خطیب اہل سنت زاہدان نے ملک کے موجودہ بحرانوں اور معاشی مشکلات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ’اللہ رب العزت کی حمایت‘ اور ’قوم کے ساتھ دینے‘ کی دو بنیادوں کو ان بحرانوں سے نجات کے لیے ضروری قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بائیس جون دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں ’ہفتہ عدلیہ‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پھانسی کی سزا میں اصلاح لانے پر مسرت کا اظہار کیا اور جانبدار ججوں کے ہٹانے کا مطالبہ پیش کیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے عید الفطر کے پرمسرت موقع پر ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے ایران کی داخلہ و خارجہ پالیسیوں میں نظرثانی اور عالمی حالات کے مطابق ان میں تبدیلی لانے پر زور دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے آٹھ جون دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں رمضان المبارک کے ختم ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ماہ رمضان ختم ہونے والا ہے اور باقی دنوںمیں زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت کریں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے یکم جون دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں رمضان المبارک کو ’تبدیلی‘ کا مہینہ یاد کیا جس میں دینی و معاشرتی بیداری حاصل ہونی چاہیے۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے پچیس مئی دوہزار اٹھارہ کے بیان میں اصلاح نفس میں روزے کی تاثیر پر گفتگو کرتے ہوئے اسے پرہیزگاری، اطاعت شعاری اور خیرخواہی پیدا کرنے والی عبادت قرار دی۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے روزہ کو حصول تقوی میں موثر عبادت یاد کرتے ہوئے رمضان المبارک کے سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے گیارہ مئی دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں انسان کے سامنے موجود چیلنجوں کا تذکرہ کرتے ہوئے نماز، روزہ، زکات، حج، تلاوت قرآن، ذکر وفکر، گناہ چھوڑنا اور شریعت پر عمل کرنے کو اصلاح نفس اور چیلنجوں سے نجات کے لیے موثر قرار دیا۔
نوٹ: گزشتہ کئی سالوں سے اہل سنت ایران کے ممتاز دینی رہ نما شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نامعلوم وجوہ کی بناپر صوبہ سیستان بلوچستان اور تہران شہر کے علاوہ ایران کے کسی بھی علاقے کا دورہ نہیں کرسکتے۔ چنانچہ صوبہ خراسان کے خواف اور تایباد میں انہیں نماز جنازہ میں شرکت سے روک دیا گیا۔ […]
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے ستائیس اپریل دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں ’نفاذ عدل‘ اور ’مساوات‘ کو اتحاد و بھائی چارہ کے استحکام کے اہم ترین ذرائع یاد کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا امتیازی پالیسیوں سے اجتناب کریں۔