ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ،
سیدنا ومولانا حضرت محمد مصطفیٰ ، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت پیر کے روز صبح صادق کے وقت ربیع الاول ،عام الفیل ،بمطابق اپریل 571ء میں ہوئی،
عہد جاہلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کا زمانہ جاہلی کہلاتا ہے، سیرت نبوی کے پس منظر کے طور پر یہ زمانہ بھی زیربحث آتا ہے، خاص طور پر عربوں کی ماقبل اسلام تہذیب و معاشرت دل چسپی کا موضوع بنتے ہیں۔۔۔
دنیا تبدیلی کا شکار ہوتی رہتی ہے … حالات کروٹ بدلتے رہتے ہیں …اسی ضمن میں انسانوں کو مختلف مسائل درپیش ہوتے، کبھی اچھائی کا راج ہوتا ہے، کبھی برائی غالب آجاتی ہے۔
تاریخ کے اتاہ سمندر میں جہاں ہر طرف تاریکی ہے ظلمت ہے وحشت بربریت اور خوف کی لہریں گاہ بگاہ اٹھتی نظر آتی ہیں، ابن آدم کا سفینہ حیات شیطنت کے طوفان بلاخیز میں ہچکولے کھاتا دکھائی دیتا ہےانسان اپنے ہی ابنائے جنس کی زیادتیوں کا شکار ہے۔
انسانیت سوز پر آشوب ماحول وفضا میں خالق یزداں نے مربیٔ کائنات صلی اﷲعلیہ وسلم کو مبعوث فرمایا،
سیرت نبوی کے مطالعے کی اہمیت کے بیان میں اس سے زیادہ اور کسی بات کی ضرورت نہیں ہے کہ اس میں انسانی افراد اور جماعتوں کے لیے وہ کامل اور سدابہار نمونہ ہے جس کو اسی لیے تیار کیا گیا تھا کہ فرزندان آدم ہر حال میں اس سے اپنے لیے رہنمائی اور ہدایت […]
امت مسلمہ کی تاریخ کا یہ بڑا المنا ک پہلو رہا ہے کہ اغیار اور دشمنان اسلام نے ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کے صاف و شفاف کردار پردھبہ لگانے کی کوشش کی ہے اور گذشتہ چند سالوں سے تذلیلی خاکوں اور نازیبا تبصروں کا سلسلہ جو شروع ہوا ہے وہ مذموسلسلہ آج بھی جاری ہے […]
نور بصیرت اور نور بصارت میں فرق: دل کی آنکھ سے دیکھنا نور بصیرت ہے اورظاہری آنکھ سے دیکھنا نور بصارت ہے اور دل کی آنکھ کے حصول کیلئے اپنے آپ کو کسی فقیر کی غلامی میں مکمل سچائی سے دینا ہوگا۔
مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ (۱۹۱۴ء۔۲۰۰۹ء بلاشبہ اس دور میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے تھے۔ (۱) زہد و تقویٰ، رسوخ فی العلم، اصابتِ فکر اور طرز استدلال میں ان کی مثال ملنا مشکل تھی۔