زاہدان (سنی آن لائن) جامعہ دارالعلوم زاہدان کے فارغالتحصیل اور فیض یاب طلبہ صوبہ گلستان سے جامعہ پہنچے جہاں جمعرات ۲۹ نومبر ۲۰۲۵ کو اساتذہ کے ساتھ ان کی خصوصی ملاقات منعقد ہوئی۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، اجلاس کے آغاز میں بعض فضلا نے صوبہ گلستان میں اپنی سرگرمیوں، چیلنجز اور مسائل کی رپورٹ پیش کی۔ اس کے بعد شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید، مولانا مفتی محمد قاسم قاسمی، مولانا عبدالغنی بدری، مولانا عبیداللہ موسی زادہ، حافظ محمد اسماعیل ملازئی اور حجۃ الاسلام سید ابوالحسن نواب (صدر جامعہ ادیان و مذاہب) نے حاضرین سے خطاب کیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید: علماء کو لوگوں کی تزکیہ و اصلاح کی فکر کرنی چاہیے
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے حاضرین کا استقبال کرتے ہوئے کہا: زندگی گزر رہی ہے، ہم سب کو جانا ہے اور اللہ سے ملنا ہے، وہاں صرف عمل ہی کام آئے گا۔ انسان کی قدر اس کے عمل سے ہے۔ ہماری ذمہ داری بہت بھاری ہے۔ ہم خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کا دعویٰ نہیں کرسکتے، لیکن ان سے نسبت ضرور رکھتے ہیں اور اس نسبت کی حفاظت کرنی ہے۔ نبی اکرم کی بعثت رسالت ادا کرنے، ذمہ داری نبھانے اور انسانیت کو زندہ کرنے کے لیے تھی۔
شیخ الحدیث و صدر دارالعلوم زاہدان نے مزید کہا: صحابہ جب ایمان لاتے تو پوچھتے “اب کیا کریں؟” نبی اکرمﷺ فرما دیتے کہ وہی کرو جو میں کرتا ہوں یعنی دعوت الی اللہ۔ آپ کبھی اکیلے کام نہیں کرتے تھے بلکہ عورتیں، مرد اور نو مسلم بھی ساتھ ہوتے، سب مل کر معاشرے کی اصلاح کے لیے کوشش کرتے۔ اللہ تعالی جب اہل کتاب سے ناراض ہوا تو دوسری امت لے آیا اور ہمیں بھی متنبہ کیا کہ اگر ہم نے درست عمل نہ کیا تو سخت عذاب آئے گا اور وہ ہماری جگہ دوسری قوم لے آئے گا۔ اللہ چاہتا ہے کہ ہم اس کے دین کی نصرت کریں۔ دین کی تعلیم، علم کی اشاعت اور دعوت الی اللہ کا لوگوں پر بہت اثر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا: ہمیں لوگوں کی تزکیہ اور اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ وعظ و نصیحت اور عام مجالس میں جب تکبر اور برائیوں کی بات کی جاتی ہے تو لوگ توبہ کرکے تزکیہ ہوتے ہیں۔ نماز، زکوٰة اور حقوق العباد کی بات کی جائے تو لوگ عمل کرتے ہیں کیونکہ تمام احکام دین تزکیہ کرنے والے ہیں۔ تقوی، دین اور تزکیہ کا لباس پہننے سے روحانیت بلند ہوتی ہے اور دنیا کے منکرات اور آخرت کے عذاب سے حفاظت ہوتی ہے۔ علماء کو معلم ہونا چاہیے۔ مدارس میں جامع نصاب ہے کہ طالب علم شبہات کا جواب دے سکے۔ دین اس طرح پیش کیا جائے کہ دیندار مطمئن ہو، کوئی دین چھوڑ کر نہ بھاگے۔
مفتی محمد قاسم قاسمی: رسالت کی ادائیگی میں “اللہ سے تعلق”، “آپس میں تعلق” اور “تمام طبقات سے تعلق” بہت اہم ہے
مولانا مفتی محمد قاسم قاسمی نے اپنے بیان میں کہا: دعوت الی اللہ کا مقام اور ذمہ داری بہت عظیم ہے۔ اس عظمت کا احساس ہونا چاہیے کیونکہ احساس ذمہ داری مثبت نتائج دیتا ہے اور لاپرواہی منفی نتائج۔ کئی عقائدی، اخلاقی انحرافات، بے حیائی، سود اور گمراہیاں ذمہ داری سے بھاگنے کا نتیجہ ہیں جبکہ ہدایت، تقوی، اتحاد اور بھلائی احساس ذمہ داری کا ثمر ہے۔
جامعہ کے استاذ حدیث نےکہا: رسالت کی ادائیگی میں تین تعلقات اہم ہیں: اللہ سے، آپس میں اور تمام طبقات سے۔ اللہ سے تعلق قرآن سے ہوتا ہے، تدبر، ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ قرآن پڑھیں۔ افسوس کہ علماء میں بھی تدبر کے ساتھ تلاوت کم ہو گئی۔ سلف صالحین قرآن کو زندگی میں بہت نمایاں رکھتے تھے۔ ذکر، شکر اور طویل دعائیں تعلق کو مضبوط کرتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق سیرت پڑھنے اور سنت پر عمل سے ہوتا ہے۔ علماء کا آپس میں محبت، ملاقات، تحائف اور دعاؤں کا اہتمام ہونا چاہیے۔ تمام طبقات سے رابطہ رکھیں اور ہر طبقے کے مزاج کے مطابق منظم، مستقل اور مشورے سے پروگرام بنائیں۔ آہِ سحر دعوت میں بہت موثر ہے۔
مولانا عبدالغنی بدری: معاشرے میں بے دینی کا پھیلاؤ تشویشناک ہے
ایران کے شمالی صوبہ گلستان کے فضلا سے بات کرتے ہوئے جامعہ دارالعلوم زاہدان کے استاذ الحدیث مولانا عبدالغنی بدری نے کہا: ایسے اجلاسوں کا مقصد تجدید عہد ہے تاکہ ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ معاشرے میں مسائل بڑھ رہے ہیں، کبھی داعی مایوس ہو جاتا ہے لیکن اللہ کی بارگاہ میں جھکنا اور مشورہ کرنا چاہیے، اللہ راه دکھاتا ہے۔ بے دینی کا پھیلاؤ اور سوشل میڈیا کا خاندانوں پر اثر تشویشناک ہے۔ ہمیں اس میدان میں کیا کرنا چاہیے؟ نبی کریمﷺ ہر میدان میں کامل نمونہ تھے۔ جامع عالم سے اللہ بڑے کام لیتا ہے۔ آپ نﷺے نرمی، صبر اور حکمت سے دعوت دی۔ ہمیں بھی حلم اور برداشت بڑھانی ہے۔
مولانا عبیداللہ موسی زادہ: دعوت نرمی، حکمت اور موعظہ حسنہ سے ہونی چاہیے
تہران سے تعلق رکھنے والے ممتاز عالم دین اور جامعہ دارالعلوم زاہدان کے فاضل مولانا عبیداللہ موسی زادہ نے اپنی گفتگو میں کہا: نبی اکرمﷺ تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر تھے، کسی قوم کے لیے خاص نہیں۔ دعوت میں نرمی، حکمت اور موعظہ حسنہ ضروری ہے۔ دعوت کا مقصد اصلاح ہے، تکلیف دینا نہیں۔ آج دور بدل گیا ہے، کئی لوگ دین کے اصول پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ سوشل میڈیا میں مفید مواد کی کمی ہے، ہمیں وہاں موجود ہونا چاہیے۔ دعوت اس وقت موثر ہوتی ہے جب مخاطب کی زبان، ثقافت اور مزاج کو مدنظر رکھا جائے۔ سب سے بڑی ذمہ داری اصول دین کی دعوت اور اخلاق، معاملات اور عبادات کی اصلاح ہے۔
حافظ محمد اسماعیل ملازئی: مطالبات پیش کرتے ہوئے سب لوگوں کے مسائل اٹھائیں
دارالعلوم زاہدان کے انتظامی امور کے نائب صدر مولوی حافظ محمد اسماعیل ملازئی نے صوبہ گلستان کے علما سے اپنے خطاب میں کہا: علماء کا آپس میں رابطہ باعث حیات ہے۔ اپنے علمی مرکز سے رابطہ برقرار رکھیں اور صوبے میں بھی آپس میں مسلسل رابطہ رکھیں۔ مطالبات پیش کرتے وقت صرف اپنی برادری کے نہیں بلکہ سب لوگوں کے مسائل اٹھائیں۔ دوسروں کو موقع نہ دیں کہ ہمیں چھوٹا دکھائیں۔ دل بڑے کریں، زیادہ سے زیادہ لوگوں کے قریب لائیں اور سب کو ساتھ رکھنے کی کوشش کریں۔
حجۃ الاسلام سید ابوالحسن نواب: اہل سنت کے علماء لوگوں کی دینداری کے سب سے بڑے عامل ہیں
ایران کے جامعہ مذاہب و مسالک کے سربراہ حجۃ الاسلام سید ابوالحسن نواب نے بلوچ اور ترکمن علما سے گفتگو میں کہا: سیستان و بلوچستان میں اخلاقی فساد، طلاق اور سماجی مسائل دیگر صوبوں سے بہت کم ہیں اور یہ علماء کی برکت ہے۔ اہل سنت کے علماء لوگوں کی دینداری کے سب سے بڑے عامل اور وجہ ہیں۔ میں آپ کا احسان مانتا ہوں۔ ایران کے اہل سنت چودہ صدیوں سے نہ صرف ایران بلکہ پورے عالم اسلام کے لیے باعث فخر رہے ہیں۔ ایران کے اہل سنت دنیا کے سب سے پکے معتقد اہل سنت ہیں۔ آپ نے دین کی حفاظت کی۔ حنفی مذہب کی عقلانیت، اعتدال اور وسطیت کی حفاظت کریں تاکہ معاشرہ افراط و تفریط سے محفوظ رہے۔

آپ کی رائے