شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اسلام دشمن عناصر اور طاقتوں کے عزائم سے واقفیت کو ’بہت ضروری‘ یاد کرتے ہوئے کہا دشمن اپنا اصلی چہرہ خوش نما نعروں اور دلکش باتوں میں چھپاتاہے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے سات نومبردوہزار چودہ(تیرہ محرم) کے خطبہ جمعہ میں ’مفید مقابلے‘ پر زور دیتے ہوئے ’اسلام دشمنی اور مذہبی چپقلش‘ کو دورِحاضر کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔
اپنے تازہ ترین خطبہ جمعہ میں شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے واقعہ کربلا کو ’انتہائی ناگوار اور المناک‘ حادثہ یاد کرتے ہوئے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے قیام کے مقصد کو انصاف کی فراہمی قرار دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکتب کے تربیت یافتہ شاگرد اور محبوب قرار دیتے ہوئے حضرت عمرفاروق اور عثمانی غنی رضی اللہ عنہما کے بعض فضائل کا تذکرہ کیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مغرب کی ریشہ دوانیوں اور عالم اسلام میں اختلافات کو پروان چڑھانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے مغربی طاقتیں ہرگز مسلمانوں کے اختلافات ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتی ہیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں ذوالحجہ کے پہلے عشرے کو ایک سنہری موقع یاد کرتے ہوئے حاضرین کو زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت کرنے کی ترغیب دی۔
ممتاز سنی عالم دین مولانا عبدالحمید نے حکام کی یکساں نگاہ اور قومی سوچ کو ضروری قرار دیتے ہوئے اسے ’پائیدار اتحاد و امن‘ اور ’ملک کی عزت‘ کے باعث قرار دے دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایام حج کے موقع پر اس اہم فرض کے بعض مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے حج کو شرعی احکام کی مکمل تابعداری و پیروی کی مشق قرار دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ’امر بالمعروف ونہی عن المنکر‘ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے معاشرے میں برائیوں اور فحاشی کی کثرت کو دعوت الی اللہ کی مہم میں غفلت برتنے کا نتیجہ قرار دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے دین اسلام کو آخری اور کامل تر ین آسمانی دین یادکرتے ہوئے حقیقی اسلام کو مسلمانوں کی کامیابی و فتح کا راز قرار دیا۔