پیرو (peru) میں اسلام

پیرو (peru) میں اسلام

جمہوریہ پیرو، بر اعظم جنوبی امریکا کا ملک ہے جو نسبتاً کم آبادی والے ملکوں کے درمیان میں گھرا ہے۔ پیرو کے شمال مشرق میں ”اکواڈور“ کی ریاست ہے، جنوب مشرق میں ”بولیویا“ کا ملک ہے، جنوب میں ”چلی“ ہے، شمال مشرق میں کولمبیا اور مشرق میں برازیل ہے۔ پیرو کے مغرب میں بحر الکاہل کا وسیع و عریض و عمیق سمندر ہے۔ پیرو کا کل رقبہ کم و بیش پانچ لاکھ (496225) مربع میل ہے۔ لفظ ”پیرو“ کا مطلب ایسی سرزمین ہے جو معدنیات اور وسائل کی دولت سے مالامال ہو، اس لفظ کی معنویت سے اس ملک کی معاشی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ ایک جغرافیائی حقیقت ہے کہ پیرو کی سرزمین میں قدرت نے بے پناہ خزانے دفن کر رکھے ہیں۔ ”لیما“ یہاں کا دارالحکومت ہے جو اپنے ملک کی جملہ سرگرمیوں کا مرکز بھی ہے اور ملک کی ایک چوتھائی آبادی اسی شہر میں مقیم ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اس ملک میں دیہاتوں سے شہروں کی طرف انتقال کا رجحان پیدا ہوا جس کے باعث اب ملک کی دو تہائی آبادی شہروں میں مقیم ہے۔
پیرو کی سرزمین پر انسانی قدموں کے نشانوں کی تاریخ تیرہ ہزار سال پرانی ہے، اس دوران متعدد قبائل اور کئی تہذیبوں نے یہاں ڈیرے ڈالے، ان میں سے کچھ کے نشانات اب بھی ملتے ہیں۔ ازمنہ متوسطہ میں انڈین بھی یہاں آئے اور انہوں نے شکار کی غرض سے اس سرزمین پر اپنے تیر چلائے اور ایک عرصہ تک اس خطے کو اپنے قدموں تلے پامال کرتے رہے یہاں تک کہ 1250 قبل مسیح میں وقت کی ترقی یافتہ تہذیبوں نے یہاں کا رخ کرلیا، کیونکہ یہ فطری نظام ہے کہ ثقافتی حبس سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کے لیے بدیسی تہذیبی ہوائیں پہنچ جایا کرتی ہیں۔
نومبر 1533ء میں اسپینیوں نے ”اینکا“ کے دارالحکومت پر قبضہ کرلیا اور یوں ایک شاندار دور اپنے اختتام کو پہنچا کہ اس دنیا میں صرف ایک خدا کی بادشاہت ہی ہمیشہ قائم رہنے والی ہے۔ پیرو پر اسپینیوں کے دور کا آغاز ہوگیا، اس نو وارد قابض یورپی گروہ نے اپنی مجبوریوں کے باعث ”لیما“ کو دارالحکومت بنالیا جو اب تک اسی حیثیت کا حامل شہر ہے۔ اسپینیوں کی آمد کے وقت اس ملک کی بیشتر آبادی دیہاتوں میں ہی مقیم تھی۔ نئے فاتحین نے پیرو کی معاشرتی زندگی میں بہت سی تبدیلیاں کیں، انہوں نے دہقانوں کے ذریعے جاگیرداری نظام کو اس طرح منظم کرکے تو رائج کیا کہ گزشتہ صدی کے نصف تک وہ نظام پیرو کی معاشرتی زندگی میں اہم کردار ادا کرتا رہا۔ اسپینیوں نے پیرو کی تہذیب، ثقافت، مذہب اور معاشی زندگی میں بہت زیادہ اثرات چھوڑے، رومن کیتھولک مذہب، اسپینی زبان اور یورپی طرز کی بود و باش اور اسپینی خاندان روایات یہی پوری قوت سے منتقل کی گئیں۔ اسپینیوں سے آزادی کی تحریکیں پورے براعظم امریکا میں چلنے لگیں اور یوں بیرونی سامراج کمزور پڑنے لگا، پیرو کی آزادی کی جنگ کا بہت بڑا حصہ پیرو سے باہر ہی لڑا گیا اور 28 جولائی 1821ء کو اسپینی فاتحین کا بستر یہاں سے گول ہوگیا اب یہ دن وہاں پر یوم آزادی کے طور پر پورے قومی تہوار کے انداز میں منایا جاتا ہے۔
پیرو کے لوگ زمانہ قدیم سے ہی کچھ مشرکانہ رسوم و عقائد کے مالک تھے، ”وراکوچا“ یہاں کا سب سے بڑا دیوتا تھا جسے خالق کائنات کے ساتھ ساتھ انسان کے باپ ہونے کا مقام بھی حاصل تھا، اور ”پاچا ماما“ اس زمین کی ماں سمجھی جاتی تھی۔ سورج چاند، پہاڑ اور دیگر مظاہر قدرت کی پوجا کا عام رواج تھا۔ اسپینیوں نے یہاں پر عیسائیت کو متعارف کرایا اور سینکڑوں کی تعداد میں گرجا گھر نظر آنے لگے۔ اب آئین کے مطابق اگرچہ مذہبی آزادی ہے لیکن رومن کیتھولک فرقے کو سرکاری سرپرسرتی حاصل ہے۔ اسپنی زبان کو یہاں دفتری زبان کی حیثیت حاصل ہے جبکہ مقامی زبانیں الگ سے بولی جاتی ہیں۔ 2005ء کے مطابق آبادی تین کروڑ کی تعداد کو چھو رہی ہے۔ آبادی میں 87.7 فیصد شرح کے حساب سے شرح خواندگی ہے۔ پیرو کے ساحلی علاقوں میں پنگوئین کثرت سے پائے جاتے ہیں، جبکہ جنگلات میں بندروں اور بن مانسون کی کچھ نایاب نسلیں بھی ملتی ہیں۔
پیرو کی معیشت خام مال کی برآمدات سے وابستہ ہے۔ حال ہی میں اس ملک نے صنعتوں کے قیام پر خصوصی توجہ دی ہے جس کے باعث معیشت میں نمایاں بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔ زراعت کی طرف سے معیشت کو کوئی بہت زیادہ معاونت نہیں ہے اس لیے کھانے پینے کی اکثر اشیا دوسرے ملکوں سے منگوانا پڑتی ہیں جس پر ملکی زر مبادلہ کا بہت بڑا حصہ خرچ ہوجاتا ہے۔ کاپر، آئرن، زنک، سلور اور گندھک کی اعلی اقسام پیرو کی زمینوں میں دفن ہیں۔ ماضی قریب میں سونے اور تیل کے ذخائر کا بھی پتہ لگا لیا گیا ہے۔ اس سب کے باوجود بھی ایک تہائی لوگ صرف زراعت سے وابستہ ہیں اور آلو، گندم، کونین اور مکئی یہاں کی نقدآور فصلیں ہیں۔
پیرو میں اسلام کی آمد مسلمان اسپینیوں کی مرہون منت ہے۔ اسپین میں سقوط غرناطہ کے بعد صلیبیوں کے مظالم سے بھاک کر آنے والے مسلمانوں نے پیرو میں نور توحید کی شمع روشن کی۔ چونکہ یہ لوگ اسپین میں بہت اعلی معاشرتی مقام کے حامل تھے اس لیے ان اسپینی مسلمانوں نے پیرو میں اسلام کی اشاعت سمیت پیرو کی معاشرت، سیاست، اکل و شرب اور لباس و طور و اطوار میں بھی بہت اہم کردار ادا کیا۔ اب تک بھی حجاب والی خواتین کو وہاں پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کہ یہ اعلی خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ لیما کی گلیوں میں چلتے ہوئے آج بھی گھروں کے باہر اسی طرح کی بالکونیاں نظر آتی ہیں جیسی اندلس میں ہوتی تھیں اور چلنے والا محسوس کرتا ہے کہ شاید وہ قرطبہ کی گلیوں میں چل رہا ہو۔ عیسائیوں نے یہاں بھی اسلام کو پھیلتے ہوئے دیکھ کر مسلمانوں پر پابندیاں لگائیں چنانچہ مسلمان چھپ چھپ کر اپنا ایمان تازہ کرتے رہے۔
1940ء کے بعد سے اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی لبنان اور فلسطین سے آنے والے مسلمانوں نے یہاں اسلام کی تجدید کی، لیکن غربت نے مسلمانوں کے ہاں ابھی بھی ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ چنانچہ دو مساجد تعمیر کے بعد ختم ہوگئیں کہ فنڈز نہیں تھے۔ کچھ عرصہ قبل پیرو کے شہر ”ٹکنا“ میں ایک مسجد قائم کی گئی ہے جس میں پانچ وقتہ نماز، صلوۃ جمعہ رمضان المبارک میں تراویح اور قرآن مجید کی تعلیم کا انتظام بھی ہے۔ اب لاطینی امریکا کی مسلمان تنظیموں نے پیرو میں مسلمان یتیم بچوں اور گھر سے محروم افراد پر توجہ دینی شروع کی ہے اور پیرو کے مسلمان نوجوان نے پیرو میں اسلام اور مسلمانوں کے حالات پر ایک ویب سائٹ بھی تیار کی ہے۔ پیرو میں مسلمان چند ہزار تک ہی محدود ہیں، ضرورت ہے کہ ان مسلمانوں کی تربیت اور ان میں بڑھوتری کی منصوبہ بندی کی جائے۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں