مولانا ابولحسن علی ندوی مشہور عالم دین اور اسلامی اسکالر تھے۔ وہ علی میاں کے نام سے مشہور تھے۔
دارالعلوم کے بعد حکیم الاسلامؒ کے ساتھ طلبہ کی ایک بڑی تعداد اور قدیم ترین ملازمین جنہو ںنے جوانی کے بہترین لمحات ،جسمانی قوتیں اور ذہنی صلاحیتیں دارالعلوم دیوبند کی خدمت میںصرف کی تھیں دارالعلوم سے باہر آگئیں ،قدرت کو منظور تھا کہ دیوبند کی قدیم مرکزی جامع مسجد سے بھی قاسمیت کا وہ علمی […]
انٹرنیٹ پر تین طریقوں سے انسانیت کو گمراہی میں دھکیلا جا رہاہے ،اور انسان کو انسانی اوصاف سے عاری کیا جا رہا ہے، ایک تو بے حیائی اور عریانیت کی ویب سائٹوں کی کثرت کے ذریعہ، ان فحش سائٹوں کی اتنی بھر مار ہے کہ آپ نہ چاہیں تب بھی کہیں نہ کہیں سے کوئی […]
قومی ضمیر پر موت طاری ۱۹۶۷ء کے افسوس ناک المیہ سے مولانا پر جو اثر ہوا، اس نے ان کی زبان حق ترجمان سے بہت کچھ کہلوایا، اس وقت مولانا رحمہ اللہ کی زبان سے جو جملے ادا ہوئے، آج ان کی معنویت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، اس وقت عالم عربی ہی نہیں خود […]
اعدل الاصحاب ، مزین منبر و محراب ، ثانی الخلفاء ، مرادِ مصطفی ، قدیم الاسلام ،کامران مقام، فارقِ حق و باطل ، امیرالمومنین ، پیکر شجاعت ، جبل استقامت، عاشقِ زارِ رسول اکرم ،سیدنا سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں، جنہیں رسول پر نور شافع یوم النشورصلی اللہ علیہ وسلم نے […]
ہندوستانی صوفی ادب کے ایک معروضی مطالعہ سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ روحانیت اور تصوف سے متاثر ہندوستان کی بہت سے اولین اسلامی شخصیات کو آج غلطی سے ہندوستان میں وہابیت کے بانیان اور نظریہ سازوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
گزشتہ دنوں روسی فضائیہ اور بحریہ کی شام میں عسکری دراندازی کے بعد ممتاز عالم دین مولانا عبدالحمید نے اس حملے کی مخالفت میں کہاہے عسکری حملوں سے عالم اسلام کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
خبر تو بہت چھوٹی سی ہے، اسے نظر انداز کرنابھی ممکن تھا، مگر جس بڑے طوفان کی پیش گوئی لیے یہ خبر سامنے آئی ہے اس کو چاہ کر بھی جھٹلایا یا اپنے ذہن کے کوڑے دان میں نہیں پھینکا جاسکتا۔
تربیت اولاد میں یہ بات بھی ضروری ہے کہ شدید غصے کی حالت میں اگر بچے کو سزا دینے کا خیال بھی آئے تو اس سے دور ہوجائیے آپ کو چاہیے کہ صبر سے کام لیں۔ سخت غصے کی حالت میں آپ بچے کو ضرورت سے زیادہ پیٹ سکتے ہیں جو بعد میں آپ کیلئے […]
ماں باپ اور سرپرست پوری احساس ذمہ داری کے باوجود اپنی نسل کو اس طرح کے فواحش سے روکنے میں بہت کامیاب نہیں، بالخصوص پڑھا لکھا طبقہ ان کے یہاں اگر بچوں کو انٹرنیٹ کے استعمال سے روکا جائے تو معلومات کے ایک اہم ذریعہ سے وہ محروم رہیں