روزہ کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے اور کن چیزوں سے نہیں ٹوٹتا؟

روزہ کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے اور کن چیزوں سے نہیں ٹوٹتا؟

۱: کُلّی کرنے، نہانے، خوشبو سونگھنے، تیل یا سرمہ لگانے، انجکشن یا ڈرپ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
(امداد الفتاویٰ، ردالمحتار علی الدر المختار، ماہ رمضان کے فضائل و احکام، فتاویٰ رحیمیہ، مراقی الفلاح مع نور الایضاح)
۲: روزے کی حالت میں آنکھ یا کان میں دوا یا پانی و غیرہ ڈالنے یا خود بخود چلے جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، البتہ اگر کسی شخص کے کان کے پردے میں سوراخ ہو اور اس میں دوا و غیرہ ڈالنے یا خود بخود چلے جانے کی صورت میں وہ حلق سے اتر جائے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔ (ماہ رمضان کے فضائل و احکام از مفتی محمد رضوان صاحب)
۳: ناک میں دوا و غیرہ ڈالنے سے روزہ اس وقت ٹوٹتا ہے جب وہ حلق سے نیچے اترجائے، اس لیے روزے کی حالت میں ناک میں دوا ڈالنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیوں کہ اس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ دوا حلق سے اتر جائے۔ (ماہ رمضان کے فضائل و احکام)
۴: روزے کی حالت میں قے (اُلٹی) کرنے کا حکم: (۱لف) روزے کی حالت میں اگر اپنے اختیار سے الٹی کی تو اس صورت میں اگر وہ الٹی منہ بھر کر ہو تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اس سے کم ہو تو نہیں ٹوٹتا۔ منہ بھر کر اُلٹی کا مطلب یہ ہے کہ اسے روکنے یا واپس نگلنے میں مشکلات کا سامنا ہو۔ اور اگر الٹی بلااختیار خود بخود ہوگئی تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا چاہے جتنی بھی ہو۔
(ب) الٹی کو اپنے اختیار سے واپس پیٹ میں داخل کردیا تو اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، البتہ اگر بلااختیار خود بخود پیٹ میں واپس چلی جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا چاہے جتنی بھی ہو۔ (بہشتی زیور)
۵: روزے کی حالت میں احتلام ہوجانے سے روزے پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔ (بہشتی زیور)
۶: روزے کی حالت میں جان بوجھ کر کھانے پینے کا جماع کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اس صورت میں قضا اور کفارہ دونوں لازم ہوتے ہیں۔ (رد المحتار علی الدرالمختار، امداد الفتاویٰ، بہشتی زیور)
۸: روزے کی حالت میں بیوی سے بوس و کنار کرنے سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا، البتہ اگر اس کے نتیجے میں انزال یا جماع تک نوبت آنے کا اندیشہ ہو تو بوس و کنار سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔ (ردالمحتار، مراقی الفلاح، بہشتی زیور)
۹: روزے کی حالت میں بوس و کنار سے انزال ہوجائے تو اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اس صورت میں صرف اس کی قضا لازم ہوتی ہے، کفارہ نہیں۔ (امداد الفتاویٰ، ردالمحتار علی الدرالمختار، فتاویٰ رحیمیہ، مراقی الفلاح مع نور الایضاح)
۰۱: روزے کی حالت میں محض نگاہ کرنے یا بُرے خیالات آنے سے ہی انزال ہوجائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ (امداد الفتاوی، ردالمحتار علی الدر المختار، فتاویٰ رحیمیہ، مراقی الفلاح مع نور الایضاح)
۱۱: روزے کی حالت میں بلااختیار مکھی، دھواں یو دھول حلق سے اترجائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، لیکن اگر کوئی جان بوجھ کر ایسا کرے تو اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اس صورت میں صرف قضا لازم ہوتی ہے، کفارہ نہیں۔ (امداد الاحکام، ردالمحتار علی الدرالمختار، فتاویٰ رحیمیہ، مراقی الفلاح مع نور الایضاح، بہشتی زیور)
۲۱: روزے کی حالت میں مسواک کرنا درست ہے، چاہے خشک ہو یا تر، البتہ ٹوتھ پیسٹ کرنا مکروہ ہے لیکن اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، روزہ اس وقت ٹوٹے گا جب اس کے ذرات حلق سے اتر جائیں۔ (امداد الفتاویٰ، ماہ رمضان کے فضائل واحکام، بہشتی زیور)
۳۱: روزے کی حالت میں کوئی چیز چکھ کر تھوک دینے سے روزے نہیں ٹوٹتا لیکن بلاعذر ایسا کرنا مکروہ ہے، اگر کوئی عورت بچے کے لیے غذا نرم کرنے کے لیے کوئی چیز چبا کردے تو مجبوری میں ایسا کرنا جائز ہے، البتہ اس بات کا خیال رہے کہ اس چیز کا کوئی ذرہ حلق سے نیچے نہ اترے، ورنہ تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار، فتاویٰ رحیمیہ، مراقی الفلاح مع نور الایضاح، بہشتی زیور)
۴۱: وضو اور غسل کے دوران غلطی سے پانی حلق سے اترجائے تو اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اس صورت میں صرف قضا لازم ہوتی ہے، کفارہ نہیں۔ (امداد الفتاویٰ، رد المحتار علی الدرالمختار، مراقی الفلاح مع نور الایضاح)
۵۱: روزے کی حالت میں کلی کرنے کے بعد ایک دو بار تھوک دینا کافی ہے، اس کے بعد منہ میں جو تَری رہ جاتی ہے اس سے روزے پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔
۶۱: کسی شخص نے غلطی سے صبح صادق طلوع ہوجانے کے بعد سحری کرلی اس خیال سے کہ ابھی بھی سحری کا وقت باقی ہے تو ایسے شخص کا روزہ نہیں ہوتا، ایسا شخص افطار تک روزے داروں کی طرح کچھ کھائے پیے گا نہیں، اور اس کے ذمے اس روزے کی قضا لازم ہے، کفارہ نہیں۔ (ردالمحتار علی الدر المختار، مراقی الفلاح مع نور الایضاح، بہشتی زیور)
۷۱: کوئی شخص روزے کی حالت میں تھا اور اس کو کوئی ایسا شدید مرض یا عذر لاحق ہوگیا کہ جس کی وجہ سے روزہ برقرار رکھنا اس کے لیے نقصان دہ ہوگیا تو وہ روزہ توڑ سکتا ہے، اس کے ذکے اس روزے کی قضا لازم ہے، کفارہ نہیں۔ (فتاویٰ عثمانی، مراقی الفلاح)

روزے کی حالت میں غسل کرنے کا حکم
اگر کسی پر غسل فرض ہو تو روزے کی حالت میں غسل کرنا بالکل درست ہے، البتہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے غسل میں چونکہ غرارے کرنا اور سانس کے ذریعے ناک میں پانی چڑھانا فرض ہے تو روزے کی حالت میں اس فرض پر عمل کیسے کیا جائے؟ یہ دراصل ایک غلط فہمی ہے، اس لیے پہلے اصل مسئلے کو سمجھنا چاہیے، مسئلہ یہ ہے کہ ایسے غسل میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا تو فرض ہے البتہ غرارے کرنا اور ناک میں پانی سانس کے ذریعے اوپر تک چڑھانا فرض نہیں بلکہ یہ اس شخص کے لیے سنت کے درجے میں ہے جو روزہ دار نہ ہو، اور جو روزے دار ہو اس کے لیے ایسے غسل میں غرارے کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کا حخم نہیں، بلکہ روزے دار شخص کے لیے اصل حکم یہ ہے کہ وہ اچھی طرح کلی کرے اور اچھی طرح ناک میں پانی ڈالے تو یہی کافی ہے، اس سے فرض ادا ہوجاتا ہے۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار، فتاویٰ رحیمیہ)

اشاعت: تحفہ ماہ رمضان المبارک از مبین الرحمن
فاضل جامعہ دارالعلوم کراچی- متخصص جامعہ اسلامیہ طیبہ کراچی


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں