آج : 22 February , 2017

بھائی چارہ اور اخوتِ اِسلامی

بھائی چارہ اور اخوتِ اِسلامی

الحمد للّٰہ رب العلمین، والصلاة والسلام علی سیّد الانبیاء والمرسلین، وعلی الہ وصحبہ اجمعین، ومن تبعہم باحسان الی یوم الدین، اما بعد!

قرآنِ کریم نے اِیمان وَالوں کو بھائی سے تعبیر فرمایا ہے، اِرشادِ رَبانی ہے:﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ﴾․(الحجرات:10)
ترجمہ:”مسلمان آپس میں ایک دُوسرے کے بھائی ہیں۔“

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وَسلم نے اخوتِ اِسلامیہ اور اُس کے حقوق کے بارے میں اِرشاد فرمایا:
”قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ: الْمُسْلِمُ اَخُوْ الْمُسلِمِ، لَا یَظلِمُہ وَلَا یَخْذُلُہ، وَلَا یَحْقِرُہُ․ اَلتَّقْوٰی ھَاہُنَا ”وَیُشِیْرُ اِلَی صَدْرِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ“ بِحَسْبِ امْرِءٍ مِنَ الشَّرِّ اَن یَحْقِرَ اَخَاہُ الْمُسلِمَ، کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، دَمُہ، وَمَالُہ، وَعِرْضُہ․“(صحیح مسلم:2/317، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ واحتقارہ، ایج ایم سعید)
ترجمہ: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اُس پر خود ظلم کرتا ہے اور نہ اُسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اُسے حقیر جانتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وَسلم نے اَپنے قلب مبارک کی طرف اِشارَہ کرتے ہوئے تین بار یہ اَلفاظ فرمائے: تقویٰ کی جگہ یہ ہے۔ کسی شخص کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اَپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ ہر مسلمان پر دُوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔“

گویا کہ اخوت و محبت کی بنیاد اِیمان اور اِسلام ہے۔ یعنی سب کا ایک رَب، ایک رسول، ایک کتاب، ایک قبلہ اور ایک دِین ہے، جو کہ دِینِ اِسلام ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وَسلم نے اِسی اِیمان و تقویٰ کو فضیلت کی بنیاد بھی قرار دِیا ہے اور یہ بتلادِیا کہ اِنسان رَنگ و نسل اور قوم و قبیلہ کے اِعتبار سے نہیں، بلکہ اِیمان اور تقویٰ جیسی اَعلیٰ صفات سے دُوسروں پر فوقیت حاصل کرتا ہے اور قوم و قبیلے صرف تعارف اور جان پہچان کے لیے ہیں۔ اِرشادِ خداوندی ہے:

﴿یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیَمٌ خَبِیْرٌ﴾․(الحجرات: 13)
ترجمہ: ”اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورَت سے پیدا کیا اور تمہیں مختلف شاخیں اور مختلف قبیلے بنایا، تاکہ تم ایک دُوسرے کو پہچان سکو، اُس کے نزدِیک تو تم میں سب سے بڑا عزت وَالا وہ ہے جو تم سب میں بڑا پرہیزگار ہے، بے شک اللہ سب کو جانتا ہے اور سب کے حال سے باخبر ہے۔“

مندرجہ بالا آیات و اَحادِیث سے وَاضح ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوت کی بنیاد اِسلام اور اِیمان کو قرار دِیا، کیوں کہ اِیمان کی بنیاد مضبوط اور دَائمی ہے، لہٰذا اس بنیاد پر قائم ہونے وَالی اخوت کی عمارَت بھی مضبوط اور دَائمی ہوگی۔

اِسلام ایک عالمی دِین ہے اور اُس کے ماننے وَالے عرب ہوں یا عجم، گورے ہوں یا کالے، کسی قوم یا قبیلے سے تعلق رَکھتے ہوں، مختلف زبانیں بولنے وَالے ہوں، سب بھائی بھائی ہیں اور اُن کی اس اخوت کی بنیاد ہی اِیمانی رِشتہ ہے اور اس کے بالمقابل دُوسری جتنی اخوت کی بنیادیں ہیں، سب کم زور ہیں اور اُن کا دَائرہ نہایت محدود ہے۔ یہی وَجہ ہے کہ اِسلام کے اِبتدائی اور سنہری دور میں جب بھی ان بنیادوں کا آپس میں تقابل و تصادم ہوا تو اخوتِ اِسلامیہ کی بنیاد ہمیشہ غالب رہی۔

آج بھی مشرق و مغرب اور دُنیا کے گوشے گوشے سے آئے ہوئے مسلمان جب موسم حج میں سرزمینِ مقدس حرمین شریفین میں جمع ہوتے ہیں تو ایک دُوسرے سے اس گرم جوشی سے ملتے ہیں جیسے برسوں سے ایک دُوسرے کو جانتے ہوں۔ بلکہ بعضوں کو اس مسرت سے روتے ہوئے دیکھا جاتا ہے کہ حیرانی ہوتی ہے۔

حالاں کہ اُن کی زبانیں، اُن کے رَنگ اور اُن کی عادَات مختلف ہوتی ہیں، لیکن اِس سب کے باوجود جو چیز اُن کے دِلوں کو مضبوطی سے جوڑے ہوئے ہے وہ اِیمان اور اِسلام کی مضبوط رَسی ہے۔

اُمت میں اخوتِ اِسلامی پیدا کرنے کے لیے محبت، اِخلاص، وحدت اور خیر خواہی جیسی صفات لازمی ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑی نعمت شمار ہوتی ہیں۔ قرآنِ کریم نے اِس صفت کو بطورِ نعمت ذِکر فرمایا ہے، اِرشادِ خداوندی ہے:
﴿وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْکُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٓ اِخْوَانًا﴾․(آلِ عمران: 103)
ترجمہ: ”اور اس کے اس احسان کو یاد کرو جو اُس نے تم پر کیا ہے۔ جب کہ تم آپس میں ایک دُوسرے کے سخت دُشمن تھے، پھر اُس نے تمہارے دِلوں میں اُلفت پیدا کردِی، تم اُس کے فضل سے آپس میں بھائی بھائی ہوگئے۔“

نبی کریم صلی اللہ علیہ وَسلم نے اِیمان والوں کے آپس کے تعلقات اور اخوت و محبت کو ایک جسم کے مختلف اَعضاء سے تشبیہ دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا:
”مثل الموٴمنین فی توادھم و تراحمہم و تعاطفہم کمثل الجسد، اذا اشتکی عضو تداعی لہ سائر جسدہ بالسہر والحمی․“ (صحیح البخاری:2/888، حدیث:6036،باب رحمة الناس والبہائم ،کتب خانہ مظہری)
ترجمہ”اِیمان والوں کی آپس کی محبت، رحم دِلی اور شفقت کی مثال ایک اِنسانی جسم جیسی ہے کہ اَگر جسم کا کوئی حصہ تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے تو (وہ تکلیف صرف اُسی حصہ میں منحصر نہیں رہتی، بلکہ اُس سے) پورَا جسم متاثر ہوتا ہے، پورَا جسم جاگتا ہے اور بخار و بے خوابی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔“

مسلمان دُنیا کے کسی خطہ زمین میں آباد ہوں وہ اُمت اِسلامیہ کا ایک جزہیں، اَگر وہ آرَام و سکون کی زِندگی بسر کررہے ہیں تو پورِی اُمت پُرسکون ہوگی اور اَگر وہ کسی مصیبت یا ظلم کا شکار ہیں تو اُن کی تکلیف سے پورِی اُمت بے چین اور تکلیف میں ہوگی اور اِس صورَت میں لازماً وہ اس کے اِزالہ کی فکر کرے گی اور اُس کے لیے ہر ممکن وَسائل اِختیار کرے گی۔

اُمت کا اِتحاد اور اخوت کا یہ رِشتہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وَسلم کو بہت عزیز ہے، اِسی لیے قرآنِ کریم اور اَحادِیث نبویہ میں جا بجا اُس پر بہت زور دِیا گیا ہے اور اِختلافات اور تفریق سے روکاگیا ہے۔ اِسلام نے اس اخوت کو قائم رَکھنے اور اسے مضبوط سے مضبوط تر بنانے کا حکم دِیا ہے اور ایسے تمام اَسباب اور تصرفات سے روکا ہے جو اُسے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اِرشادِ بارِی تعالیٰ ہے:
﴿وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا﴾․(آلِ عمران: 103)
ترجمہ: ”اور مضبوط پکڑو اللہ کی رَسی کو سب مل کر اور پھوٹ نہ ڈَالو۔“

اُمت کے اِتحاد اور اخوت کے رِشتہ کو مضبوط رَکھنے کے لیے ضرورِی ہے کہ ہم اللہ کی رَسی یعنی قرآن مجید اور اُس کی تعلیمات کو مضبوطی سے پکڑیں، وہ تعلیمات جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وَسلم نے اَپنے قول و عمل سے اُمت کے سامنے پیش فرمایا ہے۔ اُس پر اِیمان لائیں اور اُس کی ہدایات پر چلیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وَسلم کی سنت اور سلف صالحین کے رَاستہ پر چلیں، یہی کام یابی کا رَاستہ ہے اور اِسی سے اُمت میں اِتحاد اور اخوت کا رِشتہ مضبوط ہوگا۔

یہ رسی ٹوٹ تو نہیں سکتی، ہاں! چھوٹ سکتی ہے، اَگر سب مل کر اس کو پورِی قوت سے پکڑے رہیں گے تو کوئی شیطان شر اَنگیزی میں کام یاب نہ ہوسکے گا اور اِنفرادِی زِندگی کی طرح مسلم قوم کی اِجتماعی قوت بھی غیر متزلزل اور ناقابلِ اِختلاف ہوجائے گی۔ قرآنِ کریم سے تمسک کرنا ہی وہ چیز ہے جس سے بکھری ہوئی قوتیں جمع ہوتی ہیں اور ایک مردَہ قوم نئی زِندگی حاصل کرتی ہے۔

اُمت اِسلامیہ کا اِتحاد اور اخوت یہ وہ عظیم قوت ہے جس سے اَعداءِ اِسلام ہمیشہ خائف رہتے ہیں اور اِس قوت کو کم زور کرنے کے لیے سازشیں کرتے ہیں۔

گویا اخوتِ اِسلامی کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مسلمان دُوسرے مسلمان بھائی کے غم، دُکھ اور خوشی میں برابر کا شریک ہو، چاہے وہ مسلمان مشرق کا رہنے وَالا ہو یا مغرب کا۔

اخوتِ اِسلامی کا تقاضا یہ ہے کہ ایک مسلمان دُوسرے مسلمان بھائی کا خیر خواہ ہو، جو بھلائی وہ اَپنے لیے پسند کرتا ہے وہی اَپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرے اور جو اَپنے لیے ناپسند کرتا ہے وہ اَپنے بھائی کے لیے بھی ناپسند کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وَسلم نے اِرشاد فرمایا:
”لایوٴمن احدکم حتی یحب لاخیہ مایحب لنفسہ․“ (صحیح البخاری:1/6، حدیث:13، باب من الایمان ان یحب لاخیہ مایحب لنفسہ،کتب خانہ مظہری)
ترجمہ: ”تم میں سے کوئی شخص اُس وَقت تک کامل اِیمان وَالا نہیں ہوسکتا جب تک کہ اَپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اَپنے لیے پسند کرتا ہے۔“

اور ایک دُوسری رِوَایت میں تو آپ صلی اللہ علیہ وَسلم نے مسلمان بھائی کی اِیذا رَسانی کو اِیمان کے منافی قرار دِیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وَسلم نے تین بار قسم کھاکر فرمایا:
”بخدا! وہ شخص موٴمن نہیں جس کے شر سے اُس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں۔“

اخوتِ اِسلامی کو مضبوط کرنے کے لیے ایک اَہم وَسیلہ آپس میں محبت کے ساتھ ملنا ملانا اور ایک دُوسرے کو دُعا و سلام دینا بھی ہے، جس سے دِل صاف ہوتے ہیں اور محبت بڑھ کر اخوتِ اسلامی میں قوت کا ذریعہ بنتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”لن یدخل الجنة حتی توٴمنوا، ولن توٴمنوا حتی تحابوا، او لا ادلکم علی شيٴ لو فعلتموہ تحابیتم؟ افشوا السلام بینکم․“ (صحیح مسلم:1/54، کتاب الایمان…باب بیان: لایدخل الجنة الاالموٴمنون، ایج ایم سعید)
ترجمہ:”تم ہرگز جنت میں نہیں جاسکتے جب تک کہ اِیمان نہ لے آوٴ اور اُس وَقت تک تم اِیمان وَالے نہیں بن سکتے جب تک کہ ایک دُوسرے سے محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاوٴں کہ اَگر تم اُسے بجالاوٴ تو آپس میں محبت کرنے لگو؟ آپس میں کثرت سے سلام پھیلاوٴ۔“

بہرحال قرآنِ کریم نے مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دِیا ہے اور اس اخوت اور محبت کو اللہ کی نعمت قرار دِیا ہے اور اس محبت اور اِتحاد پر اُن کی قوت اور طاقت کا مدار ہے۔ اس اخوت کو قائم رَکھنا ہر مسلمان کا فرض ہے اور اُن تمام صفات کو اَپنانا جن سے یہ اخوت کا رِشتہ مضبوط ہوتا ہے، جیسے خیر خواہی، محبت، اِخلاص، اِیثار، ملنا ملانا، صلح جوئی اور ایک دُوسرے کو سلام اور دُعا پیش کرنا وَغیرہ۔

لہٰذا اُمت کے زُعماء اور قائدین، چاہے وہ سیاسی ہوں یا دِینی، اُن کا فرض ہے کہ اُمت کے اِس اِتحاد اور اخوت کو مضبوط کریں اور اُس کے اَسباب کو ترقی دیں اور اِختلاف و اِنتشار سے اُمت کو دُور رَکھیں اور اُن اَسباب کا اِزالہ کریں، جن سے اُمت کے قلوب میں بعد اور نفرت اور اُس کی صفوں میں اِنتشار پیدا ہوتا ہے۔

اِسی طرح اُمت کے قائدین کا یہ بھی فرض ہے کہ اُمت کے اِس اِتحاد اور اخوت میں کوئی رَسم و رِوَاج رُکاوٹ بن رہے ہوں تو ایسے رُسوم ورِوَاج پر پابندی لگائیں ،چاہے اُسے کتنا ہی مذہبی اور تقدس کا رَنگ دے دِیا گیا ہو۔ اِس لیے کہ ان رُسوم و رِوَاج کے بالمقابل اُمت کی وحدت اور اخوت ہم سب کو زِیادَہ عزیز ہونی چاہیے۔ نیز ہر مسلمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اَپنے اَندر صفت اِیمان پیدا کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وَسلم کا اِرشاد ہے:
”اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہ وَیَدِہ، وَالْمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ الْخَطَایَا وَالذُّنُوْب․“(صحیح البخاری:1/6،باب المسلم من سلم المسلمون…الخ، المکتبة القدیمیة)
ترجمہ: ”کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ کے شر سے مسلمان محفوظ ہوں اور اَصلی مہاجر وہ ہے جس نے برائیوں کو چھوڑ دِیا ہو۔“

دوسری روایت میں فرمایا: اور قسم ہے اُس ذَات کی جس کے قبضہ قدرَت میں میری جان ہے! وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کا پڑوسی اُس کے شر سے محفوظ نہ ہو۔

اخوتِ اِسلامی کو نقصان پہنچانے وَالی چیزوں میں ایک دُوسرے کو حقیر جاننا اور اُس کا مذاق اُڑَانا بھی ہے۔ اِس لیے قرآنِ کریم نے اس سے بھی اِیمان وَالوں کو روکا ہے، اِرشادِ خداوندی ہے:
﴿ٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰٓی اَنْ یَّکُنَّ خَیْرًا مِّنْھُنَّ وَلَا تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ ط بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴾․(الحجرات:11)
ترجمہ:”اے ایمان وَالو! نہ تو مَردوں کی کوئی جماعت دُوسرے مردوں کی کسی جماعت سے مذاق کرے، کیا عجب ہے کہ جو لوگ مذاق اُڑَارہے ہیں اُن سے وہ لوگ بہتر ہوں جن کا مذاق اُڑَایا جارہا ہے اور نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا چاہیے، یہ ممکن ہے کہ جو عورتیں ہنسی اُڑَانے وَالی ہیں، اُن سے وہ عورتیں بہتر ہیں جن کی ہنسی اُڑَائی جارہی ہے اور نہ آپس میں ایک دُوسرے کو طعنہ دِیا کرو اور نہ ایک دُوسرے کو برے لقب سے پکارَا کرو۔ اِیمان لانے کے بعد فسق کا نام بہت برا ہے اور جو توبہ نہ کریں گے تو وہی لوگ ظلم کرنے وَالے ہوں گے۔“

اَگر دو مسلمان بھائیوں یا دو مسلمان جماعتوں میں اِختلاف اور جھگڑے کی صورَت پیدا ہوجائے تو مسلمانوں کو حکم دِیا گیا ہے کہ ان دونوں میں صلح کرانے کی کوشش کریں۔ اِرشادِ خداوندی ہے:
﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ﴾․(الحجرات:10)
ترجمہ:” اِیمان وَالے آپس میں بھائی بھائی ہیں، تم اَپنے بھائیوں میں صلح کرادِیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“

یعنی صلح اور جنگ کی ہر حالت میں یہ ملحوظ رہے کہ دو بھائیوں کی آپس کی لڑائی ختم ہوکر مصالحت میں بدل جائے، دُشمنوں اور کافروں کی طرح برتاوٴ نہ کیا جائے۔ جب دو بھائی آپس میں لڑ پڑیں تو یوں ہی اُن کو اُن کے حال پر نہ چھوڑَا جائے، بلکہ اِصلاح ذات البین کی پورِی کوشش کی جائے اور ایسی کوشش کرتے وَقت خدا سے ڈَرتے رہو کہ کسی کی بے جا طرف دَارِی یا اِنتقامی جذبہ سے کام لینے کی نوبت نہ آجائے۔

اللہ تعالیٰ اُمت اِسلامیہ کو بھائی بھائی بننے اور اس اخوت کے حقوق اَدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !

مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر
ماہنامہ الفاروق جمادی الاول 1438ھ (جامعہ فاروقیہ کراچی)


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں