آج : 13 December , 2017

قرآن سے تعلق کے فوائد

قرآن سے تعلق کے فوائد

اس مبارک کلام سے تعلق جوڑنا جہاں قیامت کے دن فائدہ دے گا تو یہاں دنیا میں بھی اس تعلق کے ثمرات انسان اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے۔
پہلا فائدہ: باطنی بیماریوں سے شفا
جس کا قرآن سے تعلق نہیں اللہ تعالی اسے باطنی بیماریوں میں ڈال دیتے ہیں۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ:
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’ان ھذہ القلوب تصدأ کما یصدأ الحدید اذا أصابہ الماء‘‘ قیل: یا رسول اللہ و ما جلاؤھا؟
قال: “کثرۃ ذکرالموت و تلاوۃ القرآن” (رواہ البیہقی)
ترجمہ: نبی ﷺ نے فرمایا: بے شک ان دلوں پر زنگ لگ جاتا ہے جیسے لوہے کو زنگ لگتا ہے جب اس پر پانی لگتا ہے۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ کیا چیز اس کو صاف کرتی ہے؟ فرمایا: موت کو کثرت سے یاد کرنا اور قرآن کی تلاوت کرنا۔
پتا چلا کہ انسان کا دل لوہے کی مانند ہے۔ جس طرح لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے۔ اسی طرح انسان کا دل بھی زنگ آلود ہوجاتا ہے۔ زنگ لگنے کا مطلب یہ ہے کہ دل بیمار ہوجاتا ہے اور اس بیماری کی کئی وجوہات ہوتی ہیں مثلا یہ کہ کبھی اس دل پر دنیا، مخلوق اور نامحرم کی محبت غالب آجاتی ہے اور کبھی دوسرے مہلک باطنی بیماریاں اس دل کو جکڑ لیتی ہیں جیسے حرص، بخل، شہوت، تکبر، حسد اور کینہ و غیرہ۔
نبی ﷺ نے صحابہ کرام کے دریافت کرنے پر اس کی دوا بھی بتائی کہ ان امراض کا علاج موت کا تذکرہ اور قرآن کی تلاوت ہے۔ جو بندہ یہ محسوس کرے کہ اس کا دل بیمار ہوگیا ہے، زنگ آلود ہوگیا ہے، اسے یہ چاہئے کہ وہ قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کرے۔

دوسرا فائدہ: ظاہری بیماریوں سے شفا
قرآن کریم باطنی بیماریوں کے ساتھ ساتھ ظاہری بیماریوں کے لئے بھی شفا ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا:
(وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ) [الاسراء: ۸۲)
اور ہم نے نازل کیا اس قرآن کو (مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ) جس کے اندر شفاء ہے اور وہ رحمت ہے تمام مومنوں کے لئے۔
روایات میں آتا ہے کہ نبی ﷺ کئی مرتبہ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھ کر دم کیا کرتے تھے کہ ان میں ظاہری بیماریوں کے لئے شفا ہے۔ صحابہ کرام بھی ظاہری بیماریوں کے علاج کے لئے قرآن پڑھ کر دم کیا کرتے تھے اور پھر اللہ شفا بھی دے دیتے۔

سورۃ الفاتحہ کی برکت
بخاری شریف کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام کسی ایسے دور دراز علاقے میں اللہ کا دین پہنچانے کے لئے گئے جہاں کے لوگوں سے ناآشنائی تھی۔ وہ عرب کا ایک قبیلہ تھا اور اتفاق سے ان ہی دنوں میں اس قبیلے والوں کے رئیس کو سانپ نے ڈس لیا تھا اور وہ کافی بیمار ہوگیا تھا۔ وہاں کے رہنے والے بہت پریشان تھے اس لئے کہ ان کے رئیس کی طبیعت خراب ہوتی جارہی تھی اور کسی علاج سے شفا بھی نہیں ہورہی تھی۔ انہوں نے جب صحابہ کرام کو آتے دیکھا تو سوچا کہ یہ لوگ باہر سے آئے ہیں شاید ان کے پاس کوئی علاج ہو تو جاکر صحابہ کو سارا معاملہ بتایا اور پوچھا کہ آپ میں سے کوئی ہمارے سردار کا علاج کرسکتا ہے؟ چنانچہ ان میں سے ایک صحابی قبیلے والوں کے ہمراہ گئے اور ان کے رئیس پر سات مرتبہ سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کیا۔ دم کرنا تھا کہ سردار، جو بستر سے اٹھنے پر قدرت نہیں رکھتا تھا، فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور چلنا شروع ہوگیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ تو دیکھیئے قرآن پاک پڑھ کر دم کرنے سے اللہ تعالی نے ظاہری شفا بھی عطا کردی۔

کینسر کا علاج
صوبہ سندھ میں ایک ہندو خاندان ایک ایسی جگہ پر مقیم تھا جہاں مسلمان اور ہندو دونوں ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ اس علاقے میں قریب قریب گھر بنے ہوئے تھے اور اس وجہ سے مسلمان اور ہندو بچوں کی آپس میں دوستی بھی ہوتی تھی۔ مسلمانوں کے ایک گھر میں قرآن پاک کی تعلیم ہوتی۔ کئی مرتبہ کلاس لگی ہوئی ہوتی تو ایک ہندو بچی بھی آجاتی اور اپنی دوستوں کے ساتھ بیٹھ جاتی۔ بیٹھے بیٹھے وہ بھی کبھی قرآن پڑھ لیتی۔ حتی کہ قرآن پاک اس بچی کو اتنا اچھا لگا کہ ہر روز باقی بچیوں کی طرح وہ بھی پڑھنے لگی اور پھر اس کا دل اسلام کی طرف کھنچتا چلا گیا، اس کے دل میں یہ بات آئی کہ میں دین اسلام قبول کرلوں اور اس نے کچھ ہی عرصے بعد، والدین کو بتائے بغیر اسلام قبول کرلیا۔
اس بات کو کچھ وقت گزرا کہ اس کے والدین نے کہا کہ اب تمہاری عمر بڑی ہوگئی ہے لہذا ہم تمہاری شادی کروانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ رشتے داروں میں ایک ہندو لڑکا تھا جس سے شادی طے ہوگئی۔ اب پریشانی کے عالم میں یہ اپنی استانی کے پاس گئی اور ان سے پوچھنے لگی کہ والدین تو میری شادی ایک ہندو لڑکے سے کر رہے ہیں جبکہ میں نے تو اسلام قبول کرلیا ہے۔ استانی نے کہا کہ اگر اس وقت تمہارے والدین کو تمہارے مسلمان ہونے کا بتایا جائے تو وہ تمہیں چھوڑینگے نہیں۔ تم بس اللہ سے مانگتی رہو اور اس قرآن کو جتنا آتا ہے پڑھتی رہو۔ ہم بھی تمہارے لئے دعائیں کرتے ہیں۔
کچھ عرصے میں اس کی شادی ہوگئی اور اس کے بعد ہندو شوہر کے ساتھ رہنے لگی۔ جب وہ کام پر جاتا تو یہ اپنا وقت قرآن اور نماز پڑھنے میں لگاتی اور جب وہ آتا تو اس ڈر کی وجہ سے کہ کہیں یہ مجھ سے نفرت نہ کرے اپنے اسلام کو اس کے سامنے ظاہر نہ کرتی۔
اللہ کی شان کہ کچھ عرصہ بعد اس کا شوہر بیمار ہوگیا۔ ڈاکٹروں نے علاج کرنا شروع کیا مگر جب علاج کا فائدہ نہیں ہوا تو معلوم کرایا گیا کہ اصل بیماری ہے کیا؟ ٹیسٹ و غیرہ ہوئے تو پتہ چلا کہ اس کو تو کینسر ہے اور بیماری اب اپنے آخری اسٹیج پر پہنچ گئی ہے اور اب اس کا علاج بھی کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اب اس کے شوہر کو بڑے شہروں میں لے کر آئے اور علاج کروایا مگر شہر کے اندر بھی علاج کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ حتی کہ ڈاکٹروں نے کہا کہ اس کے پاس بہت ہی تھوڑا وقت رہ گیا ہے۔
اب تو اس کے گھر کا ہر فرد آنسو بہا رہا ہے اور رو رہا ہے۔ یہ بھی بہت ہی پریشان اور غمگین تھی کہ آخر کو میرا شوہر ہے اور جو چند سال ہم نے گزارے ہیں وہ بہت ہی محبت کے ساتھ گزارے ہیں۔ اس کے دل میں ایک بات آئی اور اس نے جا کر شوہر سے کہا کہ میرے پاس تمہارے لئے ایک علاج ہے، اگر تم صحت یاب ہوگئے تو میں تمہیں ایک بات کہوں گی اور وہ تمہیں ماننی پڑے گی۔ اس نے کہا کہ ضرور مانوں گا۔
اس بچی نے اپنے طور پر اپنے شوہر کا علاج کرنا شروع کیا۔ شروع کرنے کے پہلے دن پانی پر سورہ فاتحہ کا دم کیا اور شوہر سے کہا کہ جب بھی پانی پینے کی ضرورت ہو تو صرف یہی پانی پینا۔ تو وہ دن رات قرآن کے دم والا پانی پیتا۔ اللہ کی شان، کچھ ہفتے گزرے پھر ٹیسٹ کروایا تو کچھ صورت حال بہتر ہوئی اور بہتر ہوتے ہوتے کینسر کا مرض ہی ختم ہوگیا۔
اب شوہر بھی حیران اور بیوی بھی حیران۔ بیوی نے یاد دلایا کہ تمہیں یاد ہے کہ چند مہینے پہلے میں نے تم سے کہا تھا کہ میرے پاس ایک علاج ہے اور اگر تم صحت یاب ہوجاؤ گے تو تم نے میری ایک بات ماننی ہے۔ اس نے کہا کہ ہاں یاد ہے اور بالکل اپنے وعدے میں پکا ہوں۔ کیا بات ہے وہ جو تم منوانا چاہتی ہو۔ اس نے کہا کہ بات یہ ہے کہ تم دین اسلام قبول کرلو۔ یہ سن کر اس کا شوہر حیران ہوگیا اور کہا کہ اللہ کی بندی تم بھی ہندو ہو اور میں بھی ہندو ہوں پھر میں کیوں دین اسلام قبول کرلوں؟ اس نے کہا کہ میں تو مسلمان ہوں اور تمہیں جو پانی پلایا جس سے تمہیں نئی زندگی ملی وہ اللہ کا کلام ہے جس کو دم کر کے تمہیں پلایا کرتی تھی۔ یہ سننا تھا کہ شوہر نے بھی کلمہ پڑھا اور دین اسلام قبول کرلیا۔
قرآن کا یہ معجزہ ہماری آنکھوں کے سامنے آگیا۔ واقعی یہ قرآن ظاہر کے لئے بھی شفا ہے اور باطن کے لئے بھی شفا ہے مگر افسوس کہ آج ہم نے اس مبارک کلام کو بس برکت کے لئے اپنے گھروں میں رکھا ہوا ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پڑھنے اور پڑھانے والوں کے بارے میں سرٹیفیکیٹ دے دیا ہے۔ فرمایا:
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’خیرکم من تعلم القرآن و علمہ‘‘۔ (أخرجہ البخاری)
ترجمہ: تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور پڑھاتے ہیں۔
تو اس لئے بہت بڑی محرومی ہے اس شخص کے لئے کہ جس کے گھر میں اور ہر طرح کی کتابیں تو پڑھی جاتی ہیں اور اگر نہیں پڑھا جاتا تو اس کلام پاک کو نہیں پڑھا جاتا گویا کہ اس کلام سے دل لگایا ہی نہیں جاتا۔ اگر بچہ آکر اپنے والد کو بتاتا ہے کہ مجھے فلاں فلاں فلاسفی (Philosophy)کی کتاب بہت اچھی لگتی ہے تو باپ بڑا خوش ہوجاتا ہے کہ میرے بیٹے کا بڑا دلچسپی ہے فلاسفی میں اور وہی بیٹا آج آکر کہتا ہے کہ ابا میں نے قرآن کی تفسیر پڑھنی ہے تو والد کہہ رہا ہوتا ہے کہ تم کیا فرسودہ اور لقیانوسی باتیں کر رہے ہو۔

تیسرا فائدہ: برکت کا حاصل ہونا
قرآن سے تعلق کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ انسان کو برکت حاصل ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:
(وَهَـٰذَا ذِكْرٌ مُّبَارَكٌ أَنزَلْنَاهُ) [الأنبیاء: ۵۰]
ترجمہ: اور یہ ایک بابرکت نصیحت ہے جسے ہم نازل کیا ہے۔
تو جو بھی اس قرآن کو پڑھے گا اس کو برکت حاصل ہوگی اور جو اس قرآن کو چھوڑ دے گا اور اس سے غفلت برتے گا اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں اس کی معیشت کو تنگ کردوں گا۔
(وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا) [طہ: ۱۲۴]
ترجمہ: جس نے ہمارے اس کلام کے ساتھ اعراض کیا ہم اس کی معیشت کو تنگ کردیں گے۔
اسی لئے تو یہ ہوتا ہے کہ دنیا کی ہر سہولت موجود ہوتی ہے مگر پھر بھی دل کو چین نہیں آتا۔ ایک پریشانی ختم نہیں ہوتی دوسری پریشانی سر پر کھڑی ہوتی ہے۔ ہمارے حضرت فرماتے ہیں کہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اتنے امیر امیر لوگ کہ اگر ہر روز اس ملک سے سعودی عرب عمرہ کرنے کے لئے جانا چاہیں تو جاسکتے ہیں مگر ایک مرتبہ بھی اس گھر کو دیکھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ ساتھ ہی دل پریشان، اتنی پریشانی کہ آنسوؤں سے آکر روتے ہیں۔ پھر فرمانے لگے کہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک مزدور مسجد بنا رہا تھا اور مسجد بنانے کے بعد ایک بجے چھٹی ہوئی تو دوپہر کی گرمی، ایک بجے کا وقت ہے اور یہ مزدور گرم مٹی کے اوپر سر رکھ کر آرام سے سورہا تھا۔ تو ایسا سکون اللہ نے اس کو دیا ہوا تھا۔
آج گھروں میں برکت اس لئے نہیں ہے کہ آج گھروں میں قرآن نہیں ہے۔ ہاں، قرآن کا نسخہ ضرور موجود ہوگا لیکن قرآن کے اوپر نہ عمل موجود ہے نہ ہی قرآن کے ساتھ تعلق موجود ہے، نہ قرآن کے پڑھنے کا کوئی معمول اور نہ ہی اسے پڑھانے کا۔

ہمارے اکابرین کا قرآن سے تعلق
ہمارے اکابرین نے اس کلام کے ساتھ محبت رکھی اور اسے دل سے لگایا۔ امام اعظم امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ رمضان میں تریسٹھ (۶۳) مرتبہ قرآن پڑھتے تھے۔ کہنے کو تو بڑی آسان سی بات ہے مگر در حقیقت بہت مشکل ہے کہ کوئی شخص ایک مہینے میں تریسٹھ مرتبہ قرآن پڑھے۔ جب تک قرآن اس قدر محبوب نہ ہو جیسے کسی نوجوان کو کوئی لڑکی محبوب ہوتی ہے تب تک اس قرآن کو اتنے شوق سے اور اتنی مقدار میں نہیں پڑھا جاسکتا۔ ہمارے اکابرین جب رات کو اٹھتے تھے تو قرآن پڑھنے کے لیے ایسے ذوق و شوق کے ساتھ مصلے پر جاتے جیسے کوئی شادی شدہ شخص رات کو اپنی اہلیہ سے ملنے جاتا ہے۔ ہمارا حال تو یہ ہے کہ آج ہمارا تعلق اس قرآن سے بس رسم و رواج کی حد تک ہے۔ جیسے اگر کسی کا گھر بن رہا ہے تو پہلے اس قرآن کو گھر میں رکھیں گے اور کئی مرتبہ یہ بھی رواج ہوتا ہے کہ شادی کے موقع پر جب بیٹی رخصت ہو رہی ہوتی ہے تو اس کے سر پر قرآن رکھا جاتا ہے چاہے اس بیٹی نے سالوں سے اس کلام کو دیکھا بھی نہ ہو۔ ہمارا بچہ اسکول نہیں جاتا تو باپ آکر شکوے کرنے لگتا ہے کہ میرا بیٹا اسکول نہیں جارہا اور بچے نے سالوں قرآن نہیں پڑھا ہو تو باپ کے دل میں غم بھی نہیں ہوتا۔

چوتھا فائدہ: عزتیں ملنا
قرآن سے تعلق کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے ہمیں عزتیں ملتی ہیں۔ جو شخص اس قرآن سے زیادہ تعلق رکھنے والا ہوگا وہ اس کا ادب بھی زیادہ کرے گا اور اسے یہ فکر لگی ہوگی کہ کسی بھی طرح اللہ کے مبارک کلام کی بے ادبی نہ ہوجائے۔
قرآن کے اس تعلق اور ادب کی وجہ اللہ عزتیں عطا فرمادیتے ہیں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قرآن کے صدقے امیرالمومنین بننا
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ میں ایک لشکر کے ساتھ کسی راستے میں جاتے ہوئے پہاڑی کے دامن میں رک گئے۔ سخت گرمی تھی اور لوگ تنگی کے عالم میں تھے پر چونکہ امیرالمومنین کھڑے تھے (اور نیچے دادی کو دیکھ رہے تھے) اس لئے ساری فوج بھی ساتھ ہی انتظار میں کھڑی تھی۔ کسی نے پوچھ لیا کہ امیرالمومنین کیا ہوا کہ آپ یہاں کھڑے کچھ دیکھ رہے ہیں اور پورا لشکر آپ کی وجہ سے کھڑا ہے۔ حضرت عمر نے جواب دیا کہ میں اس وادی میں لڑکپن میں اسلام لانے سے پہلے اونٹ چرانے کے لیے آتا تھا لیکن مجھے اونٹ چرانے کا سلیقہ نہیں آتا تھا۔ میرے اونٹ خالی پیٹ گھر جاتے تو میرا والد خطاب مجھے مارتا اور کہتا تھا عمر! تو بھی کیا کامیاب زندگی گزارے گا، تجھے تو اونٹ چرانے کا سلیقہ تک نہیں آتا۔ میں یہاں کھڑا ہوا اپنے اس وقت کو یاد کر رہا ہوں جب عمر کو اونٹ چرانے نہیں آتے تھے اور آج اس وقت کو دیکھ رہا ہوں جب قرآن اور اسلام کے صدقے اللہ نے عمر کو امیرالمومنین بنادیا ہے۔ تو یہ وہ کتاب جو انسان کو فرق سے اٹھا کر عرش تک پہنچاتی ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں