خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے نو مارچ دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں اللہ تعالی سے تعلق کے رستوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ’دعا‘ کو سب سے بڑی عبادات میں شمار کیا جو کسی معاشرے میں تبدیلی لانے والی عبادت ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے دومارچ دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں نیک سیرت خواتین کی صفات بیان کرتے ہوئے اسلام میں میاں بیوی کے حقوق کا تذکرہ کیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے نو فروری دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں ملک کی بعض داخلی و خارجی پالیسیوں کی اصلاح پر زور دیتے ہوئے کہا: ایران ایسے حالات میں نہیں کہ دیگر ملکوں کی مالی مدد کرے، سب سے پہلے اپنے ہی مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے دو فروری دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں ایرانی انقلاب کی 39ویں سالگرہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہم موجودہ ریاست کی تغییر و تباہی کے خلاف ہیں، لیکن اس کی اصلاح کو ضروری سمجھتے ہیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے چھبیس جنوری دوہزار سترہ کے خطبہ جمعہ میں فرد اور معاشرے کی روحانی زندگی کے تین اہم بنیادی امور کا تذکرہ کرتے ہوئے تلاوت قرآن، ذکر اور اقامہ نماز کو انسان کی اصلاح کے لیے موثر قرار دیا۔
اہل سنت ایران کے ممتاز رہ نما شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے انیس جنوری دوہزار اٹھارہ کے بیان میں تشدد اور تخریب کاری کے ذریعے سے بغاوت مسترد کرتے ہوئے ’برابری‘ اور ’نفاذ عدل‘ کو سنی برادری کا مطالبہ قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے آسمانی آفتوں کو غفلت اور گناہوں کے نتائج یاد کرتے ہوئے اللہ تعالی کی وارننگز کو سنجیدگی سے لینے پر زور دیا۔
اہل سنت ایران کے ممتاز رہ نما شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے پانچ جنوری کے خطبہ جمعہ میں ایران کے طول و عرض میں اٹھنے والے احتجاجی مظاہروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عوام کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرانے پر زور دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے انتیس دسمبر دوہزار سترہ کے خطبہ جمعہ میں اعتقادی و عملی نفاق کو انسان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یاد کرتے ہوئے مال اور اولاد کی ’حد سے زیادہ محبت‘ کو منافقت کے اسباب میں شمار کیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بائیس دسمبر دوہزار سترہ کے خطبہ جمعہ میں صبر و تقوی کو دو عظیم نعمتیں یاد کرتے ہوئے ان نعمتوں پر توجہ کو اللہ تعالی کی رضامندی اور نصرت کے حصول کے لیے موثر قرار دیا۔