روس کی جانب سے کیف پر دباؤ بڑھانے کے ساتھ یوکرین سے مذاکرات کا آغاز

روس کی جانب سے کیف پر دباؤ بڑھانے کے ساتھ یوکرین سے مذاکرات کا آغاز

پولینڈ کی سرحد کے قریب ایک فوجی اڈے پر فضائی حملے کے بعد روس کے فوجی دستوں نے کیف کے مضافات میں لڑائی اور گولہ باری سے یوکرین کے دارالحکومت پر قبضہ کرنے کے لیے اپنی مہم جاری رکھی، گزشتہ روز کے فضائی حملے نے جنگ کو خطرناک حد تک نیٹو ملک کی سرحد کے قریب پہنچا دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے پی’ کے مطابق محصور یوکرینی شہروں کے رہائشیوں نے امید ظاہر کی ہے کہ نئے سرے سے شروع ہونے والے سفارتی مذاکرات سے زیادہ شہریوں کے انخلا یا ہنگامی رسد ان علاقوں تک پہنچنے کا راستہ کھل سکتا ہے جہاں خوراک، پانی اور ادویات کی کمی ہے۔
کیف کے مضافات میں لڑائی جاری رہنے کے بعد مشرق میں روسی سرحد کے قریب سے لے کر مغرب میں کارپیتھین پہاڑوں تک رات بھر پورے ملک کے شہروں اور قصبوں میں فضائی حملوں کے خدشات سے متعلق اعلانات سنے گئے جبکہ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روسی افواج نے دارالحکومت کے کئی مضافاتی علاقوں پر گولہ باری کی، کیف، روس کے 19 روز سے جاری حملے کا ایک بڑا سیاسی اور اسٹریٹیجک ہدف ہے۔
یوکرین کی وزارت داخلہ کے مشیر کے مطابق شہر کے ایک شمالی ضلع میں ایک نو منزلہ اپارٹمنٹ کی عمارت پر گولہ باری کے بعد دو افراد ہلاک ہو گئے، فائر فائٹرز کے ایک گروپ نے ایک سیڑھی کا استعمال کرتے ہوئے بڑی جدوجہد کے بعد ایک زخمی خاتون کو اتشزدگی کا شکار عمارت سے اسٹریچر پر نکالا۔
یوکرینی ٹیلی ویژن پر علاقائی انتظامیہ کے سربراہ نے کہا کہ کیف کے مضافاتی علاقوں ارپن، بوچا اور ہوسٹومیل پر بھی گولہ باری کی گئی، ان علاقوں میں روس کی جانب سے دارالحکومت پر قبضے کی روکی ہوئی کوششوں کے دوران بدترین لڑائی ہوئی ہے۔
یوکرینی صدر کے معاون کا کہنا تھا کہ یوکرینی اور روسی حکام کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور آج متوقع ہے جس میں دیگر مسائل کے علاوہ جنگ کی آگ کی زد میں آنے والے شہروں اور قصبوں کو خوراک، پانی، ادویات اور دیگر اشد ضروری سامان کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
محاصرہ شدہ جنوبی شہر ماریوپول کے لیے امداد یا انخلا کے لیے کیے گئے مذاکرات کے باوجود وہاں اب تک کوئی امداد نہیں پہنچ سکی جہاں جنگ نے سب سے بڑے انسانی مصائب کو جنم دیا ہے۔
یوکرینی صدر کے معاون کا ٹویٹر پر کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران ایک مشکل بحث ہوگی، اگرچہ روس کو اپنے جارحانہ اقدامات کے غلط ہونے کا احساس ہے لیکن اسے اب بھی یہ غلط فہمی ہے کہ یوکرین کے پرامن شہروں کے خلاف 19 دن کا تشدد درست حکمت عملی ہے۔
ایک پیش رفت کی امید اس وقت سامنے آئی تھی جب روسی میزائلوں نے مغربی یوکرین میں ایک فوجی تربیتی اڈے کو نشانہ بنایا جو پہلے یوکرین اور نیٹو کے درمیان تعاون کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر کام کرتا تھا۔
یوکرینی حکام کا کہنا تھا کہ روسی فضائی حملے میں 35 افراد ہلاک ہوئے اور اڈے کی پولینڈ اور نیٹو کے دیگر ممالک کی سرحدوں کے قریب حملے نے خدشات پیدا کردیے ہیں کہ مغربی فوجی اتحاد دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں سب سے بڑے زمینی تنازع کی جانب بڑھ سکتا ہے۔

‘یوم سیاہ’
رات خطاب کرتے ہوئے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اسے ایک “یوم سیاہ” قرار دیا اور نیٹو کے رہنماؤں پر دوبارہ زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک کی فضائی سرحدی حدود کو نو فلائی زون قرار دیں، یوکرین کے صدر کی درخواست ایک ایسی درخواست جس کے بارے میں مغرب نے کہا ہے کہ اس پر عمل جنگ کو جوہری تصادم کی جانب لے جا سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر آپ ہمارے فضائی سرحدووں کو بند نہیں کرتے ہیں تو بہت جلد روسی میزائل نیٹو ممالک کے شہریوں کی سرزمین پر بھی گریں گے۔
ولادیمیر زیلینسکی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے براہ راست ملاقات کرنے کی درخواست بھی کی جبکہ اس درخواست کا کریملن نے کوئی جواب نہیں دیا۔
شمالی شہر چرنی ہیو پر رات بھر کے دوران تین فضائی حملے ہوئے اور زیادہ تر قصبہ گرمی پیدا کرنے والے نظام سے محروم ہے جبکہ کئی علاقوں میں کئی دنوں سے بجلی بھی نہیں ہے، عملہ بجلی بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اکثر گولہ باری کی زد میں آتاجاتا ہے۔
حکومت نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور انخلاء کی راہداریوں کے نئے منصوبوں کا اعلان کیا جبکہ جاری گولہ باری کے باعث گزشتہ ہفتے اسی طرح کی کوششیں ناکام ہو گئی تھیں۔
یوکرین کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کا کہنا تھا کہ روس کے متعدد محاذوں پر سخت حملوں کے باوجود ماسکو کے فوجیوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کوئی بڑی پیش رفت نہیں کی جبکہ روسی وزارت دفاع نے ایک مختلف بیان دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران اس کی افواج 11 کلومیٹر آگے بڑھی ہیں اور ماریوپول کے شمال میں پانچ قصبوں تک پہنچ گئی ہیں۔
وزارت دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ روسی افواج نے رات بھر کے دوران یوکرین کے چار ڈرون مار گرائے جن میں ایک بیریکٹر ڈرون بھی شامل ہے، یوکرین کے بیریکٹر ڈرون نیٹو کے رکن ترکی کا تیار کردہ ہے، نیٹو ڈرونز روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ان الزامات کی علامت بن گئے ہیں کہ امریکا اور اس کے اتحادی روس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن اپنے قومی سلامتی کے مشیر کو ایک چینی عہدیدار سے ملاقات کے لیے روم بھیج رہے ہیں اس خدشے پر کہ بیجنگ روس کی غلط معلومات پر یقین کر رہا ہے اور ماسکو کو مغربی اقتصادی پابندیوں سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اقوام متحدہ نے 24 فروری کو روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے کم از کم 596 شہری ہلاکتیں ریکارڈ کی ہیں جبکہ اس کا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، یوکرین کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں کم از کم 85 بچے بھی شامل ہیں جبکہ لاکھوں لوگ اپنے گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں