آج : 4 October , 2018

ایران میں صحابہؓ کی شان میں گستاخی کا سلسلہ کیسے بند ہوسکتاہے؟

ایران میں صحابہؓ کی شان میں گستاخی کا سلسلہ کیسے بند ہوسکتاہے؟

رپورٹس کے مطابق ایرانی فٹبال ٹیم پرسِپولیس کے ایک انتہاپسند کھلاڑی نے اخلاق و ادب کی تمام حدوں کو پار کرتے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، خاص کر ام المومنین عایشہ صدیقہ اور خلفائے ثلاثہ کی شان میں گستاخی کی ہے۔ اس سے پہلے بھی اس طرح کے واقعات پیش آچکے ہیں جن کی ویڈیو وائرل ہوکر سنی عوام کے غم و غصے میں اضافہ کرچکے ہیں۔

چند سال پہلے جب لندن میں مقیم ایک کویتی شیعہ عالم دین نے ام المومنین عایشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے یوم وفات کا جشن منایا اور ان کی شان میں گستاخی کی، عالم اسلام میں شدید احتجاج کیا گیا اور مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔ اس وقت ایران کے سپریم لیڈر نے جو شیعہ مرجع تقلید بھی ہیں فتویٰ جاری کرتے ہوئے اہل سنت کی مقدسات خاص کر ام المومنین عایشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو حرام قرار دیا۔ بعض دیگر شیعہ علما نے بھی ایسے فتاویٰ شائع کرکے ردعمل کا اظہار کیا۔

ایرانی اہل سنت کی سرکردہ شخصیات نے ان فتاویٰ کا خیرمقدم کیا۔ ایران میں سنی برادری کے سب سے بااثر رہ نما شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اس وقت تجویز دی تھی کہ پارلیمنٹ مرشد اعلی کے فتوے کی روشنی میں قانون سازی کرے اور صحابہ و اہل بیت ؓ کی شان میں گستاخی کو قابل تعزیر جرم قرار دیں۔ اس کے علاوہ، علی یونسی نے جو صدر خاتمی کی کابینہ میں انٹیلی جنس وزیر رہ چکے ہیں امہات المومنین کی شان میں گستاخی کو جرم یاد کیا ہے اور پارلیمنٹ کو اس بارے میں قانون سازی کا مشورہ بھی دیا ہے۔

لیکن افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ ایسا نہیں ہوا اور صحابہ کرام و امہات المومنین ؓ کی شان میں گستاخی کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ گستاخی کرنے والے قانون کی گرفت سے خود کو محفوظ سمجھتے ہیں اور بسا اوقات انہیں سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہوتی ہے۔ متعدد منابر پر جب لوگ گستاخانہ باتیں سنتے ہیں اور سرکاری میڈیا میں بھی تنقید کے نام پر صحابہ ؓ کا احترام پامال ہوتاہے، ظاہر سی بات ہے جاہل لوگ بھی ایسی حرکتیں کرنے پر جری ہوجائیں گے۔

لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ داخلی طورپر حکام بالا قانون سازی کریں اور اعلی حکام سمیت سرکردہ شیعہ علمائے کرام واشگاف الفاظ میں صحابہ کرام ؓ کی شان میں گستاخی سے منع کریں۔ اگر دیگر مسلم ممالک بھی ، سیاسی و فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دیے بغیر، سرکاری و غیرسرکاری سطح پر احتجاج کریں، قوی امید ہے اسلام کی مقدس ترین ہستیوں کی توہین کا سلسلہ بند ہوجائے گا یا اس کی شدید حوصلہ شکنی ہوجائے گی۔ اہل سنت کی مزید دل آزاری بھی نہ ہوگی اور مسلم ممالک میں شیعہ اقلیتوں کو بھی اس کا فائدہ پہنچ جائے گا۔


اداریہ سنی آن لائن اردو


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں