شادی یوں بھی ہوتی ہے

شادی یوں بھی ہوتی ہے

مغرب کے اذان شروع ہوئی۔ میں نے مصلی اٹھایا نماز کے لیے دوسرے کمرے میں چلی گئی وضو میں پہلے ہی بنا چکی تھی۔
نماز پڑھتے ہوئے بار بار پیغام ملتا رہا جلدی کرو ابھی تیار بھی ہونا ہے جبکہ مغرب کے بعد رخصتی ہونی ہے۔ میں نماز سے فارغ واپس کمرے میں آئی جس میں میک اپ کا سامان رکھا تھا۔ میری سہیلی جو میرے ساتھ ہی مدرسے میں پڑھتی تھی اس نے جلدی جلدی ہلکا پھلکا میک اپ کردیا چلو جی دلہن تیار۔۔۔ محرم مرد آئے میرے سر پہ ہاتھ رکھا اور رخصتی ہوگئی۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ نماز پڑھ لی تھی۔ اب عشاء کی فکر ہو رہی تھی پھر سوچا وضو ہے اللہ سوہنا انتظام فرمائے گا۔ ساتھ ہی فکر لگ گئی کہیں ایسا نہ ہو دلہن صاحبہ سسرال قدم رنجا فرمائیں اور بتی گل ہوجائے۔ سسرال گھر تقریباً پیدل دس منٹ کا فاصلہ تھا۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اس دن یکم جنوری کی خوشی میں لائٹ نہ گئی اور میری بہنیں اور سسرال والے آپس میں باتیں کرنے لگیں کہ دلہن کرماں والی آئی ہے تو روشنی ہوگئی۔ لائٹ ہی نہیں گئی۔ اللہ کا شکر ادا کیا اب نمازِ عشاء کی فکر لگ گئی۔ میری باجی شاہین اور دوسری بہن یاسمین کان میں کہنے لگیں کہ اگر کوئی بات کرنی ہو تو ہمارے پاؤں پہ پاؤں مار دینا ہمیں سمجھ آجائے ہم تمہارے قریب آکر بات سن لیں گی۔ (میں جو آنکھیں اور زبان بند رکھنے کی پابندی کی وجہ سے پریشان ہو رہی تھی) یہ سن کر اپنے آپ کو سچی مچی ملکۂ عالیہ تصور کرنے لگی کہ واہ بھئی وا پہلے ملکائیں تالی بجاتی یعنی ہاتھ پہ ہاتھ مارتی تھیں تو کنیزیں حاضر ہوجاتیں اور اب میں پاؤں پہ پاؤں ماروں گی تو بہنیں حاضر بہت خوب۔۔۔ پھر میں نے اندازہ سے اپنے سامنے بیٹھی ہوئی کے پاؤں پہ پاؤں ماری۔ آواز آئی ہائے میرا پیر میں گھبرا گئی اور ہورانگ نمبر ہوگیا۔ اب میں ذراسا گھونگھٹ اٹھا کر دیکھا اور باجی کے پاؤں پہ پاؤں مارا۔ باجی صاحبہ نے اپنا کان آگے کردیا میں نے سرگوشی کی نماز پڑھنی ہے۔ باجی نے کہا تھوڑی دیر ٹھہر جاؤ ابھی تو سب دیکھنے آرہے ہیں۔ رش کم ہوجائے پھر لے جاتی ہوں۔ بچوں نے یوں گھیرا ہوا تھا جیسے قربانی کا بکرا ہو اور اسے شوق سے دیکھا جارہا ہو۔
تھوڑی دیر بعد پھر نماز کی یاد دہانی کروائی۔ آخر باجی صاحبہ اندر کمرے میں لے گئیں۔ ماتھے کا زیور اتار دیا میں نے بڑی چادر لی اور نماز پڑھنے لگی۔ اس دوران کئی ہمسائی عورتیں بچے آگئے۔ جی دلہن دیکھنی ہے۔ بتایا گیا دلہن نماز پڑھ رہی ہے۔ حیرت بھری آوازیں آئیں کہ ہائیں کیا دلہن نماز پڑھ رہی ہے؟ وہ باری باری اندر جھانک کر تسلی کرنے لگیں۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے ان کے نزدیک دلہن کو نماز معاف ہوجاتی ہے، جبھی اتنی حیران ہورہی ہیں۔ کچھ بہنیں تو پاس آکر ناخنوں کو چیک کرنے لگیں کہ یہ کیا دلہن نے نیل پالش کی بجائے مہندی لگائی ہوئی ہے۔ باجی صاحبہ نے حیرت کو دور کیا کہ بھئی جو کام غلط ہے وہ دلہن کے لیے بھی غلط ہے۔ مدرسے میں پڑھتی ہے۔ جب سے پتا چلا نیل پالش لگانے سے وجو نہیں ہوتا تب سے مہندی عرق ہی ہم سب لگالیتے ہیں کیوں کہ نیل پالش سے ناخنوں پہ تہ جم جاتی ہے اور پانی نیچے نہیں پہنچ پاتا اگر بال برابر بھی جگہ خشک رہ جائے تو وضو نہیں ہوتا، وضو نہیں تو نماز نہیں ہوتی۔ باجی نے ہمارے مدرسے کی باجی جان ام عثمان صاحبہ کی بتائی ہوئی بات نقل کردی جو مجھ سے سنی تھی۔ مجھے تو بس یہ خوشی تھی کہ شادی کے دوران کوئی نماز قضا نہیں ہوئی۔ اللہ سوہنے کا شکر ادا کیا۔
یاد آیا کہ شادی سے پہلے سسرال والوں نے آنا تھا تاریخ طے کرنے، کسی نے کہا کہ انہوں نے دھوم دھڑکے سے آنا ہے یعنی ڈھول و غیرہ لے کر۔ مجھے پتا چلا تو میں نے بھائی شاہ نواز سے کہلایا کہ بھائی میں مدرسے جارہی ہوں جو رسمیں و غیرہ ہونی ہیں بعد میں ہوتی رہیں گی۔ بھائی صاحب نے کہا کہ کہیں جانے کی ضرورت نہیں میں خود سنبھال لوں گا۔ میں نے کہا باجی صاحبہ فرما رہی تھیں کہ شادی سادی اور رسوم سے پاک ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ پھر بھائی صاحب نے ڈھول و غیرہ سے منع کردیا تو بھائی اور گھر والے مطمئن ہوگئے۔ ابوجی ان دنوں سعودیہ میں رہتے تھے۔ دو بڑے بھائی جاپان میں تھے اس لیے بھائی شاہ نواز پر ہی ساری ذمے داری تھی۔ میری بہن صائمہ نے آکر مجھے بتایا کہ آپ کے سسرال والے مہندی لے کر آئے ہیں کہ مہندی لگانے کا تو ثواب ہوتا ہے۔ میں نے اسے گھور کر دیکھا اور کہا اگر یہ ثواب کا کام ہے تو پھر یہ ثواب کا کام تم ہی کرلو۔ یہ دھوم دھڑکے سے مہندی لگانا کہاں سے ثابت ہے۔ جاؤ بھائی صاحب کا پتا کرو کہاں ہیں؟ پتا چلا وہ کسی کام سے گئے ہیں۔ اب کیا کروں؟ ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ انسپکٹر جمشید سیریز شوق سے پڑھتی تھی۔ چچا اشتیاق احمد کے جاسوسی ناول (بلکہ گھر والے بھی پڑھتے تھے) انسپکٹر جمشید کی بیٹی کی طرح ترکیب ذہن میں آئی اور سوچا کہ نئے نئے کارنامے انجام دینے پر اکثر گھر والوں سے ڈانٹ تو پڑتی ہی رہتی ہے ایک ڈانٹ اور سہی۔
تو جناب میں نے بہن صائمہ سے کہا کہ تم میری گود میں اپنا ہاتھ رکھ لینا اور مہندی لگوا لینا کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا۔ میری بہن نورین کو تو کچھ زیادہ ہی یہ آئیڈیا پسند آیا۔ خوش ہو کر بولی ٹھیک ہے پھر جب مجھے گھیر گھار کر سب میں بٹھایا تو کچھ عورتیں کہنے لگیں یہ کیا دلہن کو پیلا جوڑا نہیں پہنایا ہمارے ہاں تو دلہنیں پورا ہفتہ دس دن پیلا جوڑا پہنے رکھتی ہیں۔ ادھر تو عجیب عجیب کام ہورہے ہیں ہر کام پر پابندی، یہ بھی کوئی شادی ہے۔ خیر پھر ترکیب کے مطابق صائمہ نے ہاتھ تھوڑا سا آگے کردیا باقی دو پٹے میں چھپائے رکھا۔ رش میں پتا ہی نہ چل رہا تھا کیوں کہ ہم کرسی پر نہیں نیچے ہی چوکی پہ بیٹھے تھے خیر سے۔ بہن نورین نے کہا کہ مہندی ہاتھ پر رکھیں گے تو ہتھیلی خراب ہوجائے گی رنگ چڑھ جائے گا تو دوسری ڈیزائن صاف نہ بنے گا۔ ایک عورت نے سو روپیہ دیا یہ رکھو اس کے اوپر مہندی رکھ لیں گے۔ لوجی ہتھیلی چھپ گئی۔ مہندی لگی۔ مزے کی بات کہ وہی میری بہن صائمہ بعد میں میری دیورانی بن گئی جو میری ترکیب کا حصہ بنی تھی۔
میرے میاں صاحب مطلب کہ دولہا صاحب بہت اچھے شریک حیات ثابت ہوئے۔ اللہ ان کی عمر میں علم میں برکات عطا فرمائے۔ ابتدا ہی سے گھر کے کاموں میں ہم سب کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ کسی کا بھی کام ہوتا بھاگ بھاگ کر کرتے ہیں اور بن کہے کردیتے۔ منڈی سے سبزی، پیاز و غیرہ اکٹھے لے آتے ہیں تا کہ سب کو سہلوت ہوجائے پھر جس کو جتنی ضرورت ہوتی وہ لے لیتا۔ کوئی کام کرنے سے عار نہ سمجھتے۔ تین بھابھیاں گھر پہ تھیں میں چوتھے نمبر پہ تھی تو اماں جان یا بھابھیاں کوئی بھی کام کررہا ہوتا فوراً دیکھ کر کہتے ہی میں کرلیتا ہوں آپ کوئی دوسرا کام کرلیں۔ مٹر کے دانے نکالنے سبزی بنانے پیاز کاٹنے تک کرلیتے۔ میں دیکھ دیکھ کر حیران ہوتی کیوں کہ یہ منظر میں نے میکے میں نہ دیکھا تھا۔ اپنا کام بھی زیادہ خود لیتے اور میرے روکنے پر سمجھاتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو اپنے کام خود اپنے ہاتھوں سے کرتے تھے۔ دوسروں کی مدد کرتے تھے۔ اپنے بھائی کو بھی سمجھاتے بندہ اپنے جوتے کپڑوں کا خیال تو خود رکھ لے اس میں کوئی حرج نہیں۔ سب کا آپ میں پیار اور اتفاق دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔
ہمارے سسرال میں دینی رجحان کم تھا۔ میرے میاں صاحب سمجھاتے رہتے تھے۔ پھر میں آگئی تو ایک سے دو بھلے والا معاملہ ہوگیا۔ سارے پر خلوص اور بات سمجھنے والے تھے۔ الحمدللہ جلد ہی دینی ماحول بن گیا۔ نماز کی فضا قائم ہوگئی۔ نیل پالش کی بجائے مہندی کا عرق ناخنوں پہ لگنا شروع، پردے کا اہتمام، خرافات سے جان چھوٹی۔ میرے جیٹھ صاحب کو سگریٹ کا شوق تھا نماز میں سستی کرتے۔ اللہ کے فضل و کرم سے نمازیں شروع اور سگریٹ پینا بند ہوگیا۔
میرے میاں صاحب غصے کے تھوڑے تیز تھے لیکن فوراً غصہ ختم ہو بھی جاتا ہے۔ پہلے پہل تو گھر کی عورتیں دوپٹا کھونٹی پر لٹکا کر ادھر ادھر رکھ کر کام کرتی تھیں یا سارا دوپٹا بل دے کر کمر کی طرف کردیتی اور کام کاج میں لگ جاتیں۔ جب سائیکل کی گھنٹی کی آواز آتی یا سلام کی تو بھاگ کر دو پٹا اٹھاتی تو ٹھیک کرلیتیں تو میرے جیٹھ یا میاں صاحب کہتے کہ کھونٹیاں ہم نے دوپٹے لٹکانے کے لیے نہیں بنوائیں خدا کا خوف کرو دوپٹے کا خیال کیا کرو۔
ہمسائیاں بھی احترام کرتیں۔ ذرا آواز سن لیتیں تو دوپٹے ٹھیک کرلیتیں۔ چوکھٹ پر بیٹھ کر باتیں کرتے کرتے گھروں کے اندر چلی جاتیں۔ پتا ہوتا تھا کہ بھائی ناراض ہوں گے۔ میرے میاں صاحب کا ایمان ہم سب سے پختہ ہے۔ اٹھتے بیٹھتے اللہ کو پکارنا، مدد مانگنا، ساتھ ہمیں بھی یہ تلقین کرتے رہنا ان کی گھٹی میں ہے۔ سب کو نماز کی تلقین کرنا، سستی پر ناراض ہونا، گھر میں تعلیم کی بھی ان کو سب سے زیادہ فکر ہوتی ہے۔ ماشاء اللہ بیٹے محمد عامر کے ساتھ چلہ بھی لگایا۔ ہماری محنت اور اللہ کے فضل و کرم سے ڈاڑھی رکھی تو سب کو مٹھائی بھی کھلائی خوشی میں۔ اللہ انہیں خوش رکھے صحت و تندرستی سے نوازے۔ ان کا سایہ تا دیر ہمارے سروں پر قائم رکھے۔ میرے خواہش پر میاں صاحب مجھے کراچی میں، اہلیہ راشد اقبال صاحبہ کے گھر اور پھر محترمہ باجی جان ریحانہ تبسم فاضلی صاحبہ کے گھر بھی لے گئے تھے۔ جھنگ میں محترم اشتیاق احمد کے گھر تعزیت کرنے کے لیے بھی لے گئے۔ حضرت مولانا محمدنافع صاحب کے گھر بھی جانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ حج و عمرہ کا مبارک سفر بھی نصیب ہوا۔ اس وقت محمد عادل ڈیڑھ سال کا تھا جب حج پر گئے تھے۔ ’’خواتین کا اسلام اور بچوں کا اسلام‘‘ بھی میاں صاحب نے متعارف کروایا اور پھر الحمدللہ پیارے رسالے گھر میں آنے لگے اور خوشبو بکھیرنے لگے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں