بچوں کی شہادت، اسرائیلی فوجی حکام کا اقرارِ جرم

بچوں کی شہادت، اسرائیلی فوجی حکام کا اقرارِ جرم

اسلامی جہاد کے مجاہدین پر الزام عائد کرنے کے بعد، اسرائیلی فوج کے حکام نے آج (منگل کو) اعتراف کیا کہ غزہ کی پٹی پر حالیہ حملوں کے آخری دن پانچ فلسطینی بچوں کی ہلاکت کا ذمہ دار اسرائیلی فضائی حملہ تھا۔

اسرائیلی اخبار Haaretz کی ویب گاہ کے مطابق، فوج کے متعدد ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ جبالیہ کے مشرق میں واقع فلوجہ قبرستان میں 7 اگست کو پیش آنے والے واقعے کی فوجی تحقیقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ بچے اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔

مقتولین میں سے چار بچوں کا تعلق نجم خاندان سے تھا۔ بچے 3 سالہ جمیل الدین نجم، 13 سالہ جمیل ایہاب نجم، 16 سالہ محمد صلاح نجم، 16 سالہ حمید حیدر نجم ہیں۔ شہادت کے وقت وہ شمالی غزہ کے قبرستان میں اپنے دادا کی قبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔

لڑکوں کا دوست 16 سالہ ناظمی فیاض ابو کرش بھی ان کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔

5 اگست کو اسرائیلی قابض فوج نے غزہ پر بے دریغ فوجی جارحیت کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں 17 بچوں سمیت 49 افراد جاں بحق اور 360 زخمی ہو گئے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں