خطیب اہل سنت زاہدان نے حصول روزقِ حلال پر زور دیتے ہوئے مردوں اور عورتوں کو حلال روزی کمانے کی ترغیب و تاکید کی۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے سات دسمبر دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں ’خداجوئی اور حق طلبی‘ کو فطری مسئلہ یاد کرتے ہوئے شرک و ریاکاری اور کفریہ عقائد سے پرہیز کرنے پر زور دیا اور توحید ہی کو نجات کا واحد راستہ قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے تیس نومبر دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں آخرت میں کامیابی کے لیے محنت کرنے پر زور دیتے ہوئے فانی زندگی کے مواقع سے درست فائدہ اٹھانے پر تاکید کی۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے تئیس نومبر دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں قرآن و سنت کی روشنی میں امت مسلمہ کے اتحاد قائم رکھنے پر زور دیتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکام اور اصحاب مدارس کو عملی اتحاد کے لیے کوشش کرنے کا مشورہ دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے نو نومبر دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں بداخلاقی کو اسلامی تعلیمات کے خلاف یاد کرتے ہوئے کہا لوگوں سے اچھے برتاو رکھنے کے بغیر کوئی نمازی دیندار نہیں بن سکتا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے دعا میں ’حضور قلب‘ اور ’تضرع‘ کی حالت اپنانے پر زور دیتے ہوئے اسباب اختیار کرتے ہوئے رب الاسباب کو یاد رکھنے کی ضرورت پر تاکید کی۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے چھبیس اکتوبر دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں انفرادی و اجتماعی طورپر اعمال کی اصلاح پر زور دیتے ہوئے کہا ہر شخص کو قیامت کے دن اپنی حیثیت اور مقام و عہدہ کے مطابق جوابدہ ہونا ہوگا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں خطبہ جمعہ (انیس اکتوبر دوہزار اٹھارہ) میں نیک اور برے اعمال کے نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے دنیا کے تمام بحرانوں اور خاندانی و قبائلی اور معاشرتی مسائل کو بری حرکتوں کا ثمرہ قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بارہ اکتوبر دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں انسانی و جنی شیاطین کی لوگوں کے ایمان کے لیے ریشہ دوانیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ’قرآن و سنت کی اتباع‘ کو ان فتنوں سے نجات کا واحد راستہ یاد کیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے پانچ اکتبر دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں ’ایمان‘ کو امن عالم کے لیے گارنٹی قرار دیا اور ’گناہ‘ و ’ظلم‘ کو امن عالم کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔