مولانا عبدالحمید: ایرانی اہل سنت کے حقوق انہیں فراہم کیاجائے

مولانا عبدالحمید: ایرانی اہل سنت کے حقوق انہیں فراہم کیاجائے

ایران میں انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر زاہدان میں خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالحمید نے اہل سنت کے حقوق کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے ملک کے اعلی اداروں اورعہدوں پر ان کی تعیناتی کو ملکی اتحاد کے لیے ضروری قرار دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے خطبہ جمعہ چھ فروری دوہزار پندرہ کے ایک حصے میں ایران کے عوامی انقلاب 1979ءکی سالگرہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایرانی قوم کا انقلاب آزادی اور حق خودارادیت کے لیے تھا۔ جب قوم نے محسوس کیا ایران دوسروں کا غلام بن چکاہے اور عوام آزادی و استقلال سے محروم ہیں، تو سب نے آیت اللہ خمینی کی قیادت میں آمر حکومت کے خلاف قیام کیا۔
انہوں نے مزیدکہا: ایرانی قوم اس لیے سڑکوں پر شاہ کی حکومت کے خلاف نکل آئی تا کہ دینی و انسانی آزادیوں پر دسترسی حاصل کرے اور اپنی تقدیر کا لگام اپنے ہی ہاتھوں میں لے لے۔ اس انقلاب کی کامیابی میں معاشرے کے تمام طبقوں نے حصہ لیا۔ اہل سنت ایران نے بھی اس انقلاب میں پوری قوم کے ساتھ جد وجہد کی۔
مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: ایرانی اہل سنت ہمیشہ قومی میدانوں میں سرگرم رہے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت کی ہے۔ اس برادری کا اتحاد و بھائی چارہ کے فروغ میں بڑا حصہ ہے جو کسی بھی حکومت کی بقا کے لیے ضروری ہے۔
ممتاز سنی عالم دین نے اہل سنت ایران کے بعض مطالبوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایرانی اہل سنت کا تعلق ایران ہی سے ہے اور وہ اسی ملک کے رہنے والے ہیں۔ ایران ان کا مادر وطن ہے۔ اسی لیے امید کی جاتی ہے ان کے اہل اور قابل افراد سے ملک چلانے میں کام لیاجائے اور چھوٹے بڑے محکموں میں مختلف عہدوں کو ان سے دریغ نہ کیاجائے ۔ اس طرح وہ اپنے ملک کی ترقی اور امن میں شریک ہوں گے۔
مولانا عبدالحمید نے یاددہانی کرتے ہوئے کہا: اہل سنت ایران کا ایک مطالبہ یہ ہے انہیں ان کے آئینی حقوق اور آزادیاں فراہم کی جائیںتاکہ اپنی فقہ کے مطابق کسی خوف وہراس کے بغیر اللہ کی عبادت کیا کریں اور اپنے بچوں کو تعلیم دلوائیں۔ ہم چاہتے ہیں اہل تشیع کے ساتھ کسی خوف و ہراس کے بغیر پرامن زندگی گزاریں۔
انہوں نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا اہل سنت ایران کے مطالبات پر مزید توجہ دیں اور ان کے مسائل کا حل نکالنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔ انہوںنے کہا: امیدہے ملک میں اتحاد و بھائی چارہ پہلے سے زیادہ مستحکم ہوجائے اور اہل سنت ایران پہلے کی طرح ہر ملکی و قومی موقع میں سرگرم نظر آئیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے ایک حصے میں ڈاکٹر ابراہیم جمالزہی کے سانحہ انتقال کو صوبے کے علمی حلقے کے لیے ’بڑا سانحہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا: اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے جو شہر کے ایک مخلص اور متواضع سپیشلسٹ ڈاکٹر تھے۔ ڈاکٹر جمالزہی ایک حادثے میں شدید زخمی ہوئے اور پھر ان کا انتقال ہوا۔
اپنے بیان کے آخر میں خطیب اہل سنت زاہدان نے شہر کے ایک عالم دین حافظ محمدظاہر خمر کی شہادت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شہید کے علودرجات اور پس ماندگان کے لیے اجروصبر کی دعا کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی ان کے قاتل جلدازجلد گرفتار ہوکر رسوا ہوجائیں اور شہر میں امن قائم ہو۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں

تازه ترین