سرکاری ٹی وی کا رویہ اتحاد کے خلاف تھا، مناسب تھا کہ ٹی وی ڈائریکٹر عوام سے معافی مانگتے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے سترہ جنوری دوہزار بیس کے خطبہ جمعہ میں بڑے پیمانے پر پارلیمانی انتخابات میں امیداروں کی اہلیت ختم کرنے تنقید کرتے ہوئے گارڈین کونسل کی کارکردگی کو پوری طرح جانبدارانہ قرار دیا۔
مولانا عبدالحمید نے دس جنوری دوہزار بیس کے خطبہ جمعہ میں کہا ہے اللہ تعالی نے بشر کی مادی و روحانی ضرورتوں کو پوری کرنے کے لیے جامع منصوبے بناکر بھیجا ہے اور قرآن و سنت کی تعلیمات انسانیت کی اصلاح اور جنت کی نعمتوں کے حصول کے لیے ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے تین جنوری دوہزار بیس کے خطبہ جمعہ میں گناہ پر جرات کو غافل لوگوں کی صفت بیان کرتے ہوئے انفرادی و اجتماعی گناہوں کے منفی اثرات کو خطرناک قرار دیا۔
اپنی حد تک ہمیں لوگوں کی اصلاح و کامیابی کے لیے محنت کرنی چاہیے۔ بے حسی کا مظاہرہ کرنا ہماری دینی و انسانی ذمہ داری کے خلاف ہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیس دسمبر دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں نفاذِ عدل کی اہمیت اور اتحاد و امن سے اس کا تعلق واضح کرتے ہوئے حکومتوں کو عدل و انصاف کے نفاذ کا حکم دینے والی قرآنی آیات کی اولین مخاطب قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے تیرہ دسمبر دوہزار انیس کے بیان میں ذکراللہ سے غفلت کو دیوالیہ پن یاد کرتے ہوئے قرآن کی روشنی میں مال و اولاد کو غفلت کے اسباب میں شمار کیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے انتیس نومبر دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں دل کو توجہات الہی کا مرکز یاد کرتے ہوئے اعمال، اخلاق اور عقائد کی اصلاح پر زور دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے بائیس نومبر دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں سودی اور شریعت کے خلاف ہونے والے معاملات کو تباہ کن اور خطرناک یاد کرتے ہوئے معاملات میں شرعی حدود اور حقوق الناس کے خیال رکھنے پر زور دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے پندرہ نومبر دوہزار انیس کے خطبہ جمعہ میں نبی کریم ﷺ کو تمام انسانوں کے لیے اسوہ اور رول ماڈل یاد کرتے ہوئے انہیں انسانیت کے سب سے بڑے معلم و استاذ قرار دیا۔