مولانا عبدالحمید:

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 16 اکتوبر 2026ء کو زاہدان میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جمہوریہ آذربائیجان کی حکومت کی جانب سے ملک کے اسکولوں میں حجاب اور اسکارف پہننے پر پابندی کے حالیہ حکم پر تنقید کی۔ انہوں نے اس اقدام کو جمہوریت کے اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے اس حکم کو منسوخ اور اس میں اصلاح کرنے کا مطالبہ کیا۔

سنی آن لائن کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے اپنے ہفتہ وار خطاب کے ایک حصے میں کہا: جمہوریہ آذربائیجان میں، جہاں کی 94 فیصد سے زیادہ آبادی مسلمان ہے، بہت سی مسلمان خواتین حجاب اور اسکارف پہنتی ہیں، جبکہ بعض خواتین اسکارف نہیں پہنتیں۔ اس ملک میں آزادی تھی اور حجاب اختیار کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ خواتین پر چھوڑا گیا تھا، لیکن حال ہی میں ملک کے صدر کی جانب سے جاری کردہ ایک حکم کے تحت طالبات اور استانیوں کے لیے اسکارف اتارنا لازمی قرار دیا گیا ہے اور انہیں بغیر اسکارف کے کلاس روم میں آنے کا کہا گیا ہے۔
انہوں نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا: اس حکم کے نفاذ کے نتیجے میں جمہوریہ آذربائیجان میں احتجاج بھی ہوا ہے۔ حجاب پر پابندی کا حکم اگرچہ آذربائیجان کے قانون کے خلاف نہ بھی ہو، تب بھی اس ملک کی اکثریتی آبادی مسلمان ہے، اور اگر مسلمان اقلیت میں بھی ہوں، تب بھی کسی حکومت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ایسا حکم جاری کرے جس سے لوگوں کی آزادی سلب ہو۔
زاہدان کے خطیب نے مزید کہا: لوگوں کی آزادی سلب کرنا جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اگرچہ ان میں سے بہت سے ممالک میں جمہوریت موجود نہیں، لیکن دنیا میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے وہ جمہوریت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لہٰذا بہتر ہے کہ آذربائیجان کے صدر الہام علی‌یف اپنے ملک کے عوام کے جذبات کا احترام کریں، اپنا حکم واپس لیں اور اس میں اصلاح کریں۔ یہ آذربائیجان کی حکومت اور ملک، دونوں کے حق میں بہتر ہوگا۔

اجبار کی پالیسی ناکام ہوتی ہے اور اس کے نتائج الٹ نکلتے ہیں
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا کہ جبر اور زبردستی کی پالیسی ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا: جہاں کہیں بھی خواتین کے لباس اور حجاب کے معاملے میں مخالفت یا پابندی عائد کی گئی ہے، وہاں یہ طریقہ ناکامی سے دوچار ہوا ہے۔ چنانچہ جمہوریہ آذربائیجان میں بھی حکومت کے حالیہ حکم کے نتائج الٹ نکلے ہیں اور بہت سی ایسی خواتین، طالبات اور معلمات نے، جو پہلے اسکارف نہیں پہنتی تھیں، اس حکم کی مخالفت میں اسکارف پہننا شروع کردیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ہمارے اپنے ملک میں بھی، جہاں اکثریت مسلمان ہے، ہم نے تجربہ کیا ہے کہ جب حجاب کو لازمی قرار دیا گیا اور حجاب نہ کرنے والی خواتین کے ساتھ سختی اور توہین آمیز رویہ اختیار کیا گیا تو اس کے نتائج الٹ نکلے۔ اس طریقۂ کار اور پالیسی سے ہمارے ملک کو نقصان پہنچا۔

لوگ زبردستی کی بات نہیں مانتے؛ دلیل، حکمت اور حقوق کی رعایت سے کام لینا چاہیے
زاہدان کے خطیب نے کہا: اس منبر سے بارہا آواز اٹھائی گئی ہے کہ بہترین حل یہ ہے کہ تدبیر اور حکمت سے کام لیا جائے، خواتین کو اہمیت دی جائے اور احتجاج کرنے والی خواتین و مردوں کی بات سنی جائے۔ زبردستی کی بات نہ کی جائے، کیونکہ لوگ کسی کی بھی زبردستی کی بات قبول نہیں کرتے، خواہ وہ حاکم ہو، قاضی ہو، عالم ہو یا کوئی بزرگ۔ لوگ دباؤ اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکاتے، بلکہ دلیل، منطق، تدبیر، حکمت، احترام اور حقوق کی رعایت ہی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

خواتین کو قتل کرنا علاقے کے روایات کے خلاف ہے؛ ہر لباس اور ہر ادارے سے وابستہ خواتین کی حرمت کا تحفظ ضروری ہے
مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کے ایک اور حصے میں صوبۂ سیستان و بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ان واقعات میں دو خواتین کے قتل کو علاقے کی ثقافت کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا: افسوس کہ صوبے میں بدامنی بڑھ گئی ہے اور ان واقعات میں دو خواتین بھی قتل ہوئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ماضی میں اس علاقے میں ایسی ثقافت موجود تھی کہ اگر کوئی شخص اپنے والد کے قاتل کو دیکھ لیتا اور اس سے بدلہ لینے کا ارادہ بھی رکھتا، لیکن قاتل کے ساتھ کسی عورت کو دیکھتا تو اس عورت کی حرمت کے پیشِ نظر اپنے ارادے سے باز آجاتا تھا۔ اسی طرح ڈاکو بھی اگر کسی قافلے میں عورت کو ساتھ دیکھتے تو اس قافلے کا مال نہیں لوٹتے تھے۔ لیکن افسوس کہ آج کے چور اس قدر بے حیا ہوگئے ہیں کہ خواتین کے جسم سے سونا اور زیورات تک اتار کر لے جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید زور دیتے ہوئے کہا: جب ہم کسی عورت کو دیکھیں تو ہمیں اپنی ماں، بہن اور بیٹی یاد آنی چاہیے۔ خواتین ایک مہربان اور ہمدرد طبقہ ہیں۔ میں اس سے پہلے بھی کئی بار عدالتی اداروں کو مشورہ دے چکا ہوں کہ خواتین کو سزائے موت نہ دی جائے، خواتین سیاسی کارکنوں کو جیل میں نہ ڈالا جائے بلکہ انہیں رہا کیا جائے۔ لہٰذا ہم سب کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ خواتین کی حرمت کا تحفظ کیا جائے، خواہ وہ کسی بھی لباس میں ہوں یا کسی بھی ادارے سے وابستہ ہوں۔

صوبے کے امن و امان کے تحفظ پر زور دیتا ہوں
زاہدان کے خطیب نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا: میری سب سے گزارش اور تاکید ہے کہ ہر کوئی حساسیتوں کو سمجھے اور امن و امان کے تحفظ کے لیے کوشش کرے۔ کسی قوم یا برادری کے جذبات کو مجروح نہیں کرنا چاہیے۔ امن و امان کا تحفظ سب کے حق میں بہتر اور سب کی بھلائی کا باعث ہے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین