شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں خطبہ جمعہ (انیس اکتوبر دوہزار اٹھارہ) میں نیک اور برے اعمال کے نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے دنیا کے تمام بحرانوں اور خاندانی و قبائلی اور معاشرتی مسائل کو بری حرکتوں کا ثمرہ قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بارہ اکتوبر دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں انسانی و جنی شیاطین کی لوگوں کے ایمان کے لیے ریشہ دوانیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ’قرآن و سنت کی اتباع‘ کو ان فتنوں سے نجات کا واحد راستہ یاد کیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے پانچ اکتبر دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں ’ایمان‘ کو امن عالم کے لیے گارنٹی قرار دیا اور ’گناہ‘ و ’ظلم‘ کو امن عالم کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے اٹھائیس ستمبر دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں اہل سنت کی مقدسات کی توہین کی شدید مذمت کرتے ہوئے گستاخوں کو سزا دینے اور ان کی سزا کی خبر عوام تک پہنچانے پر زور دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے اکیس ستمبر دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعے کا آغاز سورت البقرۃ کی آیات 30-32 کی تلاوت سے کرتے ہوئے علم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بچوں کی تعلیم اور درست تربیت پر زور دیا۔
ممتاز عالم دین شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے چودہ ستمبر دوہزار اٹھارہ کے بیان میں اہل سنت ایران کے مطالبات کو ٹالنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکام پر واضح کیا اگر سنی برادری کے مسائل حل نہ ہوں، مستقبل میں کوئی امید باقی نہیں رہے گی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے سات ستمبر کے بیان میں حج کے پیغامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کعبہ معظمہ کو مسلمانوں کے لیے سب سے پرکشش مقام یاد کیا جس کی زیارت کی خواہش سب کے دلوں میں موجزن ہے۔
نائب خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے اکتیس اگست دوہزار اٹھارہ کے بیان میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں حیا، عفت اور سخاوت میں سب کے لیے اسوہ و مثال یاد کیا اور صحابہ کرامؓ کے فضائل کے تذکرے کا مقصد اقتدا و اتباع قرار دیا۔
زاہدان کے مرکزی اجتماع برائے نماز جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم زاہدان کے استاذ نے ’ہفتہ حکومت‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عوام کی خدمت کے لیے مزید محنت کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے ہر حال میں میرٹ کو ملازمتوں اور عہدوں کی تقسیم میں مدنظر رکھنے پرتاکید کی۔
اہل سنت ایران کی سب سے بڑی عیدگاہ زاہدان میں واقع ہے جہاں سنی برادری نے بدھ بائیس اگست کو نماز عید قائم کی۔