رمضان المبارک کی روحانی بہار سے پورا فائدہ اٹھائیں

رمضان المبارک کی روحانی بہار سے پورا فائدہ اٹھائیں

خطیب اہل سنت زاہدان نے رمضان المبارک کو ’روحانی بہار‘ اور ’عبادت کا موسم‘ یاد کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کی تاکید کی۔

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے رمضان المبارک کے پہلے جمعہ، انیس جون دوہزارپندرہ میں زاہدان کے سنی عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالی نے انسانی جسم کی تقویت کے لیے زمین میں متعدد نعمتیں قرار دی ہے۔ اسی طرح انسان کی روحانی ترقی و تقویت کے لیے اللہ تعالی نے منصوبہ بندی کرکے بہت ساری نعمتیں مہیا فرمائی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بشر کی اصلاح و تزکیہ کے لیے سب سے بہترین پروگرام پیش کیاہے۔ جو لوگ ان منصوبوں سے ہٹ کر غفلت و لاپرواہی کا مظاہرہ کریں ، وہ خسارے میں رہیں گے۔

انہوں نے مزیدکہا: افسوس کا مقام ہے بہت سارے لوگ آسمانی منصوبوں سے روگردانی واعراض کرتے ہیں۔ حالانکہ شریعت کے احکام پر عمل کرنا کوئی مشکل کام نہیں، ہر شخص اپنی طاقت اور صلاحیتوں کی حد تک شریعت پر عمل پیرا ہوسکتاہے۔ اسلام میانہ روی کا دین ہے اور اس میں آسانی ہے۔ روزہ صرف رمضان کے دنوں میں فرض ہے رات کو بھی روزہ نہیں ہے تاکہ ہم مشکل میں نہ پڑجائیں۔

رمضان المبارک کے بعض فضائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے اور روزہ رکھ کر ہم اس مہینے کا جشن مناتے ہیں۔ قرآن سے ہمیں مانوس کرنے کے لیے اللہ تعالی نے روزہ فرض قرار دیا۔ روزہ پیغمبروں کی سنت ہے۔ روزہ ہی سے تقوا حاصل ہوتاہے۔

روزہ اور تقوا کا تعلق واضح کرتے ہوئے شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کا اصلی مقصد خوف خدا اور تقوا کا حصول ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں ارشاد ہے: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ»؛ روزہ ہمیں گناہ ومعصیت دور رکھتاہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے جو شخص روزہ رکھتاہے لیکن گناہوں سے دوری نہیں کرتا، اللہ تعالی کو اس کے روزے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ روزے کا مطلب ہے گناہوں سے دوری کرنا۔ گناہ ہمیشہ منع ہے لیکن رمضان میں اس کی ممنوعیت بڑھ جاتی ہے۔ گناہ سے روزہ کے فائدے ختم ہوجاتے ہیں اور اس کا اجر کالعدم ہوتاہے۔

مولانا عبدالحمید نے بطور خاص تلاوت قرآن و دیگر نیک اعمال کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا: رمضان المبارک کے دوران شیطان قید وبند میں ہے اور نفس عبادت کی طرف مایل ہے۔ عبادت کے لیے یہ سنہری موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں۔ موسم عبادت سے پورا فائدہ اٹھائیں۔ زیادہ سے زیادہ قرآن پاک کی تلاوت کریں جو اصلاح نفس کے کیے ایک موثر طریقہ ہے۔

انہوں نے کہا: رمضان المبارک کے شروع ہی سے نیک اعمال کا اہتمام کریں۔ رمضان کے آخری ایام کا انتظار نہ کریں، شاید وہ دن ہمیں نصیب نہ ہوں ۔ اگر نصیب ہوئے تو زیادہ سے زیادہ عبادت کریں گے لیکن ابھی سے عبادات کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اس روحانی بہار کا پورا فائدہ اٹھانا چاہیے؛ یہ آسمانی مہمان اور توبہ کا مہینہ ہے۔ پہلے عشرے میں اپنی حد تک اللہ کی رحمتوں سے فائدہ اٹھائیں۔

خطیب اہل سنت نے مزیدکہا: مساجد کی جانب لپکیں اور نمازوں میں شریک ہوجائیں۔ اچھی طرح رمضان کی روحانیت اور فیض سے نفع لے کر اپنی ابدی زندگی سنواریں۔ اس کام کے لیے پوری طرح حالات سازگار ہیں۔ نماز پڑھتے ہوئے خاص کر تراویح میں آرام وسکون کا خیال کریں؛ حفاظ حضرات لوگوں کی نماز ناقص نہ کریں۔ نماز کے آداب وارکان کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اتنی جلدی قرآن نہ پڑھیں جو مقتدیوں کے لیے ناقابل فہم ہو۔

مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخر میں حقوق الناس، غریب و نادار لوگوں سے تعاون اور زکات و صدقات کی ادائیگی پر زور دیا۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین