آج : 8 October , 2016

دعوت دین کا حکیمانہ اسلوب

دعوت دین کا حکیمانہ اسلوب

دعوت کے دو بنیادی کردار ہیں: ایک داعی اور دوسرا مدعو۔ تا ہم دعوت کی کامیابی کا مکمل انحصار داعی کی ذات پر ہے کیونکہ دعوت کے مضامین خواہ کتنے ہی پرکشش کیوں نہ ہوں، اگر داعی کا طریقِ دعوت ڈھنگ کا نہیں ہے اور وہ مخالف کو حالات کے مطابق مختلف اسالیب اختیار کرکے بات سمجھانے کی قدرت نہیں رکھتا تو اس کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جو بات ایک پہلو سے سمجھ میں نہیں آتی، وہی بات جب دوسرے انداز سے سامنے آتی ہے تو دل میں اتر جاتی ہے۔ مبلغ کی کامیابی صرف اس بات میں ہے کہ دوست دشمن سبھی پکار اٹھیں کہ اس نے ابلاغ کا حق ادا کردیا ہے۔ قرآن مجید کی اصطلاح میں تصریف آیات اسی چیز کا نام ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
’’ وَكَذَلِكَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ وَلِيَقُولُوا دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَهُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ‘‘ (الانعام، ۶:۱۰۵)
’’اور اسی طرح ہم اپنی دلیلیں مختلف اسالیب سے پیش کرتے ہیں، تا کہ ان پر حجت قائم ہوجائے اور وہ بول اٹھیں کہ تم نے اچھی طرح پڑھ کر سنادیا اور تا کہ ہم جاننے والوں کے لیے اچھی طرح واضح کردیں‘‘۔
قرآن مجید کے اولین مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں، اس لیے قرآن مجید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے صحابہ کرام کو دعوت کے طریق کار اور اسالیب کی تعلیم دی۔ یہ ایک ایسی انفرادیت ہے جو اسلام کے علاوہ کسی بھی الہامی و غیرالہامی مذہب کو حاصل نہیں کہ اس نے اپنے پیروکاروں کو باقاعدہ دعوت و تبلیغ کے اصول پوری شرح و بسط سے بتائے ہوں۔ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
’’یہ نکتہ کہ کس طرح لوگوں کو سچائی کے قبول کرنے کی دعوت دینی چاہیے، دنیا میں پہلی دفعہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان وحی ترجمان سے ادا ہوا۔ وہ مذہب بھی جو الہامی اور تبلیغی ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں، یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کے صحیفوں نے ان کے لیے تبلیغ کے اہم اصول کی تشریح کی ہے لیکن صحیفہ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت اختصار لیکن پوری تشریح کے ساتھ اپنے پیروؤں کو یہ بتایا کہ پیغام الہی کو کس طرح لوگوں تک پہنچایا جائے اور ان کے قبولِ حق کی دعوت کس طرح دی جائے‘‘ (سیرت النبی، ۴؍۹۱)

قرآن مجید نے اپنے مخصوص معجزانہ اسلوب کے مطابق دعوت کے اصول ان الفاظ میں بیان فرمائے ہیں:
’’ ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ‘‘ (النحل، ۱۶:۱۲۵)
’’(اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ اور بہت ہی اچھے طریقے سے ان سے مناظرہ کرو‘‘
اس آیت مقدسہ میں دعوت دین کے تین بنیادی اصول بیان ہوئے ہیں: حکمت، موعظہ حسنہ اور مجادلہ بطریق احسن۔ اگر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ داعی اسلام کی حیثیت سے کیا جائے تو یہ بات بڑی واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت و تبلیغ کے فریضہ کو ادا کرتے وقت ان اصولوں سے سرِ مو انحراف نہیں کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ صحابہ کرام کے دعوتی کردار میں بھی انہی اصولوں کا غلبہ نظر آتا ہے۔ ایک غیر تربیت یافتہ داعی دعوتِ دین کے لیے کس قدر غیرموزوں ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے پیر محمدکرم شاہ الازہری رحمہ فرماتے ہیں:
’’ایک نادان اور غیرتربیت یافتہ مبلغ اپنی دعوت کے لیے اس دعوت کے دشمنوں سے بھی زیادہ ضرررساں ہوسکتا ہے۔ اگر اس کے پیش کیے ہوئے دلائل بودے اور کمزور ہوں گے، اگر اس کا اندازِ خطابت درشت اور معاندانہ ہوگا، اگر اس کی تبلیغ اخلاص و للہیت کے نور سے محروم ہوگی تو وہ اپنے سامعین کو اپنی دعوت سے متنفر کردے گا کیونکہ اسلام کی نشر و اشاعت کا انحصار تبلیغ اور فقط تبلیغ پر ہے۔ اس کو قبول کرنے کے لیے نہ کوئی رشوت پیش کی جاتی ہے اور نہ جبر و اکراہ سے کام لیا جاتا ہے بلکہ اللہ تعالی کے نزدیک وہ ایمان، ایمان ہی نہیں جس کے پس پردہ کوئی دنیوی لالچ یا خوف و ہراس ہو۔ اس لیے اللہ تعالی نے خود اپنے محبوب مکرم کو دعوت اسلامی کے آداب کی تعلیم دی‘‘۔ (ضیاء القرآن، ۲؍۶۱۷)

گویا دعوت کی کامیابی میں مرکزی کردار داعی کا ہے۔ داعی جس قدر تربیت یافتہ اور انسانی نفسیات کا عالم ہوگا، اسی قدر اس کی دعوت مؤثر ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مؤثر ہونے کی ایک اہم وجہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی کردار تھا تو تو دوسری بنیادی وجہ آپ کا اسلوب دعوت تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ مخاطبین کی ذہنی استعداد، میلانات، رجحانات اور ان کے خاندانی و علاقائی پسِ منظر کو سامنے رکھ کر دعوت کا کام کیا۔ سیرت طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی متعین طریقِ دعوت نہ تھا بلکہ مخاطبین دعوت کے تبدیل ہونے کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسلوب دعوت بھی تبدیل ہوجاتا تھا۔ ایک جاہل، ان پڑھ اور اجڈ مخاطب کو دعوت دینے کا انداز پڑھے لکھے اور شہر کے رہنے والے فرد سے مختلف ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت زندگی کا مطالعہ ہر داعی اسلام کے لیے اس حوالے سے دلچسپ بھی ہے اور قابل تقلید بھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ مخاطب کی صلاحیت کو پیش نظر رکھ کر اس کو دعوت پیش کی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے بعد لوگ مطمئن ہوکر واپس جاتے تھے۔
دعوت دین کا یہ وہ اسلوب ہے جو اللہ تعالی نے براہ راست اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دعوت دین کے ان ہی مختلف اسالیب کی تعلیم دی اور پھر صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات اور طرز عمل کو ہمیشہ پیش نظر رکھا۔ ابو وائل رضی اللہ سے روایت ہے:
’’عبداللہ بن مسعود لوگوں کو ہر جمعرات کو وعظ سنایا کرتے تھے۔ ایک شخص نے ان سے کہا: اے ابوعبدالرحمن! میری خواہش ہے کہ آپ روزانہ وعظ کیا کریں، تو انہوں نے فرمایا میں ایسا اس وجہ سے نہیں کرتا کہ کہیں تم پر بوجھ نہ بن جاؤں۔ میں بھی اسی طرح ناغہ کرکے تمہیں نصیحت سناتا ہوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو وقفہ کرکے نصیحت سنایا کرتے تھے تا کہ ہم بیزار نہ ہوجائیں‘‘۔
اس روایت سے بہر حال یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دعوت و تبلیغ میں ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اور طرزِ عمل کو پیش نظر رکھتے تھے۔ دعوت و تبلیغ میں دعوت کے پیش کرنے کا ڈھنگ اور اسلوب کس قدر اہمیت کا حامل ہے، اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی کسی داعی کو کسی قوم، قبیلے یا علاقے کی طرف روانہ فرمایا تو وہاں کے لوگوں کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کو دعوت کے کسی نہ کسی اسلوب کی بھی تعلیم ارشاد فرمائی۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

اصول تدریج کی تلقین
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ دعوت وتبلیغ میں تدریج کا لحاظ رکھا اور دوسرے مبلغین اسلام کو بھی اصولِ تدریج کی تلقین فرمائی۔ حکمتِ تبلیغ کے ضمن میں داعی کا فرض ہے کہ تدریج کے پہلو کو نظر انداز نہ کرے۔ تدریج کا مطلب یہ ہے کہ داعی یک بارگی شریعت کے تمام احکامات کا بوجھ مخاطب کی گردن پر نہ لادے بلکہ آہستہ آہستہ اس کے سامنے سارے احکام پیش کرے۔ تدریج کا یہ اصول فرد اور قوم دونوں کے لیے ضروری ہے۔ دین ایک نظام ہے اور اس نظام کو اگر حکیمانہ ترتیب سے پیش نہ کیا جائے تو مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوسکتے۔ اسی حقیقت کی طرف ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
’’قرآن میں سب سے پہلے جو چیز نازل کی گئی، وہ مفصل کی سورتوں میں سے ایک سورۃ ہے، جس میں جنت اور جہنم کا ذکر ہے۔ یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کے دائرے میں آگئے تب حلال و حرام کے احکام نازل ہوئے۔ اگر بالکل شروع ہی میں حکم آجاتاکہ شراب نہ پیو تو لوگ کہتے کہ ہم ہرگز نہ چھوڑیں گے اور اگر یہ حکم دیاجاتا کہ زنا نہ کرو تو لوگ کہتے ہم ہرگز زنا نہ چھوڑیں گے‘‘
(بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب تالیف القرآن، ح: ۴۹۹۳، ص: ۸۹۶)

اصول تدریج میں داعی احکام ترتیب کیا رکھے گا؟ اس کی وضاحت بھی خود زبانِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادی کہ سب سے پہلے توحید و رسالت کی دعوت دی جائے، اس کے بعد عبادات۔ عبادات میں بھی اہم پھر اہم کے اصول کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل کو جب یمن دعوت و تبلیغ کے لیے بھیجا تو ان الفاظ میں تلقین فرمائی:
’’تم عنقریب اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس پہنچو گے۔ جب تو ان کے پاس پہنچے تو سب سے پہلے انہیں یہ دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ جب وہ اس میں تیری اطاعت کرلیں تو ان کو بتاؤ کہ اللہ نے ان پر دن رات کی پانچ نمازیں فرض کی ہیں اور جب وہ تیری یہ بات مان لیں تو ان کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے صدقہ فرض کیا ہے۔ یہ صدقہ ان کے دولت مندوں سے لے کر ان کے غریبوں کو دیا جائے گا اور جب وہ اس کو تسلیم کرلیں تو دیکھو چن چن کر ان کا عمدہ مال نہ لے لینا اور وہاں مظلوم کی بد دعا سے ڈرتے رہنا کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں‘‘
(صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب بعث ابی موسی و معاذ الی الیمن، ح: ۴۳۴۷، ص: ۷۳۶۔
ایضاً ح: ۱۴۹۶، ۱۳۹۵، ۱۴۵۸، ۷۳۷۲۔ مسند احمد، مسند عبداللہ بن عباس، ح: ۲۰۷۲، ۱/۳۸۶)

رفق و نرمی کی تلقین
داعی دعوت کا کوئی بھی اسلوب اختیار کرے، جب تک وہ مخاطب سے نرمی اور خیرخواہی کے جذبہ سے بات نہیں کرے گا، اس کی دعوت مؤثر نہیں ہوگی۔ سختی اور شدت مخاطب کے دل میں نفرت اور عداوت کے جذبات پیدا کرتی ہے جس سے مخاطب اپنی ضد پر اڑ جاتا ہے۔ نتیجتاً دعوت کا سارا فائدہ اور نصیحت کا سارا اثر زائل ہوجاتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالی نے انبیاء کو اپنے بدترین مخالفین سے بھی نرم انداز میں گفتگو کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ چنانچہ جب اللہ تعالی نے حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کو فرعون جیسے باغی کے سامنے پیغام ربانی لے کر جانے کا حکم دیا تو یہ ہدایت بھی فرمائی:
’’ اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى * فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى ‘‘ (طٰہٰ، ۲۰: ۴۳،۴۴)
’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ، اس نے سرکشی کی ہے تو اس سے نرم گفتگو کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرے یا (اللہ سے) ڈرے‘‘۔
دعوت و تبلیغ میں رفق و نرمی کی اس سے بہتر مثال نہیں ہوسکتی کہ نہ انبیاء سے بہتر کوئی داعی ہوسکتا ہے اور نہ فرعون سے بڑھ کر کوئی سرکش اور باغی ہوسکتا ہے۔ اگر ایسے مجرم کے سامنے وعظ و نصیحت کرتے وقت نرمی اختیار کرنے کا حکم ہے تو عام مجرم اور گمراہ لوگوں سے تو کہیں بڑھ کر نرمی اختیار کرنی چاہئے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مبلغ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہمیشہ نرمی اختیار کرنے کا حکم فرمایا۔ حضرت طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی ہی قوم کی طرف مبلغ بنا کر بھیجا۔ چنانچہ وہ لوگوں کو مسلسل دعوت دیتے رہے لیکن قوم انکار کرتی رہی۔ بالآخر بارگارہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ قبیلہ دوس نے مجھے ہرادیا۔ میں نے ان کو بہت دعوت دی لیکن وہ ایمان نہیں لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے بددعا کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کرنے کے بجائے قبیلۂ دوس کے لیے یہ دعا فرمائی:
’’اللھم اھد دوسا، ارجع الی قومک فادعھم و ارفق بھم‘‘
’’اے اللہ دوس کو ہدایت عطا فرما (طفیل بن عمرو سے فرمایا) تم اپنی قوم کی طرف لوٹ جاؤ ان کو دعوت دیتے رہو لیکن ان کے ساتھ نرمی اختیار کرو‘‘۔
(ابن ہشام، ’’السیرۃ النبویۃ‘‘، ۴۲۲۱۔ ابن اثیر، ’’اسدالغابہ‘‘، تذکرہ طفیل بن عمرو، ۳/۵۵)

چنانچہ مآخذ سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلیم کردہ اسلوب کو اختیار کرنے کا نتیجہ انتہائی شاندار نکلا۔ کثیر لوگوں نے اسلام قبول کرلیا۔ ۷ھ میں جب حضرت طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے ساتھ قبیلہ دوس کے ستر یا اسی گھرانوں کے لوگ تھے۔ (ابن ہشام، قصۃ اسلام الطفیل بن عمرو الدوسی، ۱/۴۲۳۔ اسد الغابہ، تذکرہ طفیل بن عمرو، ۳/۵۵)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن مرہ الجہنی کو اپنے قبیلہ کی طرف دعوت دینے کے لیے بھیجا تو ان کو دعوت و تبلیغ کا یہ اسلوب تعلیم فرمایا:
’’علیک بالرفق و القول السدید، و لا تکن فظا و کا متکبرا و لا حسودا‘‘۔
’’نرمی سے پیش آنا، صحیح اور سچی بات کرنا، سخت کلامی اور بدخلقی سے پیش نہ آنا، تکبر اور حسد نہ کرنا‘‘۔
(ابن کثیر، ’’البدایۃ و النھایۃ‘‘، ۲/۳۵۱)
دعوت و تبلیغ میں حسن اخلاق اور نرمی کا اسلوب کس قدر مؤثر ہے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دعوت و تبلیغ کے لیے یمن روانہ فرمایا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بعض لوگوں کے ساتھ سختی کی جس کی وجہ سے چھ ماہ مسلسل کوشش کے باوجود بھی لوگوں نے اسلام قبول نہ کیا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو واپس بلا لیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بطور مبلغ روانہ فرمایا۔ ابن اثیر کا بیان ہے:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور ان سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم خالد بن ولید کو یمن دعوت و تبلیغ کے لیے بھیج چکے تھے لیکن ان لوگوں نے اسلام قبول نہ کیا۔ لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو روانہ کرتے وقت نصیحت کی کہ وہ خالد اور ان کے اصحاب کی وجہ سے (اہل یمن کے ساتھ) ہونے والی بدسلوکی اور نقصان کا تاوان ادا کریں (ان لوگوں سے نرمی کریں) چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھ کر سنایا تو قبیلۂ ہمدان سارے کا سارا ایک ہی دن میں مسلمان ہوگیا۔‘‘ (الکامل فی التاریخ، ۲/۲۰۵)
وہ لوگ جو چھ ماہ سے قبول اسلام سے انکاری تھے، جب ان کے ساتھ نرمی کا اسلوب اختیار کیا گیا تو انہوں نے فوراً اسلام قبول کرلیا۔ ان چند روایات سے نرمی کے اسلوب کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

ترغیب و ترہیب کی تلقین
حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنی حارث بن کعب کے وفد کی واپسی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم الانصاری کو ان کا والی مقرر کیا تا کہ ان سے زکوۃ و صدقات کی وصولی کے ساتھ ساتھ ان کو اسلامی تعلیمات سے بھی روشناس کرائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم کو بنی حارث کی طرف ایک طویل مکتوب دے کر روانہ فرمایا جس میں ان کو اسلامی احکام کی تبلیغ کا حکم فرمایا اور اس کے ساتھ ان کو دعوت میں ترغیب و ترہیب کا انداز اختیار کرنے کا بھی حکم دیا:
’’و یبشر الناس بالجنۃ و بعملھا، و ینذر الناس النار و عملھا و یستألف الناس حتی یفقھوا فی الدین‘‘
’’لوگوں کو جنت کی بشارت دیں اور اس کے اعمال سے آگاہ کریں، دوزخ سے ڈرائیں اور اس کے اعمال سے متنبہ کریں۔ لوگوں کے ساتھ نہایت اخلاق سے پیش آئیں تا کہ وہ ارکانِ دین کو اچھی طرح سمجھ لیں‘‘
(ابن ہشام، اسلام بنی الحارث بن کعب ۴/۲۵۰۔ تاریخ الامم و الملوک، ۳/۱۵۷ (واقعات ۱۰ھ) ابن ہشام، اسلام بنی الحارث بن کعب، ۴/۲۴۹)
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے، جن کو بنی حارث کی طرف تبلیغی مہم پر بھیجا گیا تھا، بذریعہ خط اپنی کامیابی کی اطلاع بھیجی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مزید تبلیغ جاری رکھنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی یہ تلقین بھی فرمائی:
’’فبشّرھم و انذرھم‘‘
’’تم ان کو جنت کی خوشخبری دو اور ان کو دوزخ سے ڈراؤ‘‘
)ابن ہشام، اسلام بنی الحارث بن کعب،۴/۲۴۹)

موقع و محل کا لحاظ رکھنے کی تلقین
ہر داعی اسلام کے لیے ضروری ہے کہ وہ دیکھے کہ کیا دعوت و تبلیغ کے لیے یہ وقت امور موقع مناسب ہے کیونکہ اگر مخاطب اعتراض اور نکتہ چینی کی طرف مائل ہو تو جذبے کی سچائی اور اندرونی لگن کے باوجود داعی کی دعوت غیر مؤثر ہوگی۔ اس وقت مناسب یہ ہوگا کہ داعی بحث کو بڑھانے کے بجائے وہیں ختم کرکے وہاں سے ہٹ جائے اور کسی مناسب موقع کا انتظار کرے۔ جب کسی دوسرے موقع پر مخاطب کا ذہن نکتہ چینی کی طرف مائل نہ ہو تو پھر اس کے سامنے حق کو پیش کرے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
’’ وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ‘‘ (الانعام، ۶: ۶۸)
’’جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیات میں نکتہ چینی کررہے ہیں تو ان سے اعراض کرو یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔‘‘
اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موقع بے موقع دعوت و تبلیغ جیسے نازک کام سے منع کیا ہے جب مخاطب کسی کاروبار یا ایسی دلچسپی میں منہمک ہو جس کو چھوڑ کر دعوت حق کی طرف متوجہ ہونا اس کی طبیعت پر گراں گزرے۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں مخاطب داعی کی بات کو کبھی بھی دل کی گہرائیوں اور حقیقی جذبے سے نہیں سنے گا جو دعوت کی کامیابی کا سب سے لازمی عنصر ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تلقین فرمائی کہ وہ دعوت و تبلیغ کے جوش میں ہر مجلس میں نہ گھس جایا کریں بلکہ پہلے حالات کا جائزہ لیں۔ اگر دعوت کے لیے ماحول سازگار ہوتو دعوت دیں ورنہ مناسب وقت کا انتظار کریں۔

آسانی اور سہولت کی تلقین
دین کی جائز آسانی اور سہولت کو پیش نظر رکھنا، دین کو درشت اور مشکل نہ بنانا اس کی قبولیت کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام مسلمانوں کے لیے ہمیشہ آسانی اور سہولت کے پہلو کو پیش نظر رکھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرزِ عمل کے متعلق ارشاد فرماتی ہیں:
’’ما خیّر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بین امرین الا أخذ ایسرھما ما لم یکن اثما، فان کان اثما کان ابعد الناس منہ، و ما انتقم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لنفسہ الا ان تنتھک حرمۃ اللہ فینتقم للہ بھا‘‘
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی دو امور میں اختیار نہیں دیا گیا مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے آسان کو اختیار کیا بشرطیکہ اس میں گناہ نہ ہو۔ اگر گناہ ہو تو اس سے تمام انسانوں سے زیادہ دور ہوتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا مگر جبکہ اللہ کی حرمت مجروح ہو تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے لیے انتقام لیتے۔‘‘
(الموطأ، کتاب حسن الخلق، باب ما جاء فی حسن الخلق، ح: ۶۹۰، ص: ۵۵۵۔ صحیح مسلم، ح: ۶۰۴۵۔ صحیح البخاری، ح: ۶۱۲۶)
انسان طبعاً سہولت پسند ہے اس لیے داعی کا فرض ہے کہ وہ دین کو مشکلات کا مجموعہ نہ بنائے بلکہ جہاں تک ممکن ہو، دینی زندگی کو لوگوں کے لیے آسان بنا کر پیش کرے۔ دینی معاملات میں تشدد پسندی اور سختی سے حتی الوسع پرہیز کرے اور اگر کسی سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو جو حل سب سے آسان ہو، اس کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے اس کی بے شمار مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
’’ایک دیہاتی مسجد میں آیا، اس نے دو رکعتیں ادا کیں پھر کہنے لگا: اے اللہ مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر نہ فرما۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توجہ فرمائی اور فرمایا: تو نے وسیع چیز کو تنگ کردیا۔ پھر اس نے جلدی سے مسجد میں پیشاب کردیا۔ لوگ اس کی طرف (مارنے کی خاطر) دوڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں آسانی کرنے والا بنایا گیا ہے، مشکل پسند نہیں۔ اس پر پانی کا ایک ڈول بہادو‘‘
(صحیح البخاری، کتاب الوضوء، باب یصیب الماء علی البول فی المسجد، ح: ۲۲۰، ص: ۴۱۔ ایضاً، کتاب الادب، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم یسروا و لاتعسروا، ح: ۶۱۲۸، ص: ۱۰۶۸۔ صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب وجوب غسل البول و غیرہ: ۶۶۱، ص: ۱۳۳۔ جامع الترمذی، کتاب الطہارۃ، باب ما جاء فی البول یصیب الارض، ح: ۱۴۷، ص: ۴۱۔ سنن ابی داؤد، کتاب الطہارۃ، باب الارض یصیب البول، ح: ۳۸۰، ص: ۶۶۔ سنن نسائی، کتاب الطہارۃ، باب ترک التوقیت فی الماء، ح: ۵۶، ص: ۷)

جہالت یا عدم واقفیت ایک مرض ہے۔ اسے ایک قسم کی معذوری سمجھ کر ازالے کی کوشش کرنا ہی انسانیت کی خدمت ہے لیکن اس سے اظہارِ نفرت و انتقام گویا اس کی اصلاح کے تمام راستے بند کرنے والی بات ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’عن انس رضی اللہ عنہ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: خیر دینکم ایسرہ، و خیر العبادۃ الفقہ‘‘
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا دین آسان ہے اور اچھی عبادت دینی بصیرت حاصل کرنا ہے‘‘
(ابن عبدالبر، جامع بیان العلم و فضلہ، باب تفصیل العلم علی العبادۃ، ۱/۲۱)
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ بن جبل اور ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہما کو یمن میں دعوتی مہم پر روانہ فرمایا تو ان کو اسی اسلوب دعوت کی تقلین ان الفاظ میں فرمائی:
’یسرا و لا تعسرا، و بشرا و لا تنفّرا‘‘
’’دین کو آسان بنا کر پیش کرنا سخت بنا کر پیش نہ کرنا، لوگوں کو خوشخبری سنانا نفرت نہ دلانا‘‘
(ابن ہشام، وصیۃ الرسول معاذا حین بعثہ الی الیمن، ۴/۲۴۶)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اگر کبھی دینی معاملات میں اعتدال سے ہٹ کر تشدد کی راہ اپنائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی سختی سے منع فرمایا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت معاذ بن جبل نے ایک مرتبہ انصار کو نمازِ مغرب پڑھائی اور قرأت کو خوب طویل دیا۔ حضرت حازم انصاری رضی اللہ عنہ نہ ٹھہر سکے اور اپنی علیحدہ نمازپڑھ کر چل دیے۔ حضرت معاذ بن جبل ان سے سخت ناراض ہوئے۔ حضرت حازم رضی اللہ عنہ بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ معاذ ہمیں بہت طویل نماز پڑھاتے ہیں جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ سے مخاطب ہوکر فرمایا:
’’یا معاذ! أفتّان أنت؟ أفتان أنت؟ اقرأ بکذا، اقرأ بکذا‘‘
’’اے معاذ! کیا تم فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟ اے معاذ لوگوں پر تخفیف کرو‘‘
(سنن ابی داؤد، کتاب الصلوۃ، باب تخفیف الصلوۃ، ح: ۷۹۰، ص: ۱۲۳۔ اسد الغابہ، تذکرہ حازم انصاری، ۱/۳۶۰)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثقیف پر حضرت عثمان بن ابی العاص کو امیر مقرر کرکے روانہ فرمایا۔ وہ خود فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جو آخری عہد لیا، وہ یہ تھا:
’’یا عثمان! تجاوز فی الصلوۃ، و اقدر الناس باضعفھم، فان فیھم الکبیر و الصغیر و الضعیف و ذا الحاجۃ‘‘
’’اے عثمان! نماز ہلکی رکھنا اور لوگوں میں ان کے سب سے زیادہ ضعیف آدمی کو معیار بنانا، کیونکہ (نماز پڑھنے والے) لوگوں میں بڑے بھی ہوتے ہیں اور چھوٹے بھی، ضعف بھی ہوتے ہیں اور صاحب ضرورت بھی‘‘
(ابن ہشام، امر وفد ثقیف و اسلامھا، ۴/۱۹۵، اسد الغابۃ، تذکرہ عثمان بن ابی العاص، ۳/۳۷۲)
شاہانِ حمیر نے قاصد کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اسلام لانے کی اطلاع بھیجی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف چند صحابہ کو محاصل جمع کرنے اور دعوت و تبلیغ کے لیے روانہ فرمایا، ان لوگوں میں حضرت معاذ بن جبل بھی تھے۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی کے وقت ان سے عہد لیا اور سہولت اور آسانی کا اسلوب اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:
’’یسّر و لا تعسّر، و بشّر و لاتنفّر، و انک ستقدم علی قوم من اھل الکتاب، یسئلونک ما مفتاح الجنۃ؟ فقل شھادۃ ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ‘‘
’’آسانی پیدا کرنا، دشواری پیدا نہ کرنا، خوش رکھنے والی باتیں کرنا، نفرت دلانے والی باتیں نہ کرنا، تم اہلِ کتاب کے کچھ لوگوں کے پاس جارہے، وہ تم سے پوچھیں گے جنت کی کنجی کیا ہے؟ تو تم کہنا: اس بات کی گواہی دینا کہ خدائے واحد کے سوا اور کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے‘‘۔
(ابن ہشام، وصیۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم معاذا حین بعثہ الی الیمن، ۴/۲۴۶)

حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
’’ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں تو فلاں شخص کی وجہ سے فجر کی نماز سے پیچھے رہ جاتا ہوں (با جماعت ادا نہیں کرسکتا)، کیونکہ وہ بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے‘‘۔
راوی کا بیان ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وعظ کے دوران کبھی اس قدر غصے میں نہیں دیکھا جتنا اس دن ہوئے۔ پھر فرمایا:
’’یا ایھا الناس! ان منکم منفرین، فایکم ما صلی بالناس فلیوجز، فان فیھم الکبیر و الضعیف و ذا الحاجۃ‘‘
’’اے لوگو! تم میں کچھ لوگ نفرت پھیلانے والے ہیں، جو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے وہ مختصر (قرأت و غیرہ) کرے، ان میں بوڑھے، کمزور اور کام والے بھی ہوتے ہیں‘‘۔
(صحیح البخاری، کتاب الاحکام، باب ہل یقضی القاضی اور یفتی و ہو غضبان؟ ح: ۷۱۵۹، ص: ۱۲۳۲۔ ایضاً، کتاب الاذان، باب تخفیف الامام فی القیام، ح: ۷۰۲، ۷۰۴، ۹۰، ۶۱۱۰۔

مخاطب کی ذہنی استعداد کا لحاظ رکھنے کی تلقین
دعوت و تبلیغ میں حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ داعی مخاطب کی ذہنی استعداد کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنی دعوت پیش کرے۔ اگر داعی عام مخاطب کی ذہنی استعداد کو نظر انداز کرتے ہوئے منطقی استدلال اور فلسفیانہ بحثیں شروع کردے یا کسی صاحب علم اور دانشور شخص کو دعوت دیتے وقت گفتگو کا غیرعلمی اور غیر عقلی اسلوب اختیار کرے، تو اس صورت میں دعوت کے مؤثر ہونے کی توقع رکھنا فضول ہے۔ اس لیے داعی کا فرض ہے کہ وہ مخاطب کی ذہنی استعداد اور نفسی کیفیات کا لحاظ کرتے ہوئے دعوت کا فریضہ ادا کرے۔ داعی در حقیقت ایک بے مثال استاد اور مربی کی طرح ہے جو سامع کا نفساتی جائزہ لیتے ہوئے اس کے ذہنی پس منظر، اس کی استعداد اور اس کے مزاج کو سامنے رکھ کر بات کرتا ہے۔ وہ ایک بدوی اور شہری، پڑھے لکھے اور ان پڑھ، اور عقل و تجربہ کے مختلف مدارج رکھنے والے انسانوں سے مختلف طریقوں اور اسالیب سے گفتگو کرتا ہے۔ خود داعی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ مخاطب کے ذہنی معیار کی رعایت فرمائی۔ اس لیے ہر شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطمئن ہوتا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب کی ذہنی استعداد کا لحاظ رکھتے ہوئے عمدہ مثالوں اورروزمرہ کے مشاہدات سے اس انداز میں استدلال فرماتے کہ بات سامع کے دل و دماغ میں اترتی چلی جاتی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
’’ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میری بیوی نے سیاہ بچے کو جنم دیا ہے اور میں اس کو پسند نہیں کرتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا ان میں سے کوئی سیاہی مائل بھی ہے؟ اس نے کہا: ہاں سیاہی مائل بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کہاں سے آگیا؟ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! شاید ان کی کہیں اصل نسب میں ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید یہ بھی کہیں اصل نسب میں ہوگا‘‘۔
(صحیح البخاری، کتاب الطلاق، باب اذا عرض بنفی الولد، ح: ۵۳۰۵، ص: ۹۴۸۔ ایضاً، کتاب الحدود، باب ما جاء فی التعریض، ح: ۶۸۴۷، ص: ۱۱۸۰۔ ایضاً، کتاب الاعتصام بالکتاب و السنۃ، باب من شبہ أصلاً معلوماً، ح: ۷۳۱۴، ص: ۱۲۵۹۔ صحیح مسلم، کتاب اللعان، ح: ۳۷۶۸، ص: ۶۵۲)
چنانچہ وہ بدو بالکل مطمئن ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی یہی تلقین فرمائی کہ وہ لوگوں کی عقل اور ذہنی استعداد کے مطابق دعوت دیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہتے ہیں:
’’أمرنا ان نکلّم الناس علی قدر عقولھم‘‘
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم لوگوں کی ذہنی استعداد کے مطابق بات کریں‘‘
(منتخب کنزالعمال، کتاب الاخلاق، باب فی الاخلاق المحمودۃ، ح: ۸۵۰۳، ۴/۷۰)

مخاطب کے مقام و مرتبہ کا لحاظ رکھنے کی تلقین
داعی کا فرض ہے کہ وہ ممکن حد تک مخاطب کے معاشرتی و سیاسی مقام و مرتبہ کا لحاظ رکھے۔ کیونکہ ایسے لوگ عزت افزائی کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں۔ اگر داعی ان کے مقام و مرتبہ کو نظرانداز کرے گا تو ممکن ہے کہ شیطان اسے گمراہ کردے اور اسے حق بات سننے سے روک دے۔ اس لیے داعی حق کو چاہئے کہ وہ ایک خاص حد تک ان کی اس کمزوری کا لحاظ رکھے تا کہ قبول حق میں ان کے پانے نفس کی مزاحمتوں کے سوا داعی کی طرف سے کوئی جدید مانع پیدا نہ ہوجائے۔
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفود عرب، جو عام طور پر قبائلی رؤسا اور سرداروں پر مشتمل ہوتے تھے، کی پیشوائی فرماتے، ان کے احترام کے لیے کھڑے ہوتے اور ان کی عزت افزائی فرماتے، چنانچہ کئی وفود جو محض معاہدہ صلح کے لیے بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسنِ اخلاق اور عزت افزائی سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اسلام قبول کرلیا۔ مثلاً وفدِ اشجع معاہدہ صلح و امن کے لیے آیا تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسنِ اخلاق سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرلیا۔ (ابن سعد، ’’الطبقات الکبری‘‘، وفدِ اشجع، ۱/۳۰۶) اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بھی اسی نہج پر تربیت فرمائی اور ان کو حکم دیا کہ وہ لوگوں سے ان کے مقام و مرتبہ کے مطابق سلوک کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’’انزلوا الناس منازلھم‘‘
’’لوگوں سے ان کی قدر و منزلت کے مطابق پیش آؤ‘‘
(سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی تنزیل الناس منازلھم، ح: ۴۸۴۲، ص: ۶۸۴)
مخاطب کے مقام و مرتبہ کا لحاظ رکھنے اور دعوت کو نرم انداز میں پیش کرنے کا جو حکم ہے اس کا جواز فقط اسی حد تک ہے جہاں تک حق کے وقار کو ٹھیس نہ پہنچے، اگر اس اسلوب کو اختیار کرنے سے دعوت حق کا وقار مجروح ہونے کا اندیشہ ہو تو داعی کو ایسے تمام طریقوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔

اعجاز و اختصار کی تلقین
داعی کے لیے اس امر کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے کہ دعوت کی فضول تکرار اور بے فائدہ طول بیان کہیں لوگوں کو دعوت کے مضامین ہی سے متفرقہ کردے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے نہایت مختصر ہوا کرتے تھے اور بعض روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ کے اختصار کو خطیب کی دانش مندی کی علامت قرار دیتے ہوئے فرمایا:
’’ان من البیان سحراً‘‘
’’بعض خطبے جادو ہوتے ہیں‘‘
(سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب ما جاء فی الشعر، ح: ۵۰۱۱، ص: ۷۰۵)
اس حدیث میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر داعی کا خطبہ مختصر، جامع اور بلیغ ہوگا تو وہ جادو کی طرح اثر کرے گا۔ جبکہ طویل خطبہ نہ صرف سامع کی طبیعت کو کند کردے گا بلکہ دعوت کو قبول کرنے کی حس اور صلاحیت کو بھی ختم کردے گا۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت و تبلیغ میں ہمیشہ اختصار سے کام لیا نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بھی اسی نہج پر تربیت فرمائی۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’أمرنا رسول اللہ باقصار الخطب‘‘
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ میں اختصار کا حکم فرمایا ہے‘‘۔
(سنن ابی داؤد، کتاب الصلوۃ، باب اقصار الخطب، ح: ۱۱۰۶، ص: ۱۶۶)
حضرت عمار بن یاسر نے ایک دفعہ خطبہ دیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں اختصار سے کام لیا۔ قبیلۂ قریش کے ایک شخص نے کہا اگر آپ کچھ مزید فرماتے تو بہتر تھا، آپ نے جواب دیا:
’’ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نھی ان نطیل الخطبۃ‘‘
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں طویل خطبے سے منع فرمایا ہے‘‘
(المسند، حدیث عمار بن یاسر، ح: ۱۸۴۱۰، ۵/۴۱۹)

جبر و اکراہ سے اجتناب کی تلقین
اسلام کو جملہ الہامی و غیر الہامی مذاہب میں اس لحاظ سے انفرادیت حاصل ہے کہ اس نے اپنی ترویج و اشاعت کے با قاعدہ اصول بیان کیے ہیں اور کھل کر اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ دین ایسی چیز نہیں جس کو زبردستی کسی پر ٹھونسا جائے کیونکہ دین اسلام کا اولین جزو ایمان ہے اور ایمان نام ہے یقین کا۔ دنیا کی کوئی طاقت کسی کے دل میں یقین کا ایک ذرہ بھی زبردستی پیدا نہین کرسکتی۔ اس لیے قرآن کا واضح حکم ہے:
’’ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ‘‘ (البقرہ، ۲: ۲۵۶)
’’دین میں زبردستی نہیں ہے، تحقیق ہدایت گمراہی سے الگ ہوچکی ہے‘‘۔
دعوت دین کا یہ وہ اسلوب ہے جس کو نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اختیار فرمایا بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس کی تلقین فرمائی چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عمرو بن حزم کو بنو حارث بن کعب کی طرف دعوت و تبلیغ اور صدقات کی وصولی کے لیے روانہ فرمایا تو ان کو ایک تحریر لکھ کردی جس میں یہ ہدایت واضح طور پر درج تھی:
’’۔۔۔ و أنہ من اسلم من یھودی اور نصرانی اسلاما خالصا من نفسہ، و دان بدین الاسلام، فانہ من المومنین، لہ مثل ما لھم، و علیہ مثل ما علیھم، و من کان علی نصرانیتہ أو یھودیتہ فانہ لا یرد عنھا‘‘
’’۔۔۔اور جو یہودی یا نصرانی اپنی طرف سے مخلصانہ اسلام لے آئے اور دین اسلام کو اپنا دین بنالے، وہ مومنون میں شمار ہوگا، اس کے وہی حقوق ہوں گے جو مومنوں پر ہوں گے اور جو اپنی یہودیت یا نصرانیت سے پر قائم رہے گا اسے اس یہودیت یا نصرانیت سے پھیرانہ جائے گا‘‘
(ابن ہشام، اسلام بنی الحارث بن کعب، ۴/۲۵۱)

خلاصۂ بحث
مخاطبین دعوت دو چیزوں سے فوری طور پر متاثر ہوتے ہیں: ایک داعی کا ذاتی کردار اور دوسرا اس کا بات کرنے کا اندازہ کہ وہ کس انداز میں اپنی دعوت کو لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اس لیے ایک داعی کا صرف یہی فرض نہیں کہ وہ لوگوں کے سامنے حق کو بیان کردے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ وہ مضامین دعوت کو لوگوں کے سامنے اس طریقے سے پیش کرے اور بات اس پیرائے میں کرے کہ ان پر حق پوری طرح آشکار ہوجائے اور بات ہر خاص و عام کی سمجھ میں آجائے اور جن لوگوں کے دلوں میں قبولِ حق کی کچھ بھی صلاحیت اور تڑپ ہے، وہ اس کو قبول کرلیں۔ اس مقصد کے حصول کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ دعوت کی زبان انتہائی مؤثر، داعی کا طرز کلام فطری اور اس کا اسلوب دل نشین ہو۔
ایک داعی کا کام یہ نہیں کہ وہ ایک مؤرخ کی طرح واقعات کو بیان کردے بلکہ اس کا کردار ایک صحافی، فلسفی اور مقنّن سے بالکل مختلف ہے۔ ایک طرف تو اس کا موضوع اتنا وسیع ہے کہ زندگی کے تمام معاملات اس کے تحت آجاتے ہیں اور دوسری طرف اس کے مخاطبین میں مزاج اور طبیعت کے لحاظ سے فرق ہوتا ہے اور ان کی ذہنی استعداد بھی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اس لیے داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ مخاطب کی صلاحیتوں کے اس اختلاف کو پیش نظر رکھ کر بات کرے، اور مخاطبین کے مذاق اور رجحان طبع کا لحاظ کرتے ہوئے دعوت کے مختلف اسالیب اختیار کرے اور اس کی طرف مختلف سمتوں سے آئے کہ نہ صرف اس پر حق واضح ہوجائے بلکہ اس پر اتمام حجت بھی ہوجائے۔ اگر داعی دعوت کا ایک ہی متعین اسلوب اختیار کرے گا تو اس کی ناکامی نوشتۂ دیوار ہے۔ کیونکہ اس کی یہ یک رنگی اس فطرت کے بالکل خلاف ہے جو اللہ تعالی نے ہر فرد میں طبیعتوں اور صلاحیتوں کے اختلاف کے ساتھ رکھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی دعوتی زندگی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے دعوتِ دین کا کوئی متعین اسلوب اختیار نہیں کیا بلکہ مخاطب کے حالات کا لحاظ رکھتے ہوئے جو مناسب جانا، اس اسلوب اور انداز کو اختیار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اسلوب دعوت کی جو تلقین کی، اس میں بھی جو تنوع ہے، وہ مخاطبین دعوت کی اعتبار ہی سے ہے۔
داعی کا کام مدعو کے ذہن کو بالکل تبدیل کرکے رکھ دینا ہے، اس لیے یہ کام اس قدر آسان نہیں۔ اس کے لیے داعی کا صاحب علم ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم ہونا بھی ضروری ہے۔ دعوت حق میں حکیمانہ اندازِ تخاطب کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالی نے حکمت کے سارے اصول پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوتی زندگی میں ان اسالیب کو اختیار کرکے ایک مثال قائم کی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بھی اسی نہج پر تربیت فرمائی۔ دعوت کے اصول اور اسلوب کو اتنی وضاحت کے ساتھ بیان کردینا امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی خصوصیت ہے جس میں دنیا کا کوئی مذہب ، چاہے وہ الہامی ، اسلام کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ قرآن نے خود دعوت کے اصول اور اسلوب کو بیان کیا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل کرکے ایک عملی مثال قائم فرمائی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماننے والوں کو بھی ان کی تلقین اور ہدایت فرمائی جیسا کہ گذشتہ سطور میں اس کا مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

بقلم پروفیسر محمد اکرم
بشکریہ ماہنامہ الشریعہ، اکتوبر ۲۰۰۲ء


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں