دارالعلوم زاہدان کے استاذالحدیث اور اہل سنت ایران کے رہنما مولانا احمد ناروئی آج سترہ مارچ دوہزارچودہ (15 جمادی الاولی) کو ظہر سے پہلے ایک سانحے میں انتقال کرگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
دارالعلوم زاہدان کے احاطے میں واقع جامع مسجدمکی میں ایران کی مختلف جامعات و کالجوں سے تعلق رکھنے والے طلبا و طالبات کا سالانہ اجلاس جمعرات تیرہ مارچ دوہزار چودہ کو منعقد ہوگیا۔
محترم فاضل، علامہ احمدحسن حنفی بطالوی (پٹیالہ) کانپوری ان علماءکرام میں سے ہیں جو زیادہ سے زیادہ درس دینے اور لوگوں کو فائدے پہنچانے میں مشہور ہیں۔
’’مولانا ابوالکلام آزاد‘‘محترم فاضل ابوالکلام احمد بن خیرالدین کلکتوو (۱۱نومبر ۱۸۸۸ء ۔ ۲۲فروری ۱۹۵۸ء)۔ آپ مولانا ابوالکلام آزاد کے نام سے دنیا میں مشہور ہوئے، آپ کے والد نے آپ کا نام غلام محی الدین رکھاتھا۔ آپ اپنے وقت کے انتہائی ذہین لوگوں میں سے تھے، کلکتہ شہر میں پیدا ہوئے اور وہیں بلوغت کو […]
ایرانی اہل سنت کے سرکردہ عالم دین شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے مکہ مکرمہ جانے والے تھے کہ انہیں روک دیاگیا۔
محترم فاضل علامہ اجمل بن محمود بن صادق بن شریف حنفی دہلوی جو حکیم حاذق اور ”حاذق الملک“ کے نام سے مشہور ہیں، فن طب میں ذہین اور ماہر طبیبوں میں سے ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ملک کے امور چلانے میں تمام ایرانی قومیتوں اور مذاہب کی شرکت پر زور دیتے ہوئے سیستان بلوچستان کے عوام کو اس صوبے کا سب سے بڑا سرمایہ قرار دیا۔
ایرانی صدر کے مشیرخاص نے کہاہے ایران میں وہابیت کے وجود کے بارے میں مبالغہ آرائی ہوتی ہے اور یہ سنیوں کو دبانے کے لیے ایک حربہ ہے۔
ایران کے ممتازسنی عالم دین مولانا عبدالحمید نے ’اسلامی اتحادکی ستائیسویں کانفرنس‘ سے خطاب کرتے ہوئے مسلم امہ کے مسائل کے حل کے لیے ’ہمہ جہت عملی اقدامات‘ اٹھانے کی ضرورت پر زوردیاہے۔
مولانا عبدالحمید نے تیس دسمبر کو حکومت کے دائیں بازو کے حامیوں کے مظاہروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بعض سرکاری خطیبوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے جنگ جمل کو دوہزارنو کے متنازعہ صدارتی انتخابات سے تشبیہ دی ہے۔ انہوں نے ایسے اقدامات کو عقل، میانہ روی اور بصیرت کے خلاف قرار دیا۔