برطانوی الیکشن مہم مسلمانوں کیخلاف پروپیگنڈہ مہم بن گئی

برطانوی الیکشن مہم مسلمانوں کیخلاف پروپیگنڈہ مہم بن گئی
uk_electionلندن(اردو ٹائمز) برطانیہ میں انتخابی مہم کا رخ مسلمانوں کیخلاف نسلی اور مذہبی تعصب بھڑکانے کی تحریک بن گئی ہے دائیں بازو کے انتہا پسند اور نسل پرست انتخابی مہم کی آڑ میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نفرت کی آگ کو ہوا دے رہے ہیں ۔

برطانیہ میں مسلم تنظیموں کے اتحاد مسلم کونسل آف لبریشن نے نفرت اور تعصب پھیلانے کے اس عمل کو انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں مذہبی اور نسلی منافرت کی ایسی مہلک فضا پیدا کی جا رہی ہے جو برطانیہ کے روا دار معاشرے کو تباہ کر کے رکھ د یگی ۔ مسلمانوں کی اس آواز میں برطانیہ کی دیگر جماعتوں نے بھی اپنی آواز شامل کی ہے جن میں نمایاں یہود یوں کی تنظیموں کے اتحاد بورڈ آف ڈیپوٹیز آف برٹش جیوز، چرچ آف انگلینڈ سٹی، ہند و اور سکھ نیٹ ورک بھی شامل ہیں۔ 11 ستمبر 2001ءکے بعد سے برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف اور خاص طور پر پاکستانیوں کے خلاف نفرت کی مہم میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اس کا ثبوت دائیں بازو کی نسل پرست جماعتوں کی غیر معمولی مقبولیت اور بڑھتا ہوا اثر ہے ۔ نتیجہ اس کا گزشتہ سال یورپی پارلیمنٹ کے الیکشن میں نسل پرست جماعت برٹش نیشنل پارٹی کی کامیابی کی صورت میں ظاہر ہوا پہلی بار برٹش نیشنل پارٹی کو اس الیکشن میں دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی ۔
اسی باعث بی این پی کا حوصلہ بڑھا اور اس نے عام انتخابات میں 339 امیدواروں کو ٹکٹ دئیے۔ 2005ء کے مقابلہ میں امیدواروں کی یہ تین گنا زیادہ تعداد ہے۔ ان انتخابات میں بی این پی کو صفر اعشاریہ پانچ فیصد ووٹ ملے تھے اور اس کا کوئی امید وار منتخب نہ ہو سکا تھا۔ البتہ 2006ءکے بلد یا تی الیکشن میں بی این پی نے اپنی نشستیں د گنی کر لیں ۔ لندن میئر کے الیکشن میں بھی بی این پی نے 5.2 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ بی این پی کے سربراہ نک گرفین اس مرتبہ لندن کے مضافاتی حلقے بارکنگ سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ۔ انہوں نے اس علاقے کا انتخاب جان بوجھ کر کیا ہے، تاکہ وہ انہی انتخابی مہم کے د وران مسلمانوں اور پاکستانیوں کے بارے میں زہر آلود پروپیگنڈ کر سکیں۔ بی این پی کی پالیسی واضح طور پر اسلام اور مسلمانوں کیخلاف ہے۔ برطانوی شہریوں کو پارٹی برطانیہ میں شریعت کے نفاذ کے اندیشہ سے خوفزدہ کرتی رہتی ہے بی این پی تمام غیر ملکی تارکین وطن کے بھی خلاف ہے۔ مسلسل یہ خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر غیر ملکی تارکین وطن کی آمد کا سلسلہ جاری رہا تو 60 سال بعد انگریز خود اپنے وطن میں اقلیت بن کر رہ جائیں گے۔ اسی بناء پر بی این پی کا موقف ہے کہ برطانیہ کا سفید فام تشخص برقرار رکھنے کیلئے تمام غیر ملکی تارکین کو برطانیہ سے نکال دیا جائے۔ پارٹی کے منشور میں لکھا ہے کہ برطانیہ کو جو اہم مسائل درپیش ہیں ان میں غیر ملکی تارکین کا حملہ ، اسلام سے برطانیہ کی سلامتی کو خطرہ اور برطانیہ کی حاکمیت کو پوری یونین سے خطرہ ہے۔ بی این پی نے افغانستان سے برطانوی فوجیوں کی فوری واپسی اور ایران جنگ میں شمولیت اختیار نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بی بی سی کی طرف سے بی این پی کو انتخابی نشریات میں موقع فراہم کرنے پر بھی شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔ بی بی سی کا موقف ہے کہ الیکشن میں مناسب امیدواروں کی وجہ سے نسل پرست جماعت کو موقع دیا گیا، تاہم اس فیصلہ کیخلاف بی بی سی کے دفاتر کے باہر مختلف تنظیموں نے مظاہرے کئے۔ جن میں اینٹی فاشسٹ لیگ، مسلمانوں اور دیگر عقائد کے لوگوں نے بھر پور شرکت کی۔ بعض عیسائی پیشواﺅں نے ایک نیا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔
آرچ بشپ لارڈ کیری کی سربراہی میں متعدد رہنماﺅں نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ میں عیسائی براد ری سے امتیازی سلوک کر کے تفریق کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ٹیلی گراف نے ان رہنماﺅں کا ایک خط شائع کیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں اب عیسائی عقیدہ کا احترام نہیں کیا جاتا اور ان کے عقیدہ کی بناء ملازمتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں ان سے تفریق برتی جاتی ہے ۔ بعض کاروباری اداروں میں عیسائیوں کو صلیب پہننے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ انہوں نے عیسائیوں کیلئے الگ عدالتوں کے قیام کا بھی مطالبہ کیا۔ عیسائی رہنماﺅں کے مطالبات دراصل برطانیہ میں اسلام کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار ہے۔ بہت سے لوگوں کو اس بات پر سخت حیرت ہے کہ ایک طرف برطانیہ میں مسلمانوں کیخلاف نفرت بڑھ رہی ہے، لیکن دوسری طرف انگیریزوں میں اسلام سے متعلق دلچسپی بڑھ رہی ہے اور بڑی تعداد میں لوگ گہرے مطالعہ کے بعد اسلام قبول کر رہے ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ د س برس میں صرف برطانیہ میں ایک لاکھ سے زائد عیسائیوں نے اسلام قبول کیا۔ بہر حال تارکین وطن کی کٹر د شمن جماعت برٹش نیشنل پارٹی کیلئے برطانیہ کے مالدار افراد کی نئی فہرست بلاشبہ سخت تشویش کا باعث ہو گی۔ اس فہرست کے مطابق بھارت کے لکشمی چھٹے سال بھی برطانیہ کے مالدار ترین شخص ہیں ۔ ان کی دولت پچھلے ایک برس میں د س ارب اسی کروڑ پاﺅنڈ سے بڑھ کر 22 ارب 45 کروڑ پاﺅنڈ ہو چکی ہے۔ دوسرے نمبر پر بھی ایک غیر ملکی مالدار ترین شخص ہیں ۔ یہ روسی رومن ابراہمووچ ہیں ، جن کی دولت اس وقت سات ارب 60 کروڑ پاﺅنڈ ہے ۔ یہ عجب بات ہے کہ اقتصادی بحران کے باوجود برطانیہ کے ایک ہزار مالدار ترین افراد کی دولت میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ ان کی مجموعی دولت 77 ارب پاﺅنڈ سے بڑھ کر 333 ارب 50 کروڑ پاﺅنڈ ہو گئی ہے اور ارب پتیوں کی تعداد میں 10 کا اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد اب 53 ہو چکی ہے۔

آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں