ممتاز سنی عالم دین مولانا احمدناروئی رحمہ اللہ کی نمازجنازہ منگل اٹھارہ مارچ کو زاہدان کی مرکزی عیدگاہ میں ہزاروں افراد کی موجودگی میں ادا کی گئی۔
’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم مولانا احمد کی نمازجنازہ اور تدفین میں ایران کے مختلف صوبوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد شہریوں خاص کر علمائے کرام نے شرکت کی۔ ایک اندازے کے مطابق اسی ہزار سے زائد افراد نے مولانا احمد کی نمازجنازہ میں شرکت کی جن کا تعلق معاشرے کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تھا۔
نمازجنازہ سے قبل مولانا عبدالغنی بدری، مفتی محمدقاسم قاسمی، مولانا سید عبدالمومن، مولانا شہاب الدین اور شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے حاضرین سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے مولانا کے شاگردوں، متعلقین اور اہل خانہ کو صبر کی تلقین کی۔
صدر دارالافتا دارالعلوم زاہدان مولانا مفتی محمدقاسم قاسمی نے کہا: دنیا فانی اور گزرنے والی چیز ہے۔ یہاں کوئی تاابد جینے کے لیے نہیںآتا، بلکہ دنیا ہمارے لیے آزمائش کی جگہ ہے جہاں ہمیں باربار امتحان کا سامنا ہوگا ۔ لہذا مصیبت کے وقت ہمیں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔ جب مجھے اطلاع ملی کہ مولانا احمد ہم میں نہ رہے، مجھے یوں لگا جیسا کہ میرے جسم کا آدھا حصہ گم ہوگیاہے۔ اللہ ہی ہمیں صبر عطا کرسکتاہے۔
مدرسہ امام ندوی کے استاذ مولانا سیدعبدالمومن موسوی نے جامعہ فاروقیہ کراچی میں مولانا احمد کے ساتھ گزرے ایام اور اچھی یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: مولانا احمد کی وفات کا اثر صرف ان کے خاندان نہیں بلکہ پوری امت پر پڑے گا اور سب ان کے جانے پر افسردہ وسوگوار ہیں۔ آپ کی وفات ’موت العالِم موت العالَم‘ کے مصداق ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب میں حاضرین سے درخواست کی ہرحال میں قرآن وسنت ہی کو سامنے رکھیں، ایسے حالات میں صرف صبر سے کام لیں اور اللہ سے دعا کریں ہمیں نصرت ومدد فرمائے۔ ہمیں دیکھنا چاہیے مصیبت کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا عمل کیا تھا؟ جب آپ ﷺ کے ستر ساتھی، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ سمیت غزوہ احد میں شہید ہوگئے تو انہوں نے صبر سے کام لیا۔ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی مصیبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت تھی؛ اس وقت بھی صحابہ نے صبر کا مظاہرہ کیا۔ صبر مجبوری وبے بسی کی نشانی نہیں ہے، بلکہ یہ اللہ کا حکم ہے جس پر بندے کو اجر ملتاہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مرحوم مولانا احمد کی بعض خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: مولانا احمد انتہائی ملنسار اور بہت ہی مفید شخص تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی عوام وخواص کے لیے وقف کیا تھا، آپ کے شب وروز لوگوں کے مسائل حل کرنے اور تنازعات کے تصفیے میں گزرتاتھا۔ اللہ تعالی نے قضاوت اور سخت ترین تنازعات کے تصفیے میں آپ کو خاص ملکہ عطا فرمایاتھا۔ مثلا آپ نے وفات سے چند گھنٹے قبل ایک پندرہ سالہ تنازعہ کا تصفیہ منٹوں میں کردیا۔ ان کی وفات سے سب سے زیادہ دارالعلوم زاہدان اور میرے ساتھی متاثر ہوجائیں گے۔ لیکن اللہ تعالی اپنے دین کی نصرت فرمائے گا اور ہمیں اکیلے نہیں چھوڑے گا۔
مولانا احمد رحمہ اللہ کے قریبی دوست نے مزیدکہا: مولانا رحمہ اللہ ایک شفیق اور دانش مند رہنما تھے اور اعتدال ومیانہ روی آپ کا راستہ تھا۔ سیاسی واقعات کے تجزیے میں زبردست آگہی اور مہارت کا مظاہرہ کرتے، یہاں تک کہ صدور و ورزا سے لیکر عام شہری تک سب ان کے بے لاگ اور معتدلانہ تجزیوں سے متاثر ہوجاتے تھے۔ زاہدان ان کی جائے پیدائش اور سرگرمیوں کا مرکز تھا، اسی لیے یہاں شیعہ وسنی ان سے محبت کرتے ہیں۔ جو ذمہ داری ان کے سپرد کیاجاتھا اچھی طرح وہ کام پورے کرتے تھے۔
مولانا احمد کے سانحے وفات کے واقعہ بیان کرتے ہوئے مہتمم دارالعلوم زاہدان نے کہا: گزشتہ کل (سوموار سترہ مارچ) کی صبح مولانا زاہدان کے قریب اپنے گاوں چلے گئے تھے، ان کا ڈرائیور کسی کام لے لیے زاہدان ہی رک گئے تھے تاکہ بعد میں چلاجائے ۔ ایسے میں مولانا خود گاڑی چلاتے ہوئے واپس ہوئے تھے، لیکن رستے میں اچانک کسی وجہ سے ان کی گاڑی روڈ سے نکل جاتی ہے اور پھر الٹ جاتی ہے۔ پوسٹ مارٹم آفیس میں معتبر ڈاکٹروں نے تصدیق کی ہے کہ ان کی موت پہلو پر چوٹ لگنے کی وجہ سے واقع ہوئی ہے۔
یاد رہے مولانا احمدرحمہ اللہ کی نمازجنازہ میں ایران کے مختلف سنی اکثریت صوبوں کے علمائے کرام کے علاوہ گورنر سیستان بلوچستان، رہبرانقلاب کے نمایندہ، گورنرزاہدان، اٹارنی زاہدان، ارکان پارلیمنٹ، سٹی کونسل کے ارکان اور دیگر متعدد سیاسی وسماجی شخصیات نے شرکت کی۔ اب تک صوبائی حکام کے علاوہ ایران کے شمالی ومغربی علاقوں کے بااثر علمائے کرام نے تعزیتی بیانات جاری کئے ہیں۔
مولانا رحمہ اللہ کا جسد خاکی تدفین کے لیے ’بہشت محمد‘ قبرستان منتقل ہوا جہاں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مرحوم کی مغفرت اور پس ماندگان کے لیے اجروصبر کی دعا مانگی۔
مولانا احمد رحمہ اللہ نے اعلی دینی تعلیم بدرالعلوم حمادیہ رحیم یارخان اور دارالعلوم فیصل آباد سے حاصل کی اور جامعہ فاروقیہ کراچی سے آپ کی فراغت ہوئی۔ آپ دارالعلوم زاہدان میں سنن ابی داود کے علاوہ اکثر فقہ اور اصول فقہ کی کتابیں پڑھاتے تھے۔ اس کے علاوہ آپ نائب مہتمم دارالعلوم زاہدان، عزیزیہ فنڈ اور خدیجة الکبری طبی مرکز کے ڈائریکٹر اور نائب خطیب جامع مسجدمکی زاہدان تھے۔ غیرملکی طلبہ نہ نکالنے کے موقف کی وجہ سے آپ کو چند ماہ قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑی۔ وفات کے وقت آپ کی عمر پچاس سال تھی۔
مولانا احمد رحمہ اللہ کی نمازجنازہ اور تدفین تصاویر کے آئینے میں

آپ کی رائے