بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہم نئے ہجری سال 1448 کے آغاز پر دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ وہ اس سال کو امتِ مسلمہ کے لیے امن و سلامتی، ایمان و صحت اور اپنی رضا و خوشنودی کا سال بنائے۔ نئے قمری سال کے آغاز پر یہ مسنون دعا بھی پڑھنی چاہیے:
«اللهم أدخله علینا بالأمن والإیمان والسلامة والإسلام ورضوانٍ من الرحمن وجوارٍ من الشیطان.»
اس دعا کو حضورِ قلب کے ساتھ پڑھیں اور سال کا آغاز دو رکعت نمازِ حاجت، دعا اور استغفار سے کریں، اور اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی بھلائی طلب کریں۔
ہر نئے سال کا آغاز اپنے نفس کا محاسبہ کرنے اور گزشتہ کارکردگی کا جائزہ لینے کا ایک قیمتی موقع ہوتا ہے۔ ہمارے اکابر ہمیشہ اس بات کی تلقین کرتے رہے ہیں کہ ایسے مواقع پر انسان اپنے گزشتہ سال کے اعمال و احوال کا جائزہ لے، یہ غور کرے کہ اس نے اپنے فیصلوں اور منصوبوں پر کس حد تک عمل کیا اور دینی، اخلاقی اور سماجی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کس قدر کامیاب رہا۔ نیا سال کوتاہیوں کی تلافی اور کامیابیوں سے بھرپور ایک نئی راہ اختیار کرنے کا بہترین موقع ہے۔
مناسب ہے کہ ہم نئے سال کو اپنی اصلاح اور مثبت تبدیلی کا سال بنائیں۔ اکابر کا یہ مشہور قول ہمیشہ ہمارے سامنے رہنا چاہیے: «من استوی یوماه فهو مغبون» یعنی جس شخص کے دو دن برابر ہوں وہ خسارے میں ہے۔ ایک مومن کا آج اس کے کل جیسا اور اس کا یہ سال گزشتہ سال جیسا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے ہر دن اور ہر سال اپنے ماضی سے بہتر ہونا چاہیے۔ درست منصوبہ بندی، صالحین اور نیک فکر لوگوں کی صحبت، علماء و اکابر کی تصنیفات کا مطالعہ اور دعا کی پابندی کے ذریعے ترقی و کمال کی راہ طے کی جاسکتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے نیک مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں مظلوموں کی دردناک حالت سے بھی غافل نہیں ہونا چاہیے۔ مسلمانوں کے خلاف جاری ظلم و ستم، خصوصاً فلسطین اور غزہ کے مظلوم عوام پر ہونے والے مظالم، ہم سب کی ذمہ داریوں کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔
ہمارے لیے ایران میں 1447 ہجری بھی ایک نہایت سخت اور آزمائشوں سے بھرپور سال تھا۔ ایک طرف ہمیں بیرونی دشمنوں کی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا اور دوسری طرف داخلی سطح پر بھی سنگین اور تکلیف دہ چیلنجوں سے گزرنا پڑا۔ ان واقعات کو ہم سب کی بیداری، باہمی ہمدردی و اتحاد کے فروغ اور نئی نسل کی بامقصد و مؤثر تربیت کی جانب توجہ کا سبب بننا چاہیے۔ علماء، مربیان اور معاشرے کے تمام خیرخواہوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام میں ایمان، شعور اور احساسِ ذمہ داری کو زندہ رکھیں۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ نئے سال کو خیر، عافیت، برکت، امن، عدل اور سکون کا سال بنائے، امتِ مسلمہ کو تفرقے اور کمزوری سے نجات عطا فرمائے، مظلوموں کی مدد کرے، مسلمانوں کو عزت، اتحاد اور سربلندی نصیب فرمائے اور ہمارے ملک کو ہر قسم کے شر و فساد سے محفوظ رکھے۔
سال 1448 ہجری کا آغاز ایران اور دنیا کے تعلقات میں ایک اہم تبدیلی کے ساتھ ہوا ہے؛ ایسی تبدیلی جو اپنے ممکنہ اتار چڑھاؤ سے قطع نظر ایک نئے دور کے آغاز کی نشاندہی کرتی ہے۔ امید ہے کہ اس نئے مرحلے میں ریاست اور عوام کے درمیان ایک تازہ تعلق قائم ہوگا، رنجیدہ دلوں کو خوشی نصیب ہوگی، امتیاز اور نابرابری کی جگہ عدل، مساوات اور برابری لے گی، اور تمام صلاحیتیں اور توجہ عوام کی متاثرہ معاشی حالت کی بحالی اور ایران و ایرانیوں کے بہتر مستقبل کی تعمیر پر مرکوز ہوں گی۔
آخر میں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ محرم الحرام حرمت والے مہینوں میں سے ایک اور سال کے سب سے بابرکت مہینوں میں شمار ہوتا ہے۔ صحیح حدیث میں وارد ہے کہ رمضان المبارک کے بعد سب سے افضل روزے اسی مہینے کے روزے ہیں۔ لہٰذا ان ایام کو روزہ رکھنے، دعا، تلاوتِ قرآنِ کریم، نمازوں کی پابندی خصوصاً نمازِ فجر کا اہتمام کرنے اور گناہوں سے بچنے میں غنیمت جانیں تاکہ نئے سال کا آغاز اطاعت و بندگی کے ساتھ ہو۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ سال 1448 ہجری کو ہم سب کے لیے رحمت، مغفرت، امن، خیر و برکت کا سال بنائے اور ہم سب کو اخلاص کے ساتھ اس کی بندگی اور دین و معاشرے کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

آپ کی رائے