ایرانی اہل سنت کے ممتاز عالم دین نے شام میں امریکی و روسی مداخلت پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تمام طاقتوں کو متکبر، من پسند اور جرائم پیشہ قرار دیا۔
گزشتہ دنوں روسی فضائیہ اور بحریہ کی شام میں عسکری دراندازی کے بعد ممتاز عالم دین مولانا عبدالحمید نے اس حملے کی مخالفت میں کہاہے عسکری حملوں سے عالم اسلام کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
خبر تو بہت چھوٹی سی ہے، اسے نظر انداز کرنابھی ممکن تھا، مگر جس بڑے طوفان کی پیش گوئی لیے یہ خبر سامنے آئی ہے اس کو چاہ کر بھی جھٹلایا یا اپنے ذہن کے کوڑے دان میں نہیں پھینکا جاسکتا۔
تربیت اولاد میں یہ بات بھی ضروری ہے کہ شدید غصے کی حالت میں اگر بچے کو سزا دینے کا خیال بھی آئے تو اس سے دور ہوجائیے آپ کو چاہیے کہ صبر سے کام لیں۔ سخت غصے کی حالت میں آپ بچے کو ضرورت سے زیادہ پیٹ سکتے ہیں جو بعد میں آپ کیلئے […]
شام میں امریکا کے بعد روس کے فضائی حملوں کو ’سنگین غلطی‘ یاد کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے عالم اسلام سے اجنبی طاقتوں کو نکالنے پر زور دیا۔
ماں باپ اور سرپرست پوری احساس ذمہ داری کے باوجود اپنی نسل کو اس طرح کے فواحش سے روکنے میں بہت کامیاب نہیں، بالخصوص پڑھا لکھا طبقہ ان کے یہاں اگر بچوں کو انٹرنیٹ کے استعمال سے روکا جائے تو معلومات کے ایک اہم ذریعہ سے وہ محروم رہیں
ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی ، قتل و غارت و گر ی ، آئینی حقوق سے محرومی ، سیاست سے کنارہ کشی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے پچیس ستمبر دوہزار پندرہ کے خطبہ جمعہ میں قرآن پر عمل اور اس کی تلاوت پر زور دیتے ہوئے ’قرآن سے دوری‘ کو مسلمانوں کے تمام مسائل کی بنیادی وجہ قرار دی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں عیدالاضحی (چوبیس ستمبر دوہزار پندرہ) کے موقع پر ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کے باہمی اتحاد اور فراخدلی کے مظاہرے کو وقت کا تقاضا قرار دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اٹھارہ ستمبر دوہزار پندرہ کے خطبہ جمعہ میں عالم اسلام کے عمومی حالات کو افسوسناک یاد کرتے ہوئے یورپ کی جانب جانے والے تارکینِ وطن کی حالت زار کو ہلادینے اور چونکا دینے والی قرار دی۔