دَس سال پہلے سن 2003ء میں آج ہی کے دن عراق میں امریکی فوجی دستوں کی متنازعہ پیش قدمی شروع ہوئی تھی۔ تب اس حملےکا مقصد وہاں جمہوریت اور امن کا قیام بتایا گیا تھا لیکن آج کی صورتحال ان دعووں کی نفی کرتی نظر آتی ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں عراق کی تعمیر نو […]
ممتاز سنی عالم دین شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مسلمانوں کے حالات پر نظر ڈالتے ہوئے کہا: متعد فرازونشیب کے بعد مسلمانوں کو سمجھ آگیا کہ اسلامی تہذیب کی جانب واپس آنے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ مشرق و مغرب کے بیہودہ وعدوں سے انہیں کچھ ہاتھ نہیں آیا، الٹا ان کی […]
صدرشورائے مدارس اہل سنت سیستان وبلوچستان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید چند دن قبل ایرانی بلوچستان کے بعض مرکزی اور جنوبی شہروں اور علاقوں کے تبلیغی و تعلیمی دورے پر تشریف لے گئے جہاں آپ نے متعدد تقاریب اور عوامی مجالس میں شرکت کی۔
ایرانی کردستان میں پی ایچ ڈی لیول کی ایک سنی طالبہ کی تعلیم پرسکیورٹی حکام کی جانب سے پابندی عائد کردی گئی ہے۔
ایران کی مختلف یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں سنی طلبا اپنے علمائے کرام اور دانشوروں سے ملاقات کیلیے جمعرات سات مارچ میں دارالعلوم زاہدان پہنچ گئے جہاں سالانہ اجتماع منعقد ہوگیا۔
ممتاز سنی عالم دین مولانا عبدالحمید نے ایرانی صوبہ ’سیستان بلوچستان‘ کی تقسیم کی افواہوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ’بلوچستان‘ کے نام مٹانے کی کوشش پر اعلی حکام کو خبردار کیا۔
مرکزی بلوچستان میں ایک بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز سنی عالم دین شیخ الاسلام مولانا عبدالحمیدنے ایران کی سنی برادری کو روادار اور اتحادکے متمنی قرار دیتے ہوئے اہل سنت کے جائز مطالبات اور آئینی حقوق کی تکمیل پر زور دیا۔
ایران کے سب سے عظیم دینی ادارہ دارالعلوم زاہدان کی میزبانی پر 12فروری سے 14 فروری تک بارہواں مقابلہ حسن قرائت اور حفظ قرآن پاک منعقد ہوگیا۔
نوٹ: حال ہی میں بعض حکومت نواز انتہاپسند ویب سائیٹس کے مالکین جو ہمیشہ ممتاز شخصیات کی کردارکشی کرتے چلے آرہے ہیں، نے نامور اسلامی سکالر مولانا عبدالحمید اسماعیلزہی کی ایک نمازجنازے میں شرکت اور انقلاب کی سالگرہ پر پبلک ریلی میں عدم شرکت کو ہائی لائٹ کیا ہے۔
ممتازسنی عالم دین شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایرانی انقلاب کی 34ویں سالگرہ کی آمد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: مخصوص سیاسی ونگ، مسلک یا قومیت کی حکمرانی کا انجام ناکامی ہے اور موجودہ نظام حکومت کی بقا تمام گروہوں کی مشارکت و اتحاد سے ممکن ہے۔