شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے انتیس دسمبر دوہزار سترہ کے خطبہ جمعہ میں اعتقادی و عملی نفاق کو انسان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یاد کرتے ہوئے مال اور اولاد کی ’حد سے زیادہ محبت‘ کو منافقت کے اسباب میں شمار کیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بائیس دسمبر دوہزار سترہ کے خطبہ جمعہ میں صبر و تقوی کو دو عظیم نعمتیں یاد کرتے ہوئے ان نعمتوں پر توجہ کو اللہ تعالی کی رضامندی اور نصرت کے حصول کے لیے موثر قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے پندرہ دسمبر کے بیان میں ایک بار پھر امریکی صدر کے فیصلے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے مسلم ممالک اور عوام کو مسجد الاقصی کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دیتے ہوئے اسے ان کا ’جائز اور ناقابل اعتراض حق‘ قرار دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو صہیونی ریاست کے دارالحکومت تسلیم کرنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا اسرائیل اور امریکا نے ایک خطرناک کھیل کا آغاز کیا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے یکم دسمبر دوہزار سترہ کے خطبہ جمعہ میں نبی کریم ﷺ کو پوری انسانیت کے لیے قابل فخر یاد کرتے ہوئے انہیں انسانیت کا بہترین اسوہ قرار دیا۔
نامور سنی عالم دین مولانا عبدالحمید نے اپنے تازہ ترین بیان میں ایسے لوگوں پر تنقید کی جو اسلام کو کسی مخصوص حکم تک منحصر کرتے ہیں۔ انہوں نے تمام مسلمانوں کو دعوت دی شدت پسندانہ افکار و رویوں سے گریز کرکے حالات کے مطابق اسلام کا تعارف پیش کریں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے سترہ نومبر دوہزار سترہ کے خطبہ جمعہ میں زلزلہ سمیت تمام آفتوں کو ’آسمانی وارننگ‘ یاد کرتے ہوئے عوام و حکام کو توبہ و استغفار کی ترغیب دی۔ انہوں نے متاثرین سے تعاون اور ان کی اشک شوئی کو ’جہاد‘ یاد کیا۔
اہل سنت ایران کی ممتاز دینی و سماجی شخصیت نے مشرق وسطی کی ابتر صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے مسلم حکام کو مزید ضبط و برداشت اور دوراندیشی و سمجھداری دکھانے کی نصیحت کی۔
اہل سنت ایران کے ممتاز عالم دین نے صوبہ سیستان بلوچستان کی سرحدات دوبارہ کھولنے پر زور دیتے ہوئے عوام کی معاشی صورتحال کے پیش نظر یہاں کاروبار کو رونق دینے پر تاکید کی۔
اہل سنت ایران کی ممتاز دینی شخصیت نے اپنے ستائیس اکتوبر دوہزار سترہ کے خطبہ جمعہ میں صوبہ سیستان بلوچستان کی تقسیم کو حکومت اور عوام کے مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا تقسیم کے بجائے امتیازی رویوں کا خاتمہ کرکے پسماندگی کی بیخ کنی کی جائے۔