گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو توہینِ رسالت کے شبہے میں 28 گولیاں مارنے والے پولیس کانسٹیبل ممتاز قادری کی پھانسی کی غیر معمولی اہمیت کے کئی اسباب ہیں۔
حسب معمول جب میں گھر سے یونی ورسٹی کے لیے نکلا تو گلی میں کھڑے چند پولیس اہلکاروں کو دیکھ کر یہ گمان ہوا کہ آج شاید پھر کسی معصوم شہری کی شامت آئی ہے۔
کچھ عرصہ پہلے کراچی کے ماہ نامہ ’’بینات‘‘ میں ایک مضمون غامدی صاحب پر تنقید کے سلسلے میں نظر سے گزرا۔ پہلی قسط میں فراہی مکتب فکر کے شجرہ نسب کی تحقیق پیش کی گئی ہے۔ اس کے رو سے مولانا حمیدالدین فراہی لارڈ کرزن کے وفادار اور انگریز کے ایجنٹ تھے۔
آپ کرم اللہ وجہہ کا اسم گرامی علی، کنیت ابو الحسن و ابوتراب، القاب اسد اللہ الغالب، الحیدر اور المرتضیٰ ہیں، یہ تمام القلوب آپ کرم اللہ وجہہ کو حضور سید کونین ﷺ نے مختلف مواقع پر مرحمت فرمائے تھے۔
اچھائی یابرائی اور نفع نقصان میں تمیز اور فرق سمجھنے اور اسی کے مطابق عملی اقدام کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کوعقل سے نوازا ہے،
آج کے حالات کے تناظر میں جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور اسوہ حسنہ کا ایک اہم پہلو ذکر کیا جا رہا ہے جو یقینا ہمارے لیے راہ نمائی کا باعث ہے، خدا کرے کہ ہم اس سے صحیح طور پر استفادہ کر سکیں۔
اتحاد امت، شرعی اور سماجی ضرورت ہے جب کہ اختلاف رائے کا وجود فطری ہے، اس لیے ہم شرعی ضرورت کے پیش نظر اتحاد امت کے پابند ہیں اور فکر ونظر کے اختلاف کے باوجود اتحاد امت اور وحدت امت کو اپنی ایمانی اور اسلامی زندگی کا نصب العین سمجھتے ہیں،
قیام پاکستان کے بعد گوجرانوالہ میں پادری و مسیحی مبلغین تبشیری و اسلام مخالف سرگرمیوں میں بہت فعال رہے ہیں۔
ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ہر دور میں مردوں کے شانہ بشانہ خواتین نے عزم و حوصلے اور طاقت و بہادری کے ناقابلِ فراموش کام انجام دئے ہیں۔
پنجاب حکومت نے تبلیغی جماعت کے یونیورسٹیوں سمیت تعلیمی اداروں میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔