مولانا عبدالحمید:

ایران میں سب سے زیادہ خواتین کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا گیاہے

ایران میں سب سے زیادہ خواتین کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا گیاہے

اہل سنت ایران کی سب سے زیادہ موثر سماجی و سیاسی شخصیت نے جامع مسجد مکی زاہدان کے تراویح میں ختم قرآن کے موقع پر خطاب میں مسلمانوں کو رمضان کے بعد بھی عبادات پر عمل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا ہے حقیقت سے بال برابر بھی آگے نہ جائیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایک لاکھ سے زائد نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے انیس اپریل دوہزار تئیس کی شب خواتین و حضرات کی موجودی میں کہا: اسلامی جمہوریہ ایران میں سب سے زیادہ خواتین کو امتیازی سلوک اور پالیسیوں سے شکایت رہی ہے۔
یاد رہے زاہدان میں انتیس رمضان کو ہر سال جامع مسجد مکی کی تراویح نمازوں میں ختم قرآن کی تقریب منعقد ہوتی ہے جہاں زاہدان شہر سمیت آس پاس کی بستیوں اور شہروں سے ہزاروں مرد و خواتین شریک ہوتی ہیں۔ اس تقریب میں عام طور پر مولانا عبدالحمید خطاب کرکے دعا کراتے ہیں۔
مذکورہ تقریب میں خواتین کے قانونی اور شرعی حقوق کا دفاع کرتے ہوئے شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین کو ان کا جائز مقام مل جائے اور وہ اپنے مطالبات حاصل کریں۔ ان کی عزت محفوظ رہنی چاہیے۔ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر صحرائے عرفات میں خواتین کے حقوق کے بارے میں خصوصی تاکید فرمائی۔ افسوس ہے کہ آج کل خواتین کے حقوق پامال ہوتے ہیں اور وہ اپنی تقدیر کا فیصلہ نہیں کرسکتی ہیں، بعض کو ان کی میراث کے حق سے محروم رکھاجاتاہے۔
انہوں نے مزید کہا: والدین کو ہرگز یہ حق نہیں پہنچتا کہ بچیوں کوان کی مرضی کے خلاف شادی پر مجبور کریں۔ ماں باپ شادی کے مسئلے میں لڑکیوں سے مشورت کریں۔ خواتین کے حقوق کی پاسداری بہت اہم ہے۔ قرآن پاک نے انہیں ان کے مکمل حقوق کا تذکرہ کیا ہے۔

مستقبل ان لوگوں کا ہے جو تعلیم حاصل کرتے ہیں
جامع مسجد مکی کے خطیب نے کہا: بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے دیں تاکہ وہ علم کے زیور سے آراستہ ہوجائیں۔ اس حوالے سے ان کی ہر ممکن مدد کریں۔ افسوس ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں امتیازی رویہ بڑے پیمانے پر پایاجاتاہے۔ اہل سنت کے علاوہ، بہت سارے قابل اہل تشیع کو بھی امتیازی سلوک کی شکایت ہے۔ خواتین کے خلاف امتیازی سلوک ملک کے اہم مسائل میں شمار ہوتاہے۔
انہوں نے کہا: جب تہران جانے کا موقع ملا اور میں نے بعض حکام سے ملاقاتیں کیں، باربار میں نے اس مسئلے کو اٹھایا کہ خواتین کو اس ملک میں ان کے جائز حقوق نہیں ملتے ہیں اور جس مقام پر انہیں موجود ہونا چاہیے، وہ اس سے دور ہیں۔

انسپکٹرز قیدیوں پر تشدد کرنے کے مجاز نہیں ہیں
مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے ایک حصے میں کہا: اسلامی قوانین کے مطابق، کسی بھی ملزم یا قیدی کو انصاف دلانا اور عادلانہ محکمہ میں ٹرائل کرنا چاہیے۔ قیدی کی عزت محفوظ رہنی چاہیے۔ کسی بھی انسپکٹر کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی قیدی یا ملزم کی پٹائی کرے اور اسے تشدد کا نشانہ بنائے۔
انہوں نے مزید کہا: اسلام میں اگر کوئی قاضی کسی قیدی کی پٹائی کرے، اسے سزا دلوائی جائے گی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ایک گورنر نے کسی شہری کو تھپڑ رسید کی، مسئلہ خلیفہ کے سامنے پیش ہوا۔ فاروقِ اعظمؓ نے اس گورنر کو بلایا اور تھپڑ کھانے والے شخص سے کہا کہ اپنا بدلہ لے لے۔

میں اسلام اور عوام کے حقوق کا دفاع کرنا چاہتاہوں
ممتاز سنی عالم دین نے مزید کہا: اگر ہم کبھی بات کرتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری ایک ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اسلام کا دفاع کریں؛ چونکہ یہاں ایک اسلامی نظام کا دعویدار حکومت قائم ہے۔ ہمیں اور حکام کو ہوشیار رہنا چاہیے کہیں ہماری وجہ سے کوئی اسلام ہی سے نفرت نہ کرنے لگے۔ ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اسلام اس طرح نافذ کرائیں جس طرح نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدینؓ عمل کرتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا: ہم منطق اور دلیل کے دائرے میں رہتے ہوئے اسلام کا دفاع کرتے ہیں، سخت کلامی اور عداوت سے نہیں۔ ہم کہتے ہیں انصاف کا بول بالا ہو اور عدل نافذ ہو۔ہمارا عقیدہ ہے ملک اور پوری دنیا کا امن محفوظ رہے گا اگر انصاف فراہم ہو اور عدل سے کام لیا جائے۔اگر نفاذِ عدل یقینی ہوجائے، حکام اور عوا دونوں کے مسائل حل ہوجائیں گے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: حکام بلندنظری اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرکے سب کے حقوق کا احترام کریں، ان کا مذہب، صنف اور جماعت کچھ بھی ہو۔ نفاذِ عدل دنیا کی قوموں اور حکومتوں کے لیے بہت اچھا ہے۔ سب عادل ہوں اور اپنی نگاہیں بلند رکھیں۔ قرآن پاک اور اسلام کی تعلیمات یہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: عدل و انصاف کا حکم صرف حکام کو نہیں، بلکہ ہم سب کو منصف ہونا چاہیے۔
مذکورہ تقریب شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید کی دعاؤں سے ختم ہوئی۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں