شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے انفرادی و اجتماعی زندگی پر اسلامی شریعت کے آثار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسلامی احکام کو انسان کی اصلاح کے راستے پر قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے دس جولائی دوہزار پندرہ کے خطبہ جمعہ میں کہا: اللہ تعالی کی تمام دنیوی نعمتیں فانی ہیں جبکہ ایمان اور اعمال صالحہ ابدی اور لازوال ہیں۔ زندگی کی مہلت بہت تیزی سے ختم ہورہی ہے۔ لہذا سب کو نیک اعمال کی کوشش کرنی چاہیے اور اپنی آخرت سنوارنا چاہیے۔
انہوں نے مزیدکہا: اللہ تعالی کے احکام مثلا نماز، روزہ اور زکات و حج سب انسان کی اصلاح اور آخرت کی زندگی کے لیے مفید و کارگر ہیں۔ حج کا مطلب ہے سراسر تسلیم ہونا اور اللہ کے سامنے چوں وچرا نہ کرنا۔ یہ سب سے بڑا فخر اور کامیابی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ مقام بدرجہ اتم نصیب ہوا تھا۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: سب سے اہم نکتہ یہی ہے کہ بندے کا عزم ہو اخلاص پر دھیان دے گا اور ہر عبادت خاص اللہ کی رضامندی کے خاطر بجا لائے گا۔ اس روزے کا کوئی فائدہ نہیں کہ بندہ گناہوں سے پرہیز نہ کرے، نتیجے میں اسے پیاس و بھوک کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ نماز بھی خشوع و خضوع کے ساتھ ہونی چاہیے جبکہ زکات ادا کرتے ہوئے بھی اخلاص سے کام لینا چاہیے۔
انہوں نے کہا: اللہ کی بندگی و اطاعت کی توفیق بہت بڑا احسان ہے۔ آخرت کی زندگی کی رسوائی سے بچنے کے لیے اللہ کے احکام بجا لانا ہوگا۔ آخرت کی زندگی کے لیے تیاری ابھی سے شروع کرنا چاہیے۔ رمضان کے آخری ایام میں اس آسمانی مہمان کا زیادہ سے زیادہ اکرام کرنا چاہیے اور اس کو تلاوت اور ذکر و عبادت میں گزارنا چاہیے۔
فلسطین کی آزادی کا واحد راستہ جہاد ہے
ممتاز سنی عالم دین نے اسرائیل کو ایک ناجائز اور شیطانی ریاست یاد کرتے ہوئے کہا فلسطین کی آزادی کا واحد راستہ جہاد ہی ہے۔
سینکڑوں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے ’یوم قدس‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: فلسطین پر اسرائیلی قبضے سے کئی عشرے گزرچکے ہیں اور ابھی تک اس مسئلے کا حل نہیں نکلا ہے اور کوئی فلسطین کو صہیونی ریاست کے شکنجے سے نہیں نکال سکا۔
انہوں نے کہا: بہت سارے لوگوں کا خیال ہے مسئلہ فلسطین کا حل سیاسی ہے اور مذاکرات سے کوئی حل نکالا جاسکتاہے؛ یہ بالکل غلط نظریہ ہے، چونکہ اسرائیل ایک قبضہ گیر صہیونی ریاست ہے جو ہرگز منطق اور مکالمے پر یقین نہیں رکھتی ہے۔ اسرائیل نے زبردستی سے فلسطین پر اپنا قبضہ جمایاہے اور لوگوں کے گھر اور مکانات مسمار کرتا چلا آرہاہے۔
صدر جامعہ دارالعلوم زاہدان نے جہاد کو فلسطین کی آزادی کا واحد راستہ یاد کرتے ہوئے کہا: سیاسی طریقوں سے اگر کوئی حل کارساز ہوتا تو اب تک فلسطین آزاد ہوچکا ہوتا۔ جہاد ہی سے اسرائیل کی کمر توڑی جاسکتی ہے۔ جہاد ان کے لوگوں کے خلاف ہے جو منطق اور مکالمے پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ جہاد سے اسرائیل کو تسلیم ہونے پر مجبور کیا جاسکتاہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: بندہ دہشت گردی و شدت پسندی کے خلاف ہے، لہذا کوئی مجھ پر الزام عائد نہیں کرسکتا۔ البتہ جو صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں ان کا علاج طاقت ہی ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: فلسطین پر قبضے سے ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ گزرچکاہے اور ابھی تک فلسطینی عوام شکنجے میں ہیں۔ اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں آبادکاری کا کام جاری رکھا ہوا ہے اور مختلف شہروں کو یہودانے پر تلا ہواہے۔ اس کا مطلب ہے وہ اپنی قبضہ گیری پر خاتمہ نہیں دینا چاہتاہے۔ جو کہتے ہیں مذاکرات اور سیاسی طریقوں سے اسرائیل کو نکالا جاسکتاہے یا غدار ہیں یا نادان۔ صرف جہاد ہی اسرائیل کا علاج ہے۔
سابق سوویت یونین کے خلاف جہاد کے آثار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: جب سوویت یونین اور کمیونسٹوں نے افغانستان پر قبضہ جمایا تو جہاد ہی نے ان کی کمر توڑدی، نہ صرف افغانستان میں فاش شکست سے دوچار ہوئے بلکہ کل سوویت یونین بکھر گیا اور عالمی سطح پر کمیونسٹوں کو ہزیمت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاد کی برکت سے ریڈ آرمی کی ناک ہمیشہ کے لیے خاک میں ملادی گئی۔
انہوں نے مزیدکہا: مقدس اور شرعی جہاد نے سامراجی طاقتوں کو سخت نقصانات سے دوچار کیاہے۔ عراق و افغانستان پر قبضے سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو ایسی فاش شکست کا سامنا کرنا پڑا کہ میرے خیال میں ناقابل تلافی ہے۔ چنانچہ آج امریکی حکام کو کسی بھی ملک خاص کر اسلامی ملک میں فوج اتارنے کی ہمت نہیں ہے اور وہ عسکری مداخلت سے گریزاں ہیں، اس کی وجہ یہی ہے کہ جہاد سے انہیں ناقابل تلافی خسارے سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ اسی طریقے سے جہاد ہی کی برکت سے اسرائیل کو لگام لگایا جاسکتاہے۔
اپنے خطاب کے آخر میں مولانا عبدالحمید نے نمازیوں سے درخواست کی دینی مدارس خاص کر جامعہ دارالعلوم زاہدان سے مالی تعاون کریں جن کا بھروسہ صرف عوامی چندوں پر ہے۔

آپ کی رائے