خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے پچیس مئی دوہزار اٹھارہ کے بیان میں اصلاح نفس میں روزے کی تاثیر پر گفتگو کرتے ہوئے اسے پرہیزگاری، اطاعت شعاری اور خیرخواہی پیدا کرنے والی عبادت قرار دی۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے روزہ کو حصول تقوی میں موثر عبادت یاد کرتے ہوئے رمضان المبارک کے سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے گیارہ مئی دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں انسان کے سامنے موجود چیلنجوں کا تذکرہ کرتے ہوئے نماز، روزہ، زکات، حج، تلاوت قرآن، ذکر وفکر، گناہ چھوڑنا اور شریعت پر عمل کرنے کو اصلاح نفس اور چیلنجوں سے نجات کے لیے موثر قرار دیا۔
نوٹ: گزشتہ کئی سالوں سے اہل سنت ایران کے ممتاز دینی رہ نما شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نامعلوم وجوہ کی بناپر صوبہ سیستان بلوچستان اور تہران شہر کے علاوہ ایران کے کسی بھی علاقے کا دورہ نہیں کرسکتے۔ چنانچہ صوبہ خراسان کے خواف اور تایباد میں انہیں نماز جنازہ میں شرکت سے روک دیا گیا۔ […]
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے ستائیس اپریل دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں ’نفاذ عدل‘ اور ’مساوات‘ کو اتحاد و بھائی چارہ کے استحکام کے اہم ترین ذرائع یاد کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا امتیازی پالیسیوں سے اجتناب کریں۔
زاہدان کے نائب خطیب نے بیس اپریل دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں معاشرے کے کمزور افراد پر اسلام کی خصوصی توجہ پر روشنی ڈالتے ہوئے اسلامی احکام اور حلال و حرام پر پایبندی کو ضروری قرار دیا۔
اہل سنت ایران کے نامور عالم دین نے چھ اپریل دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں افغانستان کے صوبہ قندوز میں ایک تقریب دستاربندی میں افغان فوج کے فضائی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو بزدلانہ اور قابل نفرت فعل قرار دیا جس سے تمام مسلمان غمزدہ ہوئے۔
ممتاز سنی عالم دین نے تیس مارچ دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں نفاذ عدل، قانونی آزادی کی فراہمی اور امتیازی سلوک کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے مذکورہ امور کو اسلامی جمہوریہ ایران کے استحکام کا باعث قرار دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے نبی کریم ﷺ کی سنتوں پر جوش و جذبے سے عمل کرنے کی تاکید کرتے ہوئے تمام پیغمبروں کی بعثت کی وجہ عمل میں دین حق پیش کرنے کو بتائی۔
اہل سنت ایران کی ممتاز دینی شخصیت نے شیعہ وسنی سمیت تمام لسانی برادریوں میں توازن اور کسی امتیازی رویے کے بغیر عہدوں کی تقسیم پر زور دیتے ہوئے ایسے اقدامات کو پائیدارامن اور اتحاد کے لیے ضروری قرار دیا۔