مولانا عبدالحمید:

تمام فریق مثبت سوچ کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کریں/ ایرانی وفد قومی مفادات اور عوامی صورتحال کو مدنظر رکھے

تمام فریق مثبت سوچ کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کریں/ ایرانی وفد قومی مفادات اور عوامی صورتحال کو مدنظر رکھے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 10 اپریل 2026 کو زاہدان میں نماز جمعہ کے اجتماع کے دوران جنگ بندی کے معاہدے اور مذاکرات کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں کو جنگ بندی کی پابندی کرنے کی سفارش کی۔
خطیبِ زاہدان نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ فریقین مثبت سوچ کے ساتھ ان مذاکرات میں شرکت کریں، ایرانی وفد سے مطالبہ کیا کہ وہ ان مذاکرات میں دو اہم موضوعات “قومی مفادات” اور “عوام کی زندگی کے حالات و صورتحال” کو مدنظر رکھیں اور پابندیوں اور خطرات کے خاتمے کے لیے کوشش کریں۔

جنگ بندی کے معاہدے سے سب خوش ہیں
اہل سنت زاہدان کے خطیبِ جمعہ کے دفتر کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے کہا: جنگ بندی کے قیام کے لیے ہونے والے معاہدے سے سب خوش ہیں۔ اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ برسرپیکار فریقین کسی معاہدے پر پہنچیں اور ایک دوسرے سے مذاکرات کریں۔ نقصان اور جنگ کو جہاں سے بھی روکا جائے وہ سب کے حق میں اور بہتر ہے۔ جنگ میں تباہی اور نقصان ہے۔
انہوں نے مزید کہا: سب سے بڑی نصیحت یہ ہے کہ فریقین اس جنگ بندی کے پابند رہیں؛ جنگ بندی کا احترام سب کے مفاد میں ہے۔

مذاکرات میں قومی مفادات اور عوامی صورتحال پر توجہ دی جائے/ اللہ تعالی کی رضا عوام کی رضامندی حاصل کرنے کے راستے سے حاصل ہوتی ہے
خطیبِ جمعہء زاہدان نے مذاکرات میں فریقین کی مثبت سوچ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام فریق مثبت سوچ، وسیع نقطہء نظر اور جنگ کے نتائج پر توجہ دیتے ہوئے ان مذاکرات میں شرکت کریں۔ ایرانی وفد کو ہماری نصیحت یہ ہے کہ وہ ان مذاکرات میں پوری قوم کے مفادات اور عوام کی صورتحال کو مدنظر رکھے۔
انہوں نے واضح کیا: قومی مفادات ترجیح رکھتے ہیں اور ہم نے ماضی میں بھی ہمیشہ قومی مفادات کے تحفظ اور عوام کے مطالبات و مفادات پر توجہ دینے پر زور دیا ہے۔ اللہ تعالی کی رضا کمزور اور طاقتور طبقات سمیت تمام گروہوں کی رضامندی حاصل کرنے سے حاصل ہوتی ہے؛ اگر ہمارے ساتھ اللہ اور عوام ہوں تو ہمیں پھر کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ اگر ہم قومی مفادات اور قوم کے مطالبات کو مدنظر رکھیں تو اللہ تعالی ہم پر کئی گنا زیادہ رحم فرمائے گا۔

ایرانی عوام نے جنگ کے مشکل حالات میں صبر کیا اور اپنے مطالبات پیش نہیں کیے، ان لوگوں کی قدر کریں / پابندیوں اور خطرات کے خاتمے کے لیے کوشش ہونی چاہیے
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا: آج ایرانی عوام انتہائی مشکل اور کٹھن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور ان جنگی حالات میں بھی انہوں نے بھوکے پیٹ صبر کیا اور اپنے مطالبات اور ضروریات پیش نہیں کیں۔ ان لوگوں کی قدر کرنی چاہیے اور ان کے مطالبات پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم سب کو عوامی طرز پر زندگی گزارنی چاہیے اور لوگوں کی معیشت اور زندگی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ پابندیوں اور خطرات کو دور کرنے کی کوشش ہونی چاہیے تاکہ مسائل حل ہوں اور لوگ زندگی گزار سکیں۔ قومیں کسی بھی معاشرے اور ملک کا سب سے بڑا سرمایہ اور اثاثہ ہوتی ہیں اور اس اثاثے کی حفاظت کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

جنگ نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے زخم لگائے ہیں/ اگر درست راستہ منتخب کیا جائے نصرتِ الہی اور عوامی حمایت سے ان نقصانات کا ازالہ کیا جا سکتا ہے
خطیبِ زاہدان نے کہا کہ بدقسمتی سے اس جنگ میں بہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے اور ملک اور بنیادی ڈھانچے کو بہت بڑے نقصانات پہنچے ہیں لیکن اگر درست راستہ منتخب کیا جائے اور پالیسیوں اور رویوں پر نظر ثانی کر کے انہیں عوام کی خواہشات کے مطابق ڈھالا جائے تو اللہ تعالی کی مدد اور عوام کی حمایت سے ان نقصانات کی تلافی ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میری سب کو نصیحت ہے کہ وہ اپنے آپ اور اپنی زندگی میں نظر ثانی کریں اور تبدیلی لائیں۔ والدین اولاد کے ساتھ، میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ اور اولاد والدین کے ساتھ برتاؤ میں تبدیلی لائیں، اور حکام بھی عوام کے بارے میں اپنے اندر تبدیلی لائیں اور عوام کی خاطر اپنی خواہشات سے دستبردار ہو کر عوام کے ساتھ کھڑے ہوں اور لوگوں کے مطالبات و مسائل حل کریں تاکہ اللہ اور عوام کی رضا حاصل ہو۔

پڑوسی ممالک ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح پیش آئیں کہ مستقبل میں ایک دوسرے کے سامنے شرمندہ نہ ہوں
مولانا عبدالحمید نے اپنی گفتگو کے اگلے حصے میں پڑوسی ممالک کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پڑوسی ممالک کے درمیان تاریخی اور دیرینہ تعلقات ہیں، اس لیے انہیں ہمیشہ ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے اور ایک دوسرے کی رعایت کرنی چاہیے۔ پڑوسی ممالک کو اس طرح کا برتاؤ کرنا چاہیے کہ ان حالات اور صورتحال کے گزرنے کے بعد وہ ایک دوسرے کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔

سیستان میں پانی کی آمد کی اجازت دینے پر امارت اسلامیہ افغانستان کے حکام کا شکریہ ادا کرتا ہوں
مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ کی تقریب کے آخری حصے میں افغانستان کی امارت اسلامیہ کے حکام کا اس ملک سے سیستان کے علاقے میں پانی کی آمد پر شکریہ ادا کیا اور کہا: یہ مناسب ہے کہ میں امارت اسلامی کے حکام کا شکریہ ادا کروں؛ میں شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے سیستان میں پانی کی آمد کے لیے راستہ فراہم کیا۔ سیستان کے عزیز عوام نے سالہا سال خشک سالی اور پانی کی عدم دستیابی کی تکلیف برداشت کی۔ الحمدللہ اب اس علاقے تک پانی پہنچ گیا ہے۔ الحمدللہ افغانستان اور دیگر علاقوں میں بھی بارشیں بہت ہوئی ہیں اور دریاؤں میں جان آگئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: عید الفطر کی نماز کے موقع پر سیستان کے پانی کے مسئلے کے بارے میں میری گفتگو کے بعد، صوبہ نیمروز کے عزیز عوام نے مجھ سے گلہ کیا تھا کہ میں نے اس صوبے میں پانی کی کمی کے مسئلے پر بات کیوں نہیں کی۔ لیکن الحمدللہ اب بارشیں زیادہ ہوگئی ہیں اور پانی کے دروازے نیمروز اور سیستان کی طرف کھل گئے ہیں۔ ہماری افغانستان کے حکام سے درخواست ہے کہ وہ اس پانی کو سیستان اور نیمروز میں داخل ہونے سے نہ روکیں تاکہ دریا کا بہاؤ جاری رہے۔ ایران اور افغانستان کے لوگ ایک دوسرے کے بہترین شراکت دار ہیں جو ہمیشہ بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ رہے ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں