹہ میں جن تعلیمی اداروں میں براہ راست ملاقات یا رابطوں کا اہتمام کیا گیا ان میں بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز، یونیورسٹی آف بلوچستان اور سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی کے علاوہ تربت یونیورسٹی اور دیگر ادارے شامل تھے۔
کوئٹہ کینٹ اور کوئٹہ سے باہر سکیورٹی فورسز کے کیمپوں میں بھی طلبا کے لیے فوجی حکام سے نشستیں اور بلوچستان و دیگر صوبوں کے نوجوانوں کے درمیان روابط کو بڑھانے اور بلوچستان میں سپورٹس کی سرگرمیوں کو بڑھانے کے اقدامات اس کے علاوہ تھے۔
یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں سپورٹس اور محکمہ امور نوجوانان کے شعبے کے بجٹ میں نہ صرف اضافہ ہوتا رہا بلکہ رواں مالی سال کے بجٹ میں سپورٹس کے شعبے کا ترقیاتی بجٹ کئی اہم پیداواری شعبوں کی مجموعی ترقیاتی بجٹ سے بھی بہت زیادہ ہے۔

فوجی حکام سے ہونے والی نشستوں پر طلبا کا کیا کہنا ہے؟
میں نے کوئٹہ اور تربت میں مجموعی طور پر ایسے چار طالبعلموں سے رابطہ کیا جن میں سے تین براہ راست ایسی نشستوں میں شریک ہوئے۔
ان میں بلوچستان یونیورسٹی کے طالب علم محمد خان نے بتایا کہ انھوں نے دو ایسی نشستوں میں شرکت کی جو ایوب سٹیڈیم اور یونیورسٹی آف بلوچستان میں منعقد کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں نشتوں میں کوئٹہ میں پاکستان فوج کے 12 کور کے دو سابق کمانڈروں نے شرکت کی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ان نشستوں میں فوجی حکام کی جانب سے یہ بتایا گیا کہ نوجوان نسل کو مثبت سوچ اپنانی چاہیے اور منفی سرگرمیوں سے اجتناب کرتے ہوئے مثبت سرگرمیوں کی جانب بڑھنا چاہیے۔ کیونکہ منفی سرگرمیاں ان کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہیں۔
‘اس کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ نوجوان کسی ایک چیز یا واقعے کے ایک پہلو کو دیکھ کر رائے قائم نہ کریں بلکہ ایک بہتر رائے قائم کرنے کے لیے اس کے تمام پہلوﺅں کا جائزہ لینا چاہیے۔‘
طالب علم محمد خان کے مطابق ان ملاقاتوں میں یہ بھی بتایا گیا کہ ‘پاکستان سب کا ملک ہے اور اس میں سب کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ اس لیے نوجوانوں کو علم اور ہنر کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانا چاہییں تاکہ آگے چل کر وہ اپنی اور ملک کی ترقی میں کردار ادا کریں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ‘یہ بات بھی کی گئی کہ اگر کوئی چیز غلط نظر آئے تو اس پر دلیل اور شواہد کے ساتھ بات کرنی چاہیے نہ کہ اس سے متعلق سنی سنائی باتوں کو آگے بڑھائیں۔‘
محمد خان نے بتایا کہ جن دو نشستوں میں انھوں نے شرکت کی ان میں فوجی آپریشنز یا سکیورٹی فورسز کی پالیسیوں پر بات نہیں ہوئی بلکہ صوبے میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقعوں میں کمی اور بہتر تعلیمی سہولیات کی فقدان پر زیادہ بات کی گئی۔

’روایتی باتوں سے حالات قابو میں نہیں آئیں گے‘
تربت یونیورسٹی کے جن دو طلبا نے ایسی نشستوں میں شرکت کی تھی انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یونیورسٹی کے علاوہ سکیورٹی فورسز کے کیمپ میں بھی اس طرح کی نشستوں کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔
ان میں سے ایک طالب علم نے یہ دعویٰ کیا کہ تربت یونیورسٹی میں جس سیشن میں وہ شریک ہوئے اس میں بلوچستان میں 12 کور کے موجودہ کمانڈر لیفٹینینٹ جنرل سرفراز علی آئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘اس سیشن میں زیادہ تر روایتی باتیں کی گئیں اور یہ بتایا گیا کہ یہ ملک سب کا ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم اور اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کی جانب توجہ دینی چاہیے۔‘
اس طالب علم نے شکایتی لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ ’75سال سے یہی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ہماری بھی یہی خواہش ہے کہ تعلیم حاصل کریں، لیکن یہاں سرکاری تعلیمی اداروں کی صورتحال کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ان نشستوں میں یہ بھی کہا گیا کہ نوجوانوں کو ملک کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہیے۔ ‘لیکن ہم محسوس کرتے ہیں کہ وہ ہمارا ڈیٹا اکھٹا کرتے ہیں۔ وہ ہمیں مختلف نظروں سے دیکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کئی طالب علموں کو لاپتہ بھی کیا گیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ان نشستوں میں طالب علم بات کرنا چاہتے ہیں لیکن انھیں یا تو اس کا موقع نہیں دیا جاتا ہے یا پھر وہ خوف کی وجہ سے بھی کوئی سوال نہیں کرسکتے ہیں کہ کہیں ان کا کوئی سوال حکام کی ناراضی کا باعث نہ بن جائے۔
’ہم نے یہ محسوس کیا کہ بہت ساری چیزیں ان کے ہاتھوں سے نکل چکی ہیں۔ وہ حالات کو قابو کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس طرح روایتی باتوں سے حالات قابو میں نہیں آئیں گے۔‘
طالب علم کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کو ماورائے آئین لاپتہ کرنے کی بجائے ہمارے جو سیاسی اورمعاشی حقوق ہیں ان کو دیا جائے تو اس سے مسائل حل ہوں گے۔ صرف روایتی باتوں سے صورتحال میں بہتری ممکن نہیں ہے کیونکہ جو مسئلے مسائل ہیں وہ ریاست اور ریاستی اداروں کی جانب سے ہیں۔‘
طالب علم کا کہنا تھا کہ ’ان نشستوں میں شرکت کرنے والے حکام نوجوانوں کو کہتے ہیں کہ وہ مثبت سوچ اپنائیں لیکن جب تک ریاستی ادارے مثبت انداز نہیں اپنائے گے تو اس وقت تک بہت مشکل ہے کہ تمام نوجوان ان کی خواہش کے مطابق پازیٹو ہو جائیں۔ یکطرفہ طور پر مثبت ہونے سے بات نہیں بنے گی۔‘
دوسرے نوجوانوں نے کہا کہ ’ان نشستوں میں حکام لوگوں کے ذہن کو پاکستان کی جانب کرنا چاہتے ہیں اور وہ مائنڈ سیٹ بھی چیک کرنا چاہتے ہیں۔ نوجوان طالب علموں کو سکیورٹی فورسز کے کیمپوں میں بھی بلایا جاتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر حکام کا عمل ان نشستوں میں کی جانے والی اچھی روایتی باتوں کے برعکس ہو تو بہتری کیسے آئے گی؟ تربت میں کراچی یونیورسٹی کے طالب علم حیات بلوچ کو ان کے والدین کے سامنے گولی مار دی گئی جبکہ طالب علموں کو لاپتہ کیا جارہا ہے۔’
ان کا کہنا تھا کہ ‘بعض نوجوان طالب علم اگر ہمت کر کے یہی سوال اٹھاتے ہیں کہ جبری گمشدگیاں اور ماورائے آئین و قانون قتل کیوں ہو رہے ہیں توان کا جواب تسلی بخش نہیں ہوتا۔ وہ ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں یا ان کا ریسپانس خاص نہیں ہوتا ہے۔‘

تعلیمی اداروں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعیناتی
کوئٹہ شہر کی سب سے بڑی جامعہ بلوچستان یونیورسٹی پہلا تعلیمی ادارہ تھا جس میں سنہ 2000 کے بعد سب سے پہلے کیمپس پیس کور کے نام سے الگ پولیس فورس تشکیل دی گئی بلکہ اس کے بعد اس فورس میں فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کی بھاری تعیناتیاں بھی کی گئی۔
واضح رہے کہ یونیورسٹی میں بڑے پیمانے پر ایف سی کی تعیناتی پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان بھی تنقید کرتا رہا ہے۔
مگر ان تعیناتیوں کی وجہ کیا تھی اور اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس سوال پر سینیئر تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی آف بلوچستان بلوچ اور پشتون قوم پرست طلبا تنظیموں کا نہ صرف گڑھ رہا بلکہ اس کا قوم پرست سیاسی تنظیموں کو قیادت فراہم کرنے میں بھی اہم کردار رہا۔
ان کے مطابق تعلیمی اداروں میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعیناتی کا مقصد طلبا تنظیموں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور ان کو محدود کرنا تھا۔
تاہم سرکاری حکام نے ان اقدامات کا مقصد تعلیمی اداروں میں تعلیم کی بہتری بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ 2000 کے بعد یونیورسٹی آف بلوچستان اور دیگر تعلیمی اداروں میں تعلیمی معیار میں بہتری آئی۔

بلوچستان میں شورش پر سرکاری و سکیورٹی حکام کا موقف کیا ہے؟
بلوچستان میں شورش کو سرکاری حکام ایک بیرونی سازش قرار دیتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد پاکستان کے ساتھ ساتھ بلوچوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز جو اقدامات کر رہی ہیں وہ قیام امن کے لیے ہیں جو کہ لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔
کراچی میں خودکش حملے کی مذمت کے لیے طلب کردہ بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے سکیورٹی فورسز کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’آج سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی وجہ سے ہم آزادی کے ساتھ گھوم پھر سکتے ہیں۔‘
‘یہاں دہشت گردی اتنی زیادہ تھی کہ ہم عید پر بھی ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے تھے۔ لیکن آج فورسز کی قربانیوں کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے دروازے بات چیت کے کھلے ہیں اس لیے وہ آئیں بات چیت کریں۔‘ انھوں نے کہا کہ ہم نے بلوچستان کے مسئلے حل کرنے ہیں اور بہت سارے مسائل حل بھی ہوئے ہیں۔ اٹھارویں آئینی ترمیم آئی۔ این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے میں تبدیلی آئی۔ ترقیاتی کام ہو رہے ہیں اور سڑکیں بن رہی ہیں۔ جو کچھ اب ہو رہا ہے وہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔’
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں جو دہشت گردی ہو رہی ہے اس سے سب سے زیادہ نقصان بلوچوں کا ہو رہا ہے کیونکہ بلوچ تعلیم سمیت ہر معاملے میں پیچھے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ کارروائیاں کر رہے ہیں انھوں نے کبھی سوچا ہے کہ وہ کر کیا رہے ہیں؟

تعلیم یافتہ بلوچ نوجوان شدت پسند تحریکوں کا حصہ کیوں بن رہے ہیں؟
بلوچستان کے دانشور اور تجزیہ کار رفیع اللہ کاکڑ نے بتایا کہ ‘یہ جو حکمت عملی ہے کہ یونیورسٹیوں میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ساتھ روابط بڑھائے جائیں۔ یہ ایک اچھا قدم ہے لیکن اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے پیچھے مفروضہ یہ ہے کہ ریاستی اداروں اور نوجوانوں میں رابطے کے خلا کا مسئلہ ہے یا یہ لوگ گمراہ ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ درست نہیں ہے کیونکہ تمام نوجوانوں کی ذہن سازی نہیں ہوئی بلکہ ان کی حقیقی شکایات کو سمجھنا ہوگا اور اس نظام میں علاقائی عدم توازن کے بڑھنے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر ان کے حقیقی مسائل کو چھوڑ کر اگر کوئی صرف سپورٹس یا اس قسم کی دوسری سرگرمیوں کے ذریعے سے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے گا تو اس سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں حقیقی شکایات ہو وہاں کاسمیٹک اقدامات اور میٹھی باتوں سے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر عامر رانا کے مطابق یہ نظریے کی جنگ تو نہیں ہے بلکہ یہ بنیادی طور پر عدم مساوات سے شروع ہوئی ہے۔
’اس کا صاف سا طریقہ یہ ہے کہ بلوچستان میں ترقی اور صاف و شفاف انتخابات ہوں۔ بلوچستان کو پاکستان کے ایک بڑے صوبے کی طرح ڈیل کیا جائے۔ جب یہ پالیسی آئے گی تو پھر ظاہر ہے چیزیں خودبخود بہتری کی طرف جائیں گی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ ٹی ٹی پی یا القاعدہ کی تحریک کی طرح شدت پسندی کی تحریک نہیں ہے کہ جس کے بیانیے کو کاﺅنٹر کرنے کی ضرورت پڑے بلکہ ریاست کے جو اقدامات ہیں اور جو رویہ ہے وہی اس کا سب سے بہترکاﺅنٹر ہے۔‘
تجزیہ کار رفیع اللہ کاکڑ اس بارے میں کہتے ہیں کہ تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں کا خودکش حملوں کا حصہ بننے کی دو وجوہات ہیں۔
‘سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ 2012 سے 2017 تک بلوچستان میں مسلح بغاوت میں ایک بڑا وقفہ آیا اور وہ کمزور ہوئی جس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی اہم قیادت باہر بیٹھی تھی۔ لیکن پچھلے تین چار سال سے قیادت یہاں موجود ہے اور لڑ رہی ہے۔ اب اس کی لیڈرشپ سرداروں اور باہر بیٹھے لوگوں کے ہاتھ سے نکل کر یہاں لڑنے والوں کے ہاتھ میں آئی ہے۔ اس لیے وہ یہاں ہیں اور وہ خطرات مول لے رہے ہیں۔’
انھوں نے کہا کہ دوسری وجہ یہ ہے کہ ‘علاقائی جغرافیے، سائز اور طاقت کا اتنا فرق ہے کہ ان کو یہ احساس ہوا ہے کہ وہ سارا وقت اس جنگ کو روایتی طریقے سے لڑ نہیں سکتے ہیں۔ اس لیے انھوں نے اے سمٹریکل وار فیئر (جنگ کی غیر روایتی حکمت عملی) یا اربن گوریلا وار فیئر کا طریقہ اپنایا ہے۔‘
ان کے خیال میں بلوچ عسکریت پسند گروہوں نے یہ طریقہ طالبان کی کتاب کے ایک صفحے سے لیا ہے جس کے تحت اب انھوں نے خود کش حملے شروع کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘بلوچستان میں شکایات نہ صرف حقیقی ہیں بلکہ یہ شدید بھی ہیں۔ جب کسی حوالے سے شدت برقرار ہو تو ایسے میں پڑھے لکھے نوجوانوں کی تشدد کی طرف جانا متوقع ہوتا ہے اور اس میں حیرت کی بات نہیں ہوتی ہے۔‘
عامر رانا کا کہنا ہے کہ پڑھے لکھے نوجوانوں میں احساس محرومی اور بے روزگاری زیادہ ہے۔ ان کا ایکسپوژر وقت کے ساتھ ساتھ بدلا ہے۔ ‘جو پڑھے لکھے اور باشعور لوگ ہوتے ہیں وہ عدم مساوات اور امتیازی سلوک کو بہت زیادہ محسوس کرتے ہیں۔‘
انھوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ جب ملک کے دوسرے حصوں میں جاتے ہیں تو وہاں وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ بلوچستان بہت پسماندہ ہے جس کی وجہ سے ان کی احساس محرومی میں اضافہ ہوتا ہے۔
پاکستان کا صوبہ بلوچستان تقریباً گذشتہ دو دہائیوں سے شورش زدہ اور بدامنی کا شکار ہے۔ دارالحکومت کوئٹہ ہو، اہم ساحلی شہر گوادر یا کوئی اور علاقہ یہاں موجود عسکریت پسند گروہوں کی کارروائیوں کا نشانہ رہا ہے۔

• محمد کاظم
• بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں