اگر کسی کا شیخ زندہ نہ ہو وہ بھی مشکلات میں اپنی وائے سے فیصلہ نہ کرے بلکہ اس کو اپنے چھوٹوں سے مشورہ کرنا چاہئے۔
’’العلماء ورثۃ الانبیاء‘‘ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ امام محمد رحمہ اللہ کو کسی نے خواب میں دیکھا، پوچھا کہ آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟ فرمایا، جب میں درگاہ رب العزت میں حاضر ہوا مجھ سے فرمایا گیا کہ کیا مانگتے ہو؟ میں نے عرض کیا،
’’یاایھاالناس اناخلقناکم من ذکروانثٰی وجعلناکم شعوباوقبائل لتعارفواان اکرمکم عنداللہ اتقاکم،ان اللہ علیم خبیر‘‘۔(الحجرات:۱۳)ترجمہ:اے آدمیو!ہم نے تم کوبنایاایک مرداورایک عورت سے ،اوررکھیں تمہاری ذاتیں اور قبیلے،تاکہ آپس کی پہچان ہو،تحقیق عزت اللہ کے یہاں اسی کوبڑی جس کوادب بڑا،اللہ سب کچھ جانتا ہے، خبردار۔(ترجمہ شیخ الہندؒ ۶۸۶)
حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تہذیبی اور تمدنی تعلیمات و ہدایت میں اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ آپ نے لوگوں کے اذہان و قلوب میں خدائے وحدہ لاشریک کی وحدانیت و حقانیت کا عقیدہ راسخ کرکے انہیں احترام آدمیت اور تکریم انسانیت کے اعلیٰ مقام سے آشنا کیا۔
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے قیامت کی جو علامات بتائی ہیں ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ بہت سے گناہوں اور برائیوں کا ارتکاب مہذب او رشائستہ ناموں سے کریں گے ، شراب نوشی کریں گے، مگر نام بدل دیں گے ، سود خوری کریں گے او راس کو نام […]
ارشاد باری تعالیٰ ہے (ترجمہ)’’جو لو گ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں انکی کہاوت اس دانہ کی سی ہے جس سے سات بالیں نکلیں ، ہر بال میں سو دانے اور اللہ جسے چاہتے ہیں زیادہ عطا فرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والے اور بڑے علم والے ہیں‘‘(البقرہ:۲۶۱)
’’والعصر، ان الانسان لفی خسر،الاالذین آمنواوعملوالصالحات، وتواصوابالحق وتواصوابالصبر۔‘‘(سورۃ العصر)ترجمہ:قسم ہے عصر کی،مقرر انسان ٹوٹے میں ہے،مگرجولوگ کہ یقین لائے اورکئے بھلے کام اورآپس میں تاکیدکرتے رہے سچے دین کی اورآپس میں تاکید کرتے ر ہے تحمل کی۔(ترجمہ شیخ الہند)
اذان کی روح پرور گونج صرف نماز کیلئے بلاوا یا ہمارے دل اور روح کے سرور کا باعث ہی نہیں ہے بلکہ یہ اسلام کی عظمت کا نشان ہے۔
والدین کی عظمت و تقدس کا اعتراف ایمان کا ایک اہم حصہ ہے،اس شخص کو جنت کی خوشخبری دی گئی ہے جو ماں کی خدمت کے لئے خود کو وقف رکھتاہو، حضور کی یہ حدیث چشم کشا ہے، کہ ماں کی قدموں کے نیچے جنت ہے (نسائی ج: ص )
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:(اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْراً فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضَ مِنْہَا اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ)۔اللہ کے نزدیک مہینے گنتی میں بارہ ہیں، اس روز سے کہ اس نے آسمانوں او رزمین کو پیدا کیا۔ اللہ کی کتاب میں سال کے بارہ مہینے لکھے ہوئے ہیں، ان میں […]