کبھی ہم مغرب سے کہتے تھے ’تمہاری تہذیب آپ اپنے خنجر سے خودکشی کرے گی‘۔ مگر واضح یہ ہوتا ہے کہ۔۔۔ وہ ہمیں ساتھ لیے بغیر مرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، اورہم ان کے بغیر جینے کے روادار نہیں!
برق صرف بے چارے پاکستانیوں پر ہی کیوں گرتی ہے؟اس سوال کا جواب بہت ڈھونڈا۔
سائل محترم كاميابى كى كوشش و جدوجھد اور ناكامى سے نفرت كے ليے صرف ناكامى كا نام ہى كافى ہے، غض نظر كہ انسان اپنى كاميابى كے ليے كوئى مادى كمائى كرے؛ تو ناكامى ايك نقص اور مذمت كا نام ہے، اور كاميابى كمال و مدح كو كہتے ہيں.
اﷲ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مسلمانوں میں آج ایسے لوگ باقی ہیں جو حرام کے خلاف آواز اُٹھا رہے ہیں ۔
یہ اٹل گھڑی آنا ہی ہوتی ہے۔کسی کا عہد اقتدار کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو اور کوئی کتنے ہی عرصہ دراز تک کسی منصب بلند پر فائز کیوں نہ رہے،
اسلام میں علماءو ائمہ کرام کو رہبر و رہنما کا درجہ حاصل ہے مگر آج کے دورمیں دینی درس گاہوں اورمساجد کو آباد رکھنے والوں کی حیثیت بندھوا مزدوروں کے مشابہ ہو کر رہ گئی ہے۔
اگر میرے بھائی کے ہاتھوں کوئی قصور سرزد ہوا ہے تو بے شک جرم ثابت ہونے پر اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے مگر بنا کسی الزام کے اسے سالوں غائب رکھنا، تشدد کا نشانہ بنانا کہاں کا انصاف اور کہاں کی انسانیت ہے،
بھئی اب بلاوجہ جھوٹ موٹ لڑنے نہ پہنچ جائیے گا کہ ’’اَملیکا اَملیکا! آپ نے تو کہا تھا کہ اب حملہ نئیں کَلیں گے،ڈِلون نئیں گِلائیں گے مگل کل یہ کیا کَل دیا،
شام سریانی زبان کا لفظ ہے، جو حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے حضرت سام بن نوح کی طرف منسوب ہے۔
تاریخ کی ابتدا کب اور کس طرح ہوئی؟علامہ بدرالدین عینی فرماتے ہیں کہ جب زمین پر انسان کی آبادی وسیع ہونے لگی تو تاریخ کی ضرورت محسوس ہوئی،