آج : 9 February , 2019
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید انقلابِ ایران کی سالگرہ کے موقع پر:

ایرانی قوم نے آمریت، سیاسی دباو اور آزادی کے سامنے رکاوٹوں کے خلاف انقلاب کیا

ایرانی قوم نے آمریت، سیاسی دباو اور آزادی کے سامنے رکاوٹوں کے خلاف انقلاب کیا

اہل سنت ایران کی سب سے زیادہ با اثر شخصیت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایران کے اسلامی انقلاب کی چالیسویں سالگرہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ’دباو، آمریت اور آزادی کی راہ میں موجود رکاوٹوں کے خاتمے‘ کو ایرانی قوم کے انقلاب کی اصل وجوہات اور محرکات میں شمار کیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے آٹھ فروری دوہزار انیس کے بیان میں کہا: چالیس سال پہلے جب قوم اٹھ کھڑی ہوئی، اس کا نعرہ ’استقلال، آزادی، اسلامی جمہوریہ‘ تھا۔ لوگ غیروابستہ اور مستقل ملک چاہتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا: قوم ایسے وقت میں سڑکوں پر نکل آئی تھی کہ ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی ناپید تھی اور کسی کو تنقید کرنے اور اپنی رائے ظاہر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس وقت کی حکومت تنقید سے سخت خوفزدہ تھی۔ تنقید کرنے والوں کو سکیورٹی ادارہ ساواک گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیتا تھا۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: آزادی کسی بھی انسان کا بنیادی حق ہے۔ ہرشخص کو یہ آزادی ملنی چاہیے کہ بلاخوف و ہراس اپنی رائے ظاہر کرے اور جائز تنقید کرے۔ البتہ اس آزادی کا مطلب گستاخی کرنا اور توہین کا ارتکاب کرنا نہیں ہے۔ تنقید اصول کے مطابق ہونی چاہیے۔
شاہ رجیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: سابق رجیم میں حکومت ایک ہی خاندان کے قبضے میں تھی، انتخابات بھی محض برائے نام ہوتے تھے اور کامیاب وہی ہوتا جو حکومت کی چاہتی تھی۔ لیکن لوگوں نے انقلاب کیا تاکہ ان کے ووٹ کی قدر بڑھ جائے اور وہ اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کریں۔

اسلام آزادی اظہارِ رائے کا درس دیتاہے
صدر و شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے آزادی کو شریعت کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے کہا: ’جمہوریہ‘ کے ساتھ ’اسلامی‘ کا سابقہ اسے محدود کرنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ جتنی آزادی اسلام میں ہے، کسی اور مذہب یا ثقافت میں نہیں ہے۔ ’اسلامی‘ کا سابقہ عوام کی آزادی اور حقوق کی تقویت کرتاہے۔
انہوں نے مزید کہا: سب سے زیادہ آزادی نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین کے دور میں تھی اور عوام آسانی سے اپنی مخالف رائے کا اظہار کرتے تھے۔ خلفائے راشدینؓ کو یہ بات پسند تھی کہ لوگ تنقید کریں اور عوام بھی کسی خوف و ہراس کے بغیر تنقید کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ منبر پر امیرالمومنین عمر فاروقؓ نے فرمایا اگر میں اسلام اور سنت کی راہ سے بھٹک جاوں تو تم لوگ کیا کروگے؟ ایک اعرابی دیہاتی نے اپنی تلوار نکال کر کہا اس تلوار سے تمہیں سیدھا کریں گے۔ حضرت علیؓ کے دور میں ایک یہودی ذمی کی شکایت پر آپؓ اپنے ہی متعین قاضی کے روبرو پیش ہوئے اور فیصلہ بھی یہودی کے حق میں ہوا۔ لیکن حضرت علیؓ نے کوئی مخالفت نہیں فرمائی اور اس عدل و انصاف کی برکت سے وہ یہودی مشرف بہ اسلام ہوا۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: اسلام کا نظام حکومت بہترین نظام ہے اور سب سے زیادہ عدل و انصاف اسی نظام میں ہے۔ اللہ تعالی نے انبیائے کرام علیہم السلام کو عدل و انصاف کے نفاذ کے لیے بھیجا تھا۔

ملک کے سامنے بڑی رکاوٹ دیکھتاہوں/پالیسیوں کی تبدیلی نجات کا واحد راستہ ہے
بات آگے بڑھاتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایران کے داخلی و خارجی چیلنجوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایرانی قوم اس حال میں چالیسیویں سالگرہ کا جشن منارہی ہے کہ ملک متعدد داخلی و خارجی مسائل کا شکار ہے۔ یہ مسائل ناقابل انکار ہیں۔
انہوں نے کہا: کسی ذاتی غرض کے بغیر کہتاہوں کہ ملک کے مستقبل میں بڑی رکاوٹ دیکھتاہوں۔ خیرخواہی کے ساتھ کہتاہوں کہ داخلی و خارجی مسائل سے نجات کا واحد راستہ جاری پالیسیوں میں تبدیلی لانا ہے۔
اہل سنت ایران کی ممتاز دینی و سماجی شخصیت نے کہا: بہت ساری پالیسیاں گزشتہ چالیس سالوں سے جاری ہیں، لیکن ان سے خاطرخواہ فائدہ نہیں ہوا ہے، بلکہ الٹا عوام میں مزید مایوسی و ناراضگی پیدا ہوچکی ہے۔ پالیسیوں میں تبدیلی عوام کے مطالبات کے مطابق ہونی چاہیے تاکہ ان کی مرضی حاصل ہوجائے۔
انہوں نے مزید کہا: ملک میں رہنے والے تمام مذاہب و مسالک اور لسانی و قومی گروہوں اور برادریوں کو دیکھاجائے اور خاموش عوام کی بات بھی سنیں۔ ظاہری اتحاد کارگر نہیں ہے، سب سے اہم دلوں کا اتحاد ہے۔ ایرانی قوم سمجھدار ہے، اس کی قدرشناسی ہونی چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: اسلام اور آئین کی رو سے مختلف قومیتوں اور مسالک میں فرق ڈالنا ناقابل قبول ہے۔ تمام ایرانیوں کی نگاہیں اعلی حکام پر ہیں؛ اگر حکام عوام کے مطالبات پر توجہ نہیں دیں گے، پھر قیامت کو اللہ کا کیا جواب دیں گے؟
انہوں نے خارجی پالیسیوں پر نظرثانی کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا: دشمنوں اور امریکا کی ظالمانہ پابندیوں کا مقابلہ خارجی پالیسیوں میں تبدیلی لانے ہی سے ممکن ہے۔ اگر ہم اپنی پالیسیاں تبدیل کریں، امریکا بعض ممالک اور طاقتوں کو اپنے آس پاس جمع نہیں کرسکتا۔ ایک ایسی پالیسی اختیار کریں کہ دیگر ممالک ہمارے ملک و ملت کے خلاف متحد نہ ہوجائیں۔

داخلہ و خارجہ پالیسیوں میں مسلکی نگاہوں سے ملک و قوم کا نقصان ہوتاہے
ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب جاری رکھتے ہوئے خطیب اہل سنت نے کہا: نگاہیں قومی ہونی چاہییں۔ مسلکی نگاہیں اور رویے جو داخلی و خارجی امور میں ہوں، سب کے لیے نقصان دہ ہیں۔ کسی بھی ملک میں مسلکی رویہ مسائل کا باعث بنتاہے۔
انہوں نے مزید کہا: قوم، ملک اور اسلام ہی کے بارے میں سوچیں؛ اگر اسلام ہے تو مسلک بھی رہے گا، لیکن اگر اسلام خطرے سے دوچار ہوجائے، مسلک بھی نہیں رہے گا۔ مسلم ممالک کے سربراہوں سمیت تمام شیعہ و سنی علمائے کرام کو میری نصیحت ہے کہ اپنی نگاہیں بلند رکھ کر مسلکی رویہ نہ اپنائیں۔ صرف اپنے مسلک کی فکر نہ کریں، بلکہ سب کے لیے محنت کریں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: حقائق کو سامنے رکھ کر فیصلہ سازی کریں۔ ہمارے مشورے بھی اسی بنیاد پر ہیں۔ جو اسلام کا نام لیتاہے، لیکن اسلام کا عدل نافذ نہیں کرسکتا، دراصل وہ اسلام کے ساتھ ظلم کرتاہے۔ حقیقی اسلام کا نظام پوری طرح نافذ کرنے سے دنیاوالے اس دین کی رحمتیں دیکھ سکیں گے اور انہیں ایک بے مثال حکومت نظر آئے گی۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں