خلاق عالم نیکرہ ارضی پرکچھ ایسی شخصیات پیداکی ہے ،جن کاطرہ امتیاز ہی ان کی گمنامی ہواکرتی ہے،زمانہ میں ان کی خدمات،ان کیعلوم ومعارف اوران کیفیضان کاڈنکابجتاہے،
ہرقوم اپنے کلینڈر کے حساب سے نئے سال کے پہلے دن کی بڑی اہمیت دیتی ہے اور اس دن کو بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔
اپنے مشہور ترین ارکان میں سے ایک ،جنید جمشید کی موت نے تبلیغی جماعت کو سب کی توجہ کا مرکز بنا دیا ۔
اس بات میں کسی اختلاف کی گنجایش نہیں کہ گزشتہ ڈیڑھ صدیوں میں جن علمااور بزرگوں کی علمی و تصنیفی خدمات، دعوتی وتبلیغی مساعی اور ان سے وابستہ اشخاص و رجال نے برِّصغیرکے دینی و علمی ماحول کو متاثر کیااور انسانوںکے ایک بڑے طبقے کارشتہ ان کے حقیقی خالق ومالک سے جوڑا،
ایک مسلمان کے لیے یہ بات باعثِ افتخار ہے کہ اس کو اللہ تعالی نے اسلام کی صورت میں ایک مکمل اور زندہ و جاوید دستورِ حیات مرحمت فرمایا ہے۔
دوسری صدی ہجری میں سنن و آثار اور احکام کے ائمہ اور امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ دوسری صدی ہجری میں سنن و آثار اور احکام کا علم تین ائمہ فن میں دائر و سائر سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے:
اہم ترین مقصد عدل و انصاف کو بروئے کار لانا اور انسانیت کو ظلم و جور اور بہیمیت و درندگی کے چنگل سے نجات دلانا ہوتا ہے، لیکن اگر خود قانون کجروی اور درندگی کی آماجگاہ بن جائے،
امریکی انتخابات کے اگلے دن میں سو کر اٹھی تو امریکا میں رہنے والے رشتے داروں کے پیغامات آنے شروع ہو چکے تھے۔
یہ ہجرت نبی سے چند سال بعد کا واقعہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں کسی جگہ تشریف فرما تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ بنائے بیٹھے تھے اور حسب توفیق فیضانِ نبوت سے فیض پارہے تھے۔
اپنی کم علمی، لکھنے کے ہنر سے ناواقفیت اور الفاظ کے چناؤ سے نابلد ہونے کے باوجود آج جس شخصیت کے لیے قلم اٹھایا ہے وہ تاریخ اسلامی کا کوہِ بلند و بالا پہاڑ ہے، جس نے کم سے کم برصغیر پاک و ہند میں اسلام کو اس کی اصل صورت میں قائم رکھا۔