خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے پانچ جولائی دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں سیستان بلوچستان کے صوبائی حکام سے مطالبہ کیا عوام کے مسائل کو درست منصوبہ بندی سے حل کرائیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے ’ہفتہ عدلیہ‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تمام اداروں کو عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش اور جاری بعض قوانین و قراردادوں کی اصلاح و نظرثانی اور تبدیلی پر زور دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے سات جون دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں بھلائیوں پر توجہ اور برائیوں سے بچنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا نیک اعمال کے بغیر آرام و سکون نہیں مل سکتا۔
اہل سنت ایران کے ممتاز عالم دین نے صوبہ سیستان بلوچستان میں پیٹرولیم مصنوعات لوڈ کرکے کاروبار کرنے والے شہریوں کے خدشات و پریشانیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ و صوبائی حکام کو ساتھ بیٹھ کر ان کے مسائل حل کرنے کی تجویز پیش کی۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے چوبیس مئی دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں رمضان کے عشرہ اخیر کو اللہ تعالی تک پہنچنے اور اصلاحِ نفس کا سنہرا موقع یاد کرتے ہوئے حاضرین کو ’تلاوت قرآن‘، ’دعا و استغفار‘، ’صدقات و خیرات‘، ’اعتکاف‘ اور شب قدر میں عبادت کرنے کی نصیحت کی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے دس مئی دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں رمضان المبارک کے فضائل اور بعض مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے اس مبارک مہینے کی برکتوں کو قرآن پاک سے ماخوذ یاد کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تلاوت پر زور دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے تین مئی دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں رمضان سے نہایت فائدہ اٹھانے پر زور دیتے ہوئے اس مبارک مہینے کو ”تقویٰ و پرہیزگاری، مواسات و ہمدردی، سخاوت اور تلاوت و عبادت“ کا مہینہ یاد کیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے چھبیس اپریل دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں ’غفلت‘ کو معاشرے میں گناہوں کی بہتات اور دین کے حوالے سے بے رغبتی کی اصل وجہ یاد کرتے ہوئے ’اللہ تعالی تک پہنچنے اور شریعت پر عمل‘ کرنے کے لیے دینی عقائد کی تقویت کو ضروری قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے انیس اپریل دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں زکات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مالدار لوگوں کو مخاطب کرکے کہا باریک بینی اور دقت نظر سے زکات کا حساب لگاکر یہ فرض ادا کیا کریں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بارہ اپریل دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں امریکا کی ایران پر نئی پابندیوں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان پابندیوں کو بے کار بنانے کے لیے ’اللہ کی رضامندی، قوم کی حمایت حاصل کرنے اور پالیسیوں میں گہری تبدیلیاں‘ لانے پر زور دیا۔