اہل سنت ایران کی ممتاز دینی و سماجی شخصیت نے نبی کریم ﷺ کی بعثت کو دنیا کے سب سے بڑے اور اہم واقعات میں شمار کرتے ہوئے ’بھائی چارہ‘، ’محبت‘، ’درست عقائد‘ اور ’نفاذِ عدل‘ کو آپﷺ کی رسالت کے اہم نتائج میں شمار کیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں یکم نومبر دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں اللہ کی یاد اور ذکر کو غفلت کی بیماری کا بہترین علاج یاد کرتے ہوئے کہا اللہ کی یاد انسان کو گناہوں اور دشمنوں سے حفاظت کرتی ہے۔
خطیب اہل سنت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے پچیس اکتوبر دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں زور دیتے ہوئے کہا: مسلمانوں کی محبت سب سے زیادہ اللہ تعالی ہی کے ساتھ ہونی چاہیے جس کے نتیجے میں شرعی احکام پر عمل کرنا آسان ہوجائے گا۔
نامور سنی عالم دین مولانا عبدالحمید نے اسلامی اتحاد کو قرآن و سنت کے مطابق یاد کرتے ہوئے کہا: عاشورا اور چہلم منانا اہل تشیع کے ساتھ خاص ہے اور فقہ اہل سنت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے گیارہ اکتوبر دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں دعوت الی اللہ کی اہمیت اور اس کے طریقوں پر خطاب کرتے ہوئے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کو مسلمانوں کی عزت و مقبولیت کا ذریعہ یاد کیا۔
ایرانی اہل سنت کے ممتاز رہ نما نے چار اکتوبر دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں اچھی اور بری صحبت کے اثرات کے بارے میں خطاب کرتے ہوئے ایسے لوگوں سے دوستی ختم کرنے کی تاکید کی جو اپنی بری عادتیں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ممتاز ایرانی سنی عالم دین نے مشرق وسطی میں حالیہ تناؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسلم حکام کو نصیحت کی کسی بھی بیرونی طاقت پر بھروسہ کے بجائے باہمی گفت و شنید پر اعتماد کرکے اپنے مسائل حل کرائیں۔ بیرونی طاقتیں صرف اپنے مفادات کا خیال رکھتی ہیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیس ستمبر دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں علم کو انسانی زندگی کی ضرورت یاد کرتے ہوئے دینی و عصری علوم حاصل کرنے پر زور دیا۔
قازان (عبدالحمید ڈاٹ نیٹ)اہل سنت ایران کے ممتاز دینی و سماجی رہ نما مولانا عبدالحمید نے جمہوریہ تاتارستان کے دارالحکومت قازان میں ’عصر حاضر میں قرآن وسنت کی روشنی میں علما کی ذمہ داری‘ بین الاقوامی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے مسلم امہ کے حالات کو ’حساس‘ یاد کرتے ہوئے ’کامل اور صحیح اسلام‘ کے […]
دارالعلوم زاہدان کے سینئر استاذ حدیث نے تیرہ ستمبر دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں ہر کام میں اللہ کی رضامندی کو مدنظر رکھنے پر زور دیتے ہوئے کامل اسلام کی خصوصیات کا تذکرہ کیا۔