بلوچستان: بارشوں اور سیلاب سے مزید 6 افراد جاں بحق، گیس پائپ لائن بہہ گئی

بلوچستان: بارشوں اور سیلاب سے مزید 6 افراد جاں بحق، گیس پائپ لائن بہہ گئی

موسلا دھار بارشوں اور سیلاب نے بلوچستان میں تباہی مچا رکھی ہے، جس سے مزید چھ افراد جاں بحق اور صوبے میں گیس کی ایک بڑی پائپ لائن بہہ گئی جس کا ملک کے باقی حصوں سے سڑکوں اور ریل کے ذریعے رابطہ منقطع ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دریں اثنا گلگت بلتستان بھر میں دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی سے نظام زندگی اور بنیادی انفرااسٹرکچر متاثر ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔
بلوچستان میں حالیہ اموات کوئٹہ، جعفرآباد، خضدار اور دیگر علاقوں میں بارش کے نتیجے میں ہوئیں۔
لسبیلہ، سبی، ژوب، لورالائی، بولان، خضدار، قلات، ڈیرہ مراد جمالی، نوشکی، خاران اور دیگر اضلاع میں بھی موسلادھار بارشوں اور طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی، سڑکوں اور مکانات کو نقصان پہنچا اور مزید لوگ بے گھر ہوگئے۔
ضلع بولان کی بولان ندی میں طغیانی سے بی بی نانی کے قریب دریا کے نیچے سے گزرنے والی 24 انچ چوڑی گیس پائپ لائن بہہ گئی، جس سے کوئٹہ، پشین، مستونگ، قلات، پشین، زیارت اور دیگر قصبوں کو گیس کی فراہمی معطل ہوگئی۔
ایس ایس جی سی حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گیس کی سپلائی بحال کرنے کے لیے پائپ لائن کو 12 انچ قطر کی پائپ لائن سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ سیلاب کا پانی کم ہونے کے بعد تباہ شدہ پائپ لائن کو تبدیل کرنے میں کم از کم 3 سے 4 روز لگ سکتے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ بلوچستان کو سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے ملانے والی چاروں بڑی شاہراہیں، کوئٹہ-کراچی، کوئٹہ-سکھر، لورالائی-ڈیرہ غازی خان اور ژوب-ڈیرہ اسمٰعیل خان شدید لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کی وجہ سے تاحال بند ہیں۔
لینڈ سلائیڈنگ کے بعد فورٹ منرو ڈیرہ غازی خان اور ژوب ڈیرہ اسمٰعیل خان شاہراہ پر گرنے والے بھاری پتھر نہ ہٹائے جا سکے جس کے باعث سیکڑوں افراد کے ساتھ ساتھ پھل، سبزیاں اور دیگر سامان لے جانے والے کئی ٹرک بھی پچھلے دو روز سے پھنسے ہوئے ہیں۔
سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ ہائی وے کا 10 کلومیٹر تک کا حصہ متاثر ہوا ہے، ان پتھروں اور بھاری کیچڑ کو ہٹانے میں ایک ہفتے سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے جبکہ کوئٹہ کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والے ریلوے ٹریک کو بھی ابھی تک صاف نہیں کیا جاسکا۔
دوسری جانب ضلع لسبیلہ کے قصبے بیلہ میں بارشوں اور سیلاب کے تازہ سلسلے سے کم از کم 40 دیہات ڈوب گئے اور سیلابی پانی گھروں میں داخل ہونے سے 300 سے زائد افراد پھنس گئے۔
پورالی ندی میں طغیانی سے قومی شاہراہ کا کچھ حصہ زیر آب آ گیا جس سے بین الاضلاعی سفر معطل ہو گیا اور بیلہ کے علاقے میں سیلاب سے بچاؤ کا نالہ بھی بہہ گیا۔

گلگت بلتستان
دوسری جانب پورے گلگت بلتستان بھر میں دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی کا سلسلہ جمعہ کو بھی جاری رہا جس سے متعدد افراد بے گھر، فصلیں، زرعی اراضی اور سڑکیں بہہ گئیں اور بجلی کی فراہمی اور انٹرنیٹ سروس معطل رہی۔
مسلسل سیلاب کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں بھی رکاوٹیں آئیں اور دور دراز علاقوں کے مکین دیگر علاقوں سے کٹ کر رہ گئے۔
نگر کے ڈپٹی کمشنر زید احمد کے مطابق ہوپر نالے میں 22 جولائی کے بعد سے پانچویں بار سیلاب آیا، رہائشیوں نے بتایا کہ شمن گاؤں میں کئی مکانات کو نقصان پہنچا جس سے پانچ خاندان بے گھر ہو گئے۔
شمن میں مویشیوں کے فارم، فصلیں، زرعی زمین اور درخت بہہ گئے، ہوپر نالے سے آنے والے سیلاب نے توکور کوٹ کے رہائشیوں کی املاک کو بھی متاثر کیا اور پلوں جیسے بنیادی ڈھانچے کو خطرہ لاحق ہوگیا۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ متاثرہ افراد کو نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں 14 خیمے لگائے گئے ہیں اور کھانے کے پیک بھی تقسیم کیے گئے ہیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

مزید دیکهیں