خطیب اہل سنت زاہدان نے حج جانے سے چند گھنٹے پہلے نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حج کو اللہ تعالی کے موثر اور سبق آموز اصلاحی پروگراموں میں یاد کیا جو انسان کی ہدایت و تزکیہ کے لیے ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے ستائیس جولائی دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں حج کی اہمیت اور اسلام میں اس کے مقام پر روشنی ڈالتے ہوئے مناسک حج کو پروردگار سے عشق اور اس کے احکامات چوں وچرا کے بغیر ماننے اور عمل کرنے کی واضح مثال قرار دی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے بیس جولائی دوہزار اٹھارہ کے بیان میں بنی اسرائیل کی عہدشکنی کے انجام کا تذکرہ کرتے ہوئے ’سخت دلی‘ اور ’اللہ کی لعنت‘ کو اس بری حرکت کا نتیجہ قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے تیرہ جولائی دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں ’عمل کی کمزوری‘ کو مسلمانوں کی سب سے بڑی سستی یاد کرتے ہوئے ’درست عقیدہ‘، ’شریعت پر عمل‘ اور ’قرآن و سنت کی اتباع‘ کو دنیا و آخرت میں نجات و کامیابی کا واحد راستہ قرار دیا۔
ممتاز عالم دین مولانا عبدالحمید نے چھ جولائی دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں امن کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے قبائلی عمائدین کو قاتلوں اور جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کرکے متعلقہ حکام اور عدالت کے حوالے کرنے کا مشورہ دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے ملک کے موجودہ بحرانوں اور معاشی مشکلات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ’اللہ رب العزت کی حمایت‘ اور ’قوم کے ساتھ دینے‘ کی دو بنیادوں کو ان بحرانوں سے نجات کے لیے ضروری قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بائیس جون دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں ’ہفتہ عدلیہ‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پھانسی کی سزا میں اصلاح لانے پر مسرت کا اظہار کیا اور جانبدار ججوں کے ہٹانے کا مطالبہ پیش کیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے عید الفطر کے پرمسرت موقع پر ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے ایران کی داخلہ و خارجہ پالیسیوں میں نظرثانی اور عالمی حالات کے مطابق ان میں تبدیلی لانے پر زور دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے آٹھ جون دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں رمضان المبارک کے ختم ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ماہ رمضان ختم ہونے والا ہے اور باقی دنوںمیں زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت کریں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے یکم جون دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں رمضان المبارک کو ’تبدیلی‘ کا مہینہ یاد کیا جس میں دینی و معاشرتی بیداری حاصل ہونی چاہیے۔