تراویح کے فضائل و احکام

تراویح کے فضائل و احکام

تراویح کی فضیلت اور اس کی شرعی حیثیت
۱: رمضان المبارک میں تراویح کی بڑی ہی فضیلت ہے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سنت قرار دیا ہے، اس لیے حضرات فقہا فرماتے ہیں کہ ہر عاقل بالغ مرد اور عورت کے ذمے تراویح سنت مؤکدہ ہے۔ (سنن نسائی حدیث: ۲۲۱۰، فیض القدیر حدیث: ۱۶۶۰، اعلاء السنن، ردالمحتار مع درالمختار)
تنبیہ: اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح مردوں کے لیے تراویح پڑھنے کا اہتمام ضروری ہے اسی طرح خواتین کے لیے بھی تراویح کا اہتمام ضروری ہے، بعض خواتین تراویح کو اہمیت نہیں دیتیں بلکہ اس کو ترک کرنے کے لیے معمولی بہانوں کا بھی سہارا لیتی ہیں، ان کا یہ طرز عمل ہرگز درست نہیں۔
۲: تراویح چوں کے سنت مؤکدہ ہے، اس لیے بلاعذر تراویح چھوڑتے رہنا گناہ ہے۔ (ردالمحتار، امداد الفتاویٰ)

تراویح کا وقت
۱: یکم رمضان المبارک کی رات سے تراویح کا وقت شروع ہوجاتا ہے اور رمضان کے آخر تک رہتا ہے، یعنی رمضان کی ہر رات تراویح پڑھنا سنت مؤکدہ ہے۔
۲: تراویح کا وقت عشاء کی فرض نماز کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور فجر تک رہتا ہے، فجر کا وقت داخل ہوتے ہی تراویح کی نماز کا وقت ختم ہوجاتا ہے، اس لیے اگر کسی شخص نے فجر سے پہلے تراویح نہیں پڑحی تو فجر کے بعد اس کی قضا نہیں، البتہ بلاعذر تراویح ترک کرنے پر استغفار کرنا چاہیے۔
۳: اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص ڈیوٹی یا کسی عذر کی وجہ سے عشا کی نماز کے ساتھ تراویح ادا نہ کرسکے تو اسے چاہیے کہ صبح صادق تک جب بھی موقع ملے تو تراویح ادا کرنے کی کوشش کرے اور پوری رات میں اس قدر وقت نکال لے کہ جس میں تراویح ادا کی جاسکتی ہو۔
۴: جس شخص سے تراویح کی دو یا زیادہ رکعات چلی جائیں تو اگر وتر سے پہلے ان کو ادا کرنے کا موقع مل رہا ہو تو وتر سے پہلے ہی ادا کرلے ورنہ تو وتر کے بعد فجر سے پہلے پہلے کسی بھی وقت ادا کرلے۔ (ردالمحتار، فتاویٰ بزازیہ، الاختیار، فتح القدیر، فتاویٰ قاضی خان، بدائع الصنائع، فتاوی محمودیہ)
۵: تراویح کے بعد معلوم ہوا کہ عشاء کی نماز فاسد ہوچکی ہے تو ایسی صورت میں عشا کی نماز کے ساتھ ساتھ تراویح بھی دوبارہ ادا کرنی ہوگی۔ (الحلبی الکبیر، فتاویٰ محمودیہ)

تراویح کی رکعات اور ان کے احکام
۱: تراویح بیس رکعات ہی سنت ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس رکعات تراویح ادا فرمائی ہیں، جیسا کہ ”مصنف ابن ابی شیبہ“ میں یہ حدیث شریف موجود ہے کہ:
۷۷۷۴: حدثنا یزید بن ھارون، قال: أخبرنا ابراھیم بن عثمان، عن الحَکَمِ، عن مِقسَم، عن ابن عباس: أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یصلی فی رمضان عشرین رکعۃ و الوتر۔
بیس رکعات تراویح حضرات صحابہ کرام سے بھی ثابت ہے اور یہی چاروں ائمہ کرام اور جمہور امت کا مذہب ہے، اس سے معلوم ہوا کہ تراویح آٹھ رکعات نہیں ہے اور نا ہی اس کا کوئی ٹھوس ثبوت ہے، بلکہ بیس رکعات سے کم تراویح پڑھنا سنت ہی نہیں، اس لیے آٹھ رکعات تراویح پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ (اعلاء السنن، ردالمحتار مع در مختار، فتاویٰ محمودیہ)
۲: تراویح دو دو رکعات پڑھنا سنت ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ دو دو رکعات کرکے تراویح ادا کی جائیں، البتہ اگر کوئی شخص ایک ساتھ چار رکعات تراویح ادا کرلے تب بھی جائز ہے۔ (بدائع الصنائع، تبیین الحقائق)

تراویح میں چار رکعات کے بعد وقفہ کرنے کا حکم
۱: ہر چار رکعات تراویح کے بعد وقفہ کرنا مستحب ہے کہ اتنی مقدار وقفہ کیا جائے جتنی دیر میں یہ چار رکعات ادا کی ہیں، البتہ اگر مقتدی حضرات کی تنگدلی کی وجہ سے تھوڑی دیر وقفہ کرلیا جائے تب بھی جائز ہے، اور اگر کوئی بالکل وقفہ ہی نہ کرے تب بھی کوئی حرج نہیں۔
۲: اس وقفے میں شریعت نے کوئی خاص عمل سنت یا لازم قرار نہیں دیا، بلکہ ہر ایک کو اختیار ہے: چاہے تو ذکر کرے، دعا کرے، استغفار کرے، درود شریف پڑھے یا ویسے ہی خاموش رہے؛ یہ سب جائز ہے، اور بعض اہل علم نے اس دعا کا بھی ذکر فرمایا ہے:
”سبحان ذی الملک و الملکوت، سبحان ذی العزۃ و العظمۃ و القدرۃ و الکبریاء و الجبروت، سبحان الملک الحی الذی لایموت، سبوح قدوس رب الملائکۃ و الروح، لاالہ الا اللہ نستغفر اللہ، نسألک الجنۃ و نعوذبک من النار۔“
البتہ یہ یا د رہے کہ یہ دعا قرآن و سنت سے ثابت نہیں، اس لیے اس کو سنت قرار دینا مشکل ہے، البتہ اگر کوئی پڑھنا چاہے تو درست ہے۔ (بدائع، ردالمحتار، تحفہ رمضان، تراویح کے فضائل و احکام از مفتی محمد رضوان صاحب)

تروایح کے لیے نیت کا حکم
تراویح کی نماز کے لیے نیت کرنا فرض ہے، نیت کے بغیر تراویح درست نہیں ہوتی، البتہ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ نیت در حقیقت دل کے ارادے اور عزم کا نام ہے، اس لیے دل میں نیت کرلینا کافی ہے، زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا ضروری نہیں البتہ اگر کوئی شخص زبان سے بھی نیت کرلے تب بھی درست ہے، اس صورت میں صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ میں دو رکعات تراویح کی نماز ادا کرتا ہوں۔ اور اگر امام کی اقتدا میں ہو تو یوں نیت کرے کہ میں امام کے پیچھے دو رکعات تراویح کی نماز ادا کرتا ہوں۔ (بدائع الصنائع، ردالمحتار)

تراویح بیٹھ کر ادا کرنے کا حکم
تراویح کی نماز میں قیام فرض نہیں، اس لیے بیٹھ کر بھی ادا کرنا جائز ہے، البتہ کسی مجبوری کے بغیر بیٹھ کر تراویح ادا کرنے سے آدھا ثواب ملتا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تراویح ترک کرنے سے بہتر یہ ہے کہ اسے بیٹھ کر ادا کرلیا جائے۔ (فتاویٰ عالمگیری، ردالمحتار)

تراویح میں قرآن کریم کی تلاوت اور ذکر کر کے احکام
۱: تراویح کی پہلی رکعات میں سورت فاتحہ سے پہلے ثنا، پھر تعوذ اور پھر بسم اللہ پڑھنا سنت ہے جبکہ دوسری رکعت میں سورت فاتحہ سے پہلے صرف ”بسم اللہ“ پڑھنا سنت ہے، البتہ مقتدی کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ پہلی رکعت میں صرف ثنا پڑھے گا، جبکہ دوسری رکعت میں کچھ بھی نہیں پڑھے گا۔ (ردالمحتار)
۲: امام کے لیے تراویح پڑھاتے ہوئے پورے قرآن کریم میں صرف ایک بار کسی بھی سورت کے شروع میں بلند آواز سے بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے، اس لیے کہ یہ بھی قرآن کریم کی ایک آیت ہے، کیوں کہ اگر امام نے ایک بار بھی بلند آواز سے بسم اللہ نہیں پڑھی تو مقتدی حضرات کے ختم قرآن میں ایک آیت کی کمی رہ جائے گی، البتہ ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ پڑھنے کا حکم نہیں، نہ بلند آواز سے اور نہ آہستہ آواز سے، البتہ اگر کوئی پڑھنا چاہے تو وہ آواز سے نہ پڑھے بلکہ آہستہ پڑھ لیا کرے۔ (ردالمحتار، فتاویٰ محمودیہ، تراویح کے فضائل و احکام)
۳: با جماعت تراویح میں امام کے لیے جہراً یعنی بآواز بلند قرأت کرنا واجب ہے۔ (ردالمحتار)
۴: سورۃ الفاتحہ کے بعد سورت ملانا واجب ہے جس کی کم از کم مقدار تین چھوٹی آیات یا اتنی ہی مقدار میں ایک یا دو آیات ہے، اہل علم نے تین چھوٹی آیات کی مقدار تیس حروف بیان فرمائی ہے، اس سے کم تلاوت کرنے سے واجب ادا نہیں ہوتا، اس لیے چاہے ایک آیت پڑھی جائے یا دو؛ ان کی مقدار تیس حروف کے برابر ہونا ضروری ہے، اگر کسی نے بھول کر اس سے کم پڑھا تو سجدہ سہو سے نماز ادا ہوجائے گی لیکن اگر جان بوجھ کر ایسا کیا تو اس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری، ردالمحتار)
۵: فرض نماز میں تو دھیمی رفتار ہی سے تلاوت کرنا بہتر ہے، جبکہ تراویح میں درمیانی رفتار سے پڑھنا مناسب ہے، البتہ کچھ تیز پڑھنا بھی جائز ہے، لیکن بہر صورت یہ لحاظ رہے کہ قرآن کریم تجوید کے موافق ہی تلاوت کیا جائے، اس لیے اس قدر تیز رفتاری سے پڑھنا کہ تجوید کے ضروری امور متاثر ہوں، قرآن کریم سمجھ نہ آئے، یا حروف و حرکات کٹتے چلے جائیں یا واضح نہ ہوں اور مقتدی حضرات کو ”یعملون تعلمون“ کے سوا کچھ سمجھ نہ آئے؛ یہ سب صورتیں ممنوع ہیں، ان سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ مقصد تو اللہ ہی کی رضا حاصل کرنی ہے، اور اللہ کی رضا اسی میں ہے کہ اخلاص کے ساتھ تجوید کے موافق قرآن کریم کی تلاوت کی جائے۔ (تفسیر مدارک سورۃ المزمل، درمختار، تراویح کے فضائل و احکام)
۶: تراویح میں ختم قرآن کے دوران اگر کوئی آیت چھوٹ جائے تو اسے بعد کی کسی تراویح میں پڑھ لی جائے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے یہ چھوٹ جانے والی آیت پڑھی جائے پھر معمول کے مطابق تلاوت جاری رکھی جائے، لیکن اگر ختم قرآن ہوجانے کے بعد یاد آجائے تو ایسی صورت میں ختم قرآن کے بعد کسی بھی تراویح میں وہ آیت پڑھ لی جائے، اس طرح بھی ختم مکمل شمار ہوگا ان شاء اللہ۔
۷: ایک شخص جماعت کے وقت بیٹھا رہتا ہے اور جب امام رکوع میں جانے لگتا ہے تو وہ جلدی سے نماز میں شامل ہوجاتا ہے تو واضح رہے کہ اس کا یہ عمل مکروہ ہے اور ایسا شخص ختم قرآن کی دولت سے محروم ہے، کیوں کہ تراویح میں قرآن کریم ختم کرنے کا مطلب یہی ہے کہ قرآن کریم کو تراویح ہی میں پڑھا یا سنا جائے، اس لیے ایسے شخص کا یہ طرز عمل انتہائی نامناسب ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر کسی کو عذر ہو تو وہ بیٹھ کر تراویح پڑھ لے تا کہ ختم قرآن کی سنت اور ثواب سے محرومی نہ ہو۔ اور ویسے تو تراویح بلاعذر بھی بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے لیکن اس سے آدھا ثواب ملتا ہے۔ (الحلبی الکبیر، فتاویٰ محمودیہ)

تراویح میں ختم قرآن کے احکام
۱: تراویح میں کم از کم ایک بار قرآن کریم ختم کرنا سنت ہے، ایک سے زائد بار جتنی مرتبہ ختم قرآن کی توفیق ہوجائے تو بڑی فضیلت کی بات ہے۔ (الاختیار، حاشیۃ الطحاوی علی المراقی، ردالمحتار، فتاویٰ محمودیہ، فتاویٰ قاضی خان)
۲: تراویح میں قرآن کریم ختم ہوجانے کے بعد دوبارہ سے شروع کرکے سورۃ البقرۃ کی ابتدائی آیات پڑھنا درست ہے اور یہ متعدد حضرات اکابر اہل علم کا معمول بھی رہا ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت ایسا عمل ہے کہ ایک بار قرآن ختم ہوجانے کے بعد دوبارہ شروع کرنا چاہیے کیوں کہ اس کی تلاوت سدا جاری رہنی چاہیے، گویا اس سے اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ہم نے قرآن کریم ختم کرکے دوبارہ شروع کرلیا ہے اور یہی قرآن کی عظمت کا تقاضا ہے، البتہ اس کو ضروری قرار دینا درست نہیں، اگر کوئی شخص یہ ابتدائی آیات نہ پڑھے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور ایسا شخص ہرگز قابل ملامت نہیں۔ (فتاوی محمودیہ)
۳: ختم قرآن کے موقع پر پانی و غیرہ پر دم کرنا جائز ہے، البتہ اس کو ضروری نہ سمجھا جائے، اور مسجد کے آداب کا بھی خیال رکھا جائے۔ (ردالمحتار)
۴: ختم قرآن کے موقع پر دعائیں قبول ہوتی ہیں، اس لیے دعاؤں کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ (المعجم الکبیر حدیث: ۶۴۷)
۵: ختم قرآن کے موقع پر دلی خوشی کے ساتھ شرعی حدود کا خیال رکھتے ہوئے مٹھائی تقسیم کرنا جائز ہے، البتہ اس کو سنت یا ضروری نہ سمجھا جائے، اس کے لیے زبردستی چندہ نہ کیا جائے، اور مسجد کے آداب کا خصوصی خیال رکھا جائے، بصورت دیگر اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
مسئلہ: تراویح کی جو رکعات فاسد ہوجائیں تو اس میں پڑھا گیا قرآن دوبارہ دہرایا جائے گا۔ (فتاویٰ قاضی خان، فتاویٰ محمودیہ)

تراویح کی جماعت کا حکم
۱: حضرات فقہاء کرام کے اقوال کی روشنی میں راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ تراویح کی جماعت سنت علی الکفایۃ ہے۔ (درمختار مع رد المحتار، البحر الرائق)
۲: اگر مسجد میں تراویح کی جماعت ہوتی ہو تو ایسی صورت میں مسجد کے علاوہ کسی گھر یا دفتر و غیرہ میں باجماعت تراویح پڑھنا بھی جائز ہے البتہ اس میں مسجد کے ثواب سے محرومی رہے گی۔ (فتاویٰ عالمگیری)
۳: مردوں کے لیے سب سے بہترین صورت یہ ہے کہ وہ مسجد میں باجماعت تراویح ادا کریں جس میں ختم قرآن کا اہتمام بھی ہو، ان تین باتوں میں سے جس میں بھی کمی آئے گی تو اس کی وجہ سے فضیلت میں بھی کمی آئے گی۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے گھر میں اکیلے مختصر تراویح پڑھنا جائز تو ہے لیکن اس میں مسجد، جماعت اور ختم قرآن تینوں کے ثواب سے محرومی ہے، اس لیے بلاعذر گھر میں اکیلے مختصر تراویح پڑھنا بہتر نہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ رمضان کا مہینہ تو ہوتا ہی عبادات کے لیے ہے، اس میں تو بڑھ چڑھ کر ثواب کے کام کرنے چاہیے، بلکہ مشقت برداشت کرکے عبادت کرنے کا ثواب تو اور بھی زیادہ ہے، تو نیکیوں کے ایسے پر بہار موسم میں بھی کوئی محروم رہ جائے تو کتنی نقصان والی بات ہے!
۴:خواتین کے لیے تراویح پڑھنے کی غرض سے مسجد جانا درست نہیں، بلکہ ان کے لیے گھر ہی میں تراویح ادا کرنا افضل ہے۔

تراویح میں امامت اور اقتدا کے احکام


تراویح کے لیے امامت کے احکام و آداب:
۱: امام ظاہری طور پر شریعت کے مطابق ہو اور کسی کبیرہ گناہ میں مبتلا نہ ہو۔ اگر کوئی شخص کبیرہ گناہ میں مبتلا ہو تو جب تک وہ توبہ نہ کرلے اسے امام نہیں بنانا چاہیے۔
مسئلہ: اسی طرح اگر کوئی شخص ڈاڑھی ایک مشت سے کم کرتا ہو تو اس کو امام بنانا ناجائز ہے، اور اگر کوئی حافظ صاحب رمضان سے پہلے ڈاڑھی ایک مشت سے کم کرنے سے توبہ کرلے تو بھی جب تک ایک مشت ڈاڑھی پوری نہ ہوجائے اس کو امام بنانا مکروہ ہے۔
۲: امام صحیح العقیدہ ہو، جس امام کا عقیدہ اہل السنۃ و الجماعۃ کے خلاف ہو تو اسے امام نہ بنایا جائے۔
۳: امام بالغ ہو، کیوں کہ نابالغ کی اقتدا میں بالغ حضرات کی نماز جائز نہیں۔
۴: ایسے حافظ صاحب کو تراویح میں ختم قرآن کے لیے امام نہیں بنانا چاہیے جن کو قرآن کریم ٹھیک طرح یاد نہ ہو یا جو قرآن ٹھیک طرح نہ پڑھتا ہو۔
۵: ایسے حافظ صاحب کو امام نہیں بنانا چاہیے جس کو نماز و غیرہ کے ضروری مسائل بھی معلوم نہ ہوں، اس سے معلوم ہوا کہ ہر حافظ صاحب کو چاہیے کہ وہ ایسے ضروری مسائل کا علم حاصل کرلے۔
۶: جو امام کسی عذر کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے تو وہ بھی تراویح پڑھا سکتا ہے۔
۷: اگر حافظ صاحب کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر تراویح پڑھائے تو یہ بھی جائز ہے۔ (فتاویٰ قاضی خان، تنویر الابصار، البحرالرائق، عالمگیری، فتاویٰ محمودیہ)

سامع مقرر کرنے اور لقمہ دینے کے احکام
۱: تراویح میں سامع مقرر کرنا ضروری نہیں، اس لیے اگر کسی نے سامع مقرر نہیں کیا تو اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ مناسب یہ ہے کہ سامع مقرر کرلیا جائے کیوں کہ اس میں بڑی سہولت رہتی ہے۔
۲: سامع کے لیے بالغ ہونا ضروری نہیں بلکہ نابالغ لڑکا بھی سامع بن سکتا ہے۔ (حاشیۃ الطحاوی علی المراقی)
۳: سامع کو اجرت دینے کا وہی حکم ہے جو کہ تراویح پڑھانے والے کا ہے۔
۴: سامع کو چاہیے کہ وہ فورا لقمہ نہ دے، بلکہ ذرا انتظار کرلے کہ امام خود ہی ٹھیک کرلے لیکن اگر امام کو آیت یاد نہیں آرہی ہو تو پھر لقمہ دے دے، البتہ یہ یاد رہے کہ لقمہ دینے والے کا اسی جماعت میں شامل ہونا ضروری ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر ایسے شخص نے لقمہ دیا جو اس جماعت میں شامل نہ تھا اور امام نے لے لیا تو ایسی صورت میں سب کی نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ (ردالمحتار)
۵: لقمہ اس قدر آواز سے دیا جائے کہ امام بآسانی سن سکے۔
۶: اگر امام نے سامع کا لقمہ نہیں لیا تو اس سے سامع کی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
۷: تراویح کے دوران قرآن کو دیکھ کر لقمہ دینا جائز نہیں کیوں کہ اس سے سب کی نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ (ردالمحتار)
۸: انتظامی تقاضا یہ ہے کہ تراویح میں سماعت کے لیے جو حافظ صاحب مقرر ہو صرف وہی لقمہ دے لیکن اگر اس کے علاوہ اس جماعت میں شامل کسی اور نے لقمہ دے دیا تو اس سے کسی کی نماز پر بھی اثر نہیں پڑتا۔ (تراویح کے فضائل و احکام)

تراویح پر اجرت لینے کا حکم
۱: تراویح پڑھانے کی اجرت لینا ناجائز اور گناہ ہے، ایسے حضرات جو تراویح پڑھانے پر اجرت کا مطالبہ کرتے ہیں ان کو تراویح پڑھانے کا ہرگز موقع نہ دیا جائے۔
۲: تراویح پڑھانے کی اجرت اگر طے نہ کی جائے لیکن وہاں کا عمومی رواج ایسا ہو کہ تراویح پڑھانے پر اجرت دینی پڑتی ہو تو یہ بھی جائز نہیں۔
۳: اگر کہیں تراویح کی اجرت طے نہ ہو اور وہاں اجرت دینے کا رواج بھی نہ ہو حتی کہ تراویح پڑھانے والے کے دل میں اجرت لینے کی نیت بھی نہ ہو، ایسے میں اگر کوئی شخص تراویح پڑھانے والے کو اپنی خوشی سے رقم یا کوئی چیز ہدیہ کردے اور اس کو تراویح کے عوض نہ سمجھے تو یہ لینا جائز ہے، البتہ ایسی صورتحال بہت ہی کم ہے۔ (فتاویٰ عثمانی)

تراویح میں سجدہ تلاوت کے احکام
۱: قرآن کریم میں ۴۱ سجدے ہیں، اور سجدہ تلاوت کا حکم یہ ہے کہ اسے ادا کرنا واجب ہے۔
۲: جس شخص نے تراویح میں سجدہ تلاوت کی آیت تلاوت کی اور تین آیات تک سجدہ تلاوت نہ کیا تو اس کو چاہیے کہ سلام سے پہلے پہلے جب بھی یاد آئے یا موقع ملے تو سجدہ تلاوت کرکے آخر میں سجدہ سہو کرلے، لیکن اگر نماز میں کسی بھی موقع پر سجدہ تلاوت ادا نہ کیا تو نماز کے بعد اب اس سجدہ تلاوت کا موقع نہیں رہا، اب سوائے استغفار کے اور کوئی صورت نہیں۔
۳: تراویح میں سجدہ تلاوت کی آیت پڑھنے کے بعد بہتر تو یہی ہے کہ اس کے لیے مستقل سجدہ کیا جائے البتہ اگر کوئی شخص مستقل سجدہ نہ کرنا چاہے تو اس کے لیے سجدہ تلاوت کی آیت پڑھنے کے بعد تین آیات تک یہ اختیار ہے کہ وہ یا تو رکوع میں چلا جائے اور اسی میں سجدہ تلاوت کی نیت کرلے تو اس سے بھی سجدہ تلاوت ادا ہوجائے گا لیکن اگر اس نے رکوع میں نیت نہیں کی تو رکوع کے بعد جو نماز کا سجدہ آرہا ہے اس میں تو نیت کے بغیر بھی سجدہ تلاوت خود بخود ادا ہوجائے گا، البتہ امام کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ رکوع میں نیت نہ کرے تا کہ نماز کے سجدے میں امام اور مقتدی سب کا سجدہ تلاوت ایک ساتھ ادا ہوجائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ مذکورہ بالا اختیار اس صورت میں ہے کہ جب اس نے سجدہ تلاوت کی آیت پڑھنے کے بعد تین آیات سے زیادہ تلاوت نہ کی ہو، لیکن اگر تین آیات سے زیادہ پڑھ لی تو ایسی صورت میں یہ سجدہ تلاوت رکوع اور نماز کے سجدے سے ادا نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے مستقل سجدہ کرنا پڑے گا، جیسا کہ مسئلہ نمبر ۱ میں بیان ہوا۔
اس سے معلوم ہوا کہ جو امام کسی وجہ سے سجدہ تلاوت کا اعلان نہ کرسکے تو اس کے لیے اس مسئلے پر عمل کرنے میں بڑی سہولت ہے۔
۴: امام نے تراویح میں سجدہ تلاوت کی آیت پڑھ کر سجدہ کیا پھر جب قیام کے لیے لوٹ آیا تو وہی سجدے کی آیت دوبارہ پڑھ لی تو اس کے لیے وہ پہلا سجدہ کافی ہے، دوبارہ سجدہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
۵: اگر امام نے سجدہ تلاوت کرنے کے بعد کچھ پڑھے بغیر ہی رکوع کر لیا تب بھی نماز درست ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ کچھ تلاوت کرلی جائے۔
۶: اگر امام نے سجدہ تلاوت ادا کرنے کے بعد دوبارہ سورتِ فاتحہ پڑھ لیا تو اس سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا۔ (ردالمحتار، فتاویٰ عالمگیری، نماز تراویح کے فضائل و احکام)

تراویح میں کی جانے والی غلطیوں اور کوتاہیوں کا حکم


تراویح کی پہلی رکعت میں بیٹھ جانے کا حکم
اگر کوئی شخص پہلی رکعت میں بیٹھ جائے تو محض بیٹھنے سے تو کچھ بھی نہیں ہوتا بلکہ اگر وہ تین بار ”سبحان ربی الاعلی“ جتنی مقدار بیٹھا ہو تو اس پر سجدہ سہو واجب ہوجاتا ہے لیکن اگر اس سے کم ہو تو واجب نہیں ہوتا۔ (ردالمحتار، حاشیۃ الطحاوی علی المراقی)

آیت بھول جانے پر خاموش رہنے کا حکم
اگر تراویح میں آیت بھول جائے اور اس کو یاد کرنے کے لیے اتنی دیر خاموش رہے کہ اس میں تین بار ”سبحان ربی الاعلی“ پڑھا جاسکتا ہو تو اس سے سجدہ سہو واجب ہوجاتا ہے۔ (ردالمحتار، حاشیۃ الطحاوی علی المراقی، نماز تراویح کے فضائل و احکام)

تراویح کی رکعات میں شک کا حکم
۱: اگر تراویح کی رکعات میں شک ہوجائے کہ مقتدی حضرات میں سے بعض کہتے ہوں کہ بیس ہوچکی ہیں جبکہ بعض کہتے ہوں کہ اٹھارہ ہوگئیں تو ایسی صورت میں امام کا رجحان جس طرف ہو تو اسی پر عمل کیا جائے گا۔
۲: اگر تمام مقتدی کہتے ہوں کہ اٹھارہ ہوگئی ہیں جبکہ امام کو یقین ہو کہ بیس ہوگئی ہیں تو امام کی بات پر عمل کیا جائے گا۔
۳: اگر سبھی کو شک ہو کہ بیس ہوئیں یا اٹھارہ تو ایسی صورت میں دو رکعات تراویح کی نیت سے بغیر جماعت کے ادا کی جائیں گی۔ (فتاویٰ قاضی خان، نماز تراویح کے فضائل و احکام، فتاویٰ محمودیہ)

تراویح میں تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوجانے کا حکم
اگر کوئی امام دو رکعات ادا کر کے تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوجائے تو اس کی دو صورتیں ہیں:
۱: امام دوسری رکعات میں تشہد پڑھنے کے بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوجائے تو ایسی صورت میں واپس لوٹنے کی ضرورت نہیں بلکہ دو رکعات مزید ادا کرلے، اس طرح چار رکعات تراویح ادا ہوجائیں گی۔
۲: اگر امام دوسری رکعت میں بیٹھے بلکہ کھڑا ہی ہوجائے تو اس کو چاہیے کہ تیسری رکعت کا سجدہ کرنے سے پہلے پہلے قعدے کی طرف لوٹ آئے اور آخر میں سجدہ سہو کرلے تو نماز درست ہے، لیکن اگر اس نے تیسری رکعت کا سجدہ بھی کرلیا تو اب اس کو چاہیے کہ اس کے ساتھ ایک اور رکعت بھی ملا لے تا کہ چار رکعت ہوجائیں، اس صورت میں پہلی دو رکعات تو باطل ہوجائیں گی اور آخری دو رکعات درست شمار ہوں گی، جس کی وجہ سے پہلی دو رکعات دوبارہ ادا کرنی ہوں گی اور اس میں جو قرآن کریم پڑھا ہے وہ بھی دوبارہ دہرانا ہوگا، البتہ اگر پہلی دو رکعات میں قرآن کریم کافی زیادہ مقدار میں پڑھا ہو جس کے دہرانے سے لوگوں میں انتشار کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ قرآن کریم دوبارہ نہ دہرانے کی بھی گنجائش ہے۔ (ردالمحتار، فتاویٰ قاضی خان، البحر الرائق، بدائع الصنائع، نماز تراویح کے فضائل و احکام)

اطمینان سے نماز نہ پڑھنے کا حکم
رکوع کے بعد سیدھا کھڑے ہونے کو قومہ کہا جاتا ہے، اسی طرح دو سجدوں کے درمیان میں بیٹھنے کو جلسہ کہا جاتا ہے، یہ دونوں واجب ہیں اور ان کو اس قدر اطمینان سے ادا کرنا بھی واجب ہے کہ جسم کے اعضا اپنی جگہ پرسکون ہوجائیں، جس کی مقدار ایک تسبیح (یعنی سبحان ربی الاعلی) کے برابر ہے، اس لیے قیام، رکوع، قومہ، سجدہ، جلسہ و غیرہ خوب اطمینان سے اچھی طرح ادا کرنے چاہیے، ان میں جلدی ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔ بعض لوگ رکوع میں جاتے ہی فورا اٹھ کھڑے ہوجاتے ہیں، یا رکوع سے اٹھتے ہی سجدے میں چلے جاتے ہیں اور اطمینان سے قومہ نہیں کرتے، یا پہلے سجدے سے سر اٹھاتے ہی دوسرے سجدے میں چلے جاتے ہیں اور اطمینان سے جلسہ نہیں کرتے؛ تو یاد رہے کہ یہ گناہ ہے اور ایسے لوگوں کے ذمہ یہ نماز دربارہ ادا کرنا واجب ہے۔ (ردالمحتار)

سجدہ سہو کا حکم اور طریقہ
۱: سجدہ سہو کا طریقہ یہ ہے کہ آخری قعدے میں تشہد پڑھنے کے بعد پہلے دائیں طرف ایک سلام پھیرا جائے، پھر اس کے بعد دو سجدے کیے جائیں، پھر التحیات سے شروع کرکے آخر تک پڑھ کر سلام پھیرا جائے۔
۲: اگر کسی نے درود شریف یا دعا پڑھنے کے بعد سجدہ سہو کیا تب بھی درست ہے۔ اور اگر کسی نے دائیں طرف سلام پھیرے بغیر ہی سجدہ سہو کرلیا تب بھی سجدہ سہو ادا ہوجائے گا البتہ جان بوجھ کر ایسا کرنا اچھا نہیں ہے۔
۳: نماز میں ایسی غلطی ہوجائے جس سے سجدہ سہو واجب ہوجاتا ہو تو ایسی صورت میں سجدہ سہو کرنا واجب ہے، اگر سجدہ سہو ادا نہ کیا تو نماز واجب الاعادہ ہوگی یعنی دوبارہ پڑھنی واجب ہوگی۔ (ردالمحتار)
مسئلہ: اگر مقتدی نے تشہد پورا نہیں کیا تھا کہ امام نے سلام پھیر لیا تو ایسی صورت میں مقتدی کو چاہیے کہ وہ تشہد پڑھ کر سلام پھیر دے۔ اور اگر تشہد پورا کرنے کے بعد امام سلام پھیر لے تو مقتدی بھی سلام پھیر دے۔ (فتاویٰ عالمگیری)

وتر کے احکام:
۱: رمضان المبارک میں وتر کی جماعت افضل اور مستحب ہے، جس کا طریقہ وہی ہے جو عام دنوں میں وتر کی نماز کا ہے، باجماعت وتر میں امام تیسری رکعت میں جب دعائے قنوت کے لیے تکبیر کہنے کے بعد خاموش رہے گا، اس دوران امام اور مقتدی سب دعائے قنوت پڑھیں گے۔
۲: اگر امام وتر میں دعائے قنوت بھول جائے اور رکوع میں چلا جائے تو ایسی صورت میں اسے واپس آنے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ آخر میں سجدہ سہو کرلے تب بھی درست ہے۔ (ردالمحتار)

تراویح کے بعد دعا کا شرعی حکم
بیس رکعات تراویح مکمل ہوجانے کے بعد بھی دعا کرنا جائز بلکہ بعض کے نزدیک مستحب ہے کیوں کہ بیس رکعات پورے ہونے پر قرآن کریم کے ایک مقررہ حصے کی تلاوت پوری ہوجاتی ہے اور تلاوت کے بعد کی گھڑی قبولیت کی گھڑی ہوتی ہے، اس لیے دعا کرنا بہتر ہے، البتہ اس کو بھی شرعی حدود میں رکھنا چاہیے، اس کو ضروری سمجھنا اور دعا نہ کرنے والے کو ملامت کرنا ہرگز درست نہیں۔ (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، امداد الاحکام، نماز کے بعد ذکر اور دعا کے فضائل و احکام)

اشاعت: رسالہ تحفہ ماہ رمضان المبارک از مبین الرحمن
فاضل جامعہ دارالعلوم کراچی- متخصص جامعہ اسلامیہ طیبہ کراچی


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں