مولانا عبدالحمید ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے:

حکام قوم کی آواز اور صدائے احتجاج سن لیں

حکام قوم کی آواز اور صدائے احتجاج سن لیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ایران میں معاشی بحران اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر تبصرہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو قوم کی آواز اور پکار سننے اور عوام کے معاشی مسائل کے حل کے لیے مناسب منصوبہ بندی پر زور دیا۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے بیس مئی دوہزار بائیس کو ہزاروں فرزندانِ توحید سے نماز جمعہ کے اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے کہا: حکام کو میری نصیحت ہے کہ ان لوگوں کی باتیں سن لیں جو احتجاج کرتے کہتے ہیں کہ ہم بھوکے ہیں اور اشیائے خوردونوش کو خریدنے سے عاجز ہیں۔ اس پکار پر توجہ دیں اور قوم کی آواز سن لیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: معزز حکمرانو! اپنی قوم کی آواز سن لیں اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے چارہ جوئی کریں۔ ایک ایسی پالیسی اختیار کریں کہ قوم کی رضامندی حاصل ہوجائے اور دنیا میں یہ بہترین پالیسی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضامندی اس کے بندوں کی رضامندی میں ہے۔ اگر قوم راضی ہوجائے، غیرملکی دشمن بھی غلط فائدہ نہیں اٹھاسکتے ہیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزید کہا: جیسا کہ قرآن پاک میں آیاہے تمام حکومتوں کے لیے بہترین پالیسی اور رویہ ”اللہ تعالیٰ پر توکل“ اور ”عوام کو ساتھ رکھنا“ ہے؛ ارشاد الہی ہے: “یا ایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنین”۔ لہذا حکام کے لیے بہترین پالیسی عوام کی رضامندی اور ان کی راحت وآسائش اور خوشحالی کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہے۔

عوام اپنے اخراجات کی منصوبہ بندی کے لیے بجٹ سازی کریں
مولانا عبدالحمید نے حاضرین کو گھر کے اخراجات کے لیے بجٹ سازی کی نصیحت کرتے ہوئے کہا: اپنے ذاتی اور گھر کے اخراجات کے لیے مناسب منصوبہ بندی سے بجٹ سازی کریں اور اسراف اور فضول خرچی سے بچیں۔
انہوں نے کہا: معیشت کو اقتصاد کہتے ہیں جو اسلامی لفظ ہے اور اس کا مطلب ہی اخراجات میں میانہ روی ہے۔ قرآن پاک واضح طورپر نصیحت کرتاہے کہ خرچ کرنے میں کنجوس بھی نہ بنیں اور زیادہ روی بھی نہ کریں۔ ایسا نہ ہو کہ سارا مال صدقہ کریں اور پھر اپنے گھروالوں کے اخراجات کے بارے میں پریشان ہوجائیں۔

مالدار لوگ شادی کی تقریبات سادہ بنائیں
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے شادی بیاہ کی تقریبات کے اخراجات کو کمرتوڑ یاد کرتے ہوئے کہا: شادی ایمان کا آدھا حصہ ہے اور افراد کو گناہ سے محفوظ رکھتی ہے۔ آج کل ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شادی کی عمر کو پہنچ چکے ہیں، لیکن جہیز، ولیمہ کے اخراجات اور سونا خریدنے کا پیسہ ان کے پاس نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا: لہذا علمائے کرام، عمائدین اور امیر طبقے سے ہماری درخواست ہے کہ شادی کے اخراجات کم کریں۔ شادی کی تقریبات میں پچاس سے سو افراد تک مدعو کریں تاکہ سماج کے کمزور طبقوں کے لیے شادی کی تقریب منعقد کرانا آسان ہوجائے اور وہ دیکھادیکھی شادی سادگی سے منعقد کرائیں۔ نبی کریمﷺ کے دور میں شادی سادہ اور آسان تھی؛ ولیمہ میں حلوے اور کھجور سے تواضع ہوتی تھی اور زیادہ سے زیادہ ایک دنبہ ذبح کرایا جاتا۔
شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: آج کل قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔ کم سونا سے شادی کرائیں۔ شادی کی اجتماعی اور سادہ تقریبات منعقد کرائیں تاکہ معاشرہ فساد میں مبتلا نہ ہوجائے۔ کچھ لوگ شادی کے اخراجات سے عاجز ہوکر ناجائز کاروبار کی طرف جاتے ہیں اور پھر جیل جاتے ہیں یا پھانسی کی سزا پاتے ہیں۔ لوگوں پر سختی نہ کریں اور آسانی کا معاملہ کریں۔

ایمان کے بعد ’علم‘ انسانی اور اسلامی معاشرے کی سب سے اہم ضرورت ہے
مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے پہلے حصے میں علم و دانش کو ایمان کے بعد سب سے اہم ضرورت یاد کرتے ہوئے دینی اور عصری علوم حاصل کرنے اور گرمی کی چھٹیوں میں قرآنی کلاسوں میں شرکت پر زور دیا۔
خطیب اہل سنت نے زاہدان میں خطاب کرتے ہوئے اپنے بیان کا آغاز قرآنی آیت: ”یوتی الحکمۃ من یشاء و من یوت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا“ (بقرہ 269:) کی تلاوت سے کیا۔
انہوں نے کہا: انسان اپنے مادی اور روحانی تقاضوں کے لیے علم کے محتاج ہے۔ روحانی تقاضوں کو شرعی علوم سے اور مادی تقاضوں کو علوم عصری سے پورا کرتاہے۔ ایمان کے بعد، معاشرے کی سب سے بڑی ضرورت علم ہی ہے۔ یہ پانی سے زیادہ انسان کی ضرورت ہے اور اس کے بغیر خدا تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔
صدر جامعہ دارالعلوم زاہدان نے کہا: سمجھدار شخص وہی ہے جو اپنے مادی اور روحانی تقاضوں کو سامنے رکھ علم حاصل کرے۔ ماڈرن تعلیم سے دنیا کو اپنے اور دوسروں کے استعمال کے لیے آباد کرے اور علم شریعت سے اپنی اور دوسروں کی اصلاح کرے تاکہ جنت اور خدا تک پہنچے۔
انہوں نے مزید کہا: جس طرح انبیا علیہم السلام کے دور سے شرعی علوم جاری ہوچکے ہیں، عصری اور دنیاوی علوم کا آغاز بھی حضرت آدم علیہ السلام کے دور سے ہوا ہے۔ ایجادات بعد میں ہوئے، لیکن ان کی استعداد اور اسباب کو اللہ تعالیٰ نے پہلے سے انسان کی فطرت میں رکھا تاکہ وہ اپنی ضرورتوں کے مطابق نئی چیزوں کو دریافت کرے۔ان سب نعمتوں کا مالک اسی لیے اللہ ہی ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: بہت سارے لوگ خود کو شرعی علوم سے مستغنی اور بے نیاز سمجھیں؛ یہ بہت بڑی غلطی اور گمراہی ہے۔ ایسے لوگ انسان کی اصلاح اور نفس کی تزکیہ کو نظرانداز کرتے ہوئے اور اسی لیے موجد اور ایجادات کی دنیا میں نام کمانے والے بند گلیوں میں پھنس جاتے ہیں۔عصری علوم کو نظرانداز کرنا بھی غلط اور انبیا علیہم السلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔
انہوں نے مزید کہا: معاشرے کو خیرخواہ مربیوں اور نیک و صالح علما کی ضرورت ہے۔ ایسے علما اور عصری علوم کے اساتذہ کی ضرورت ہے جو علم و دانش کو محض روزگار اور ذاتی مفادات کی خاطر حاصل نہ کریں اور ان کا مقصد اللہ ہو اور اس کے بندوں کی خدمت اور منفعت کو سامنے رکھیں۔ قرآن پاک کو نام اور دنیا کی خاطر نہ سیکھیں اور مقصد دین ہی کی خدمت ہو۔
صدر جامعہ دارالعلوم زاہدان نے کہا: کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ دور دور سے علم حاصل کرنے اور قرآن حفظ کرنے کے لیے زاہدان آجائیں، لیکن اس شہر کے بچے علم سے محروم ہوں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں علما کی تعداد بڑھ چکی ہے اور مزید عالم دین کی ضرورت نہیں ہے، حالانکہ ہزاروں مسجدوں کو پیش امام کی ضرورت ہے۔ سماج کو ایسے علما کی ضرورت ہے جو امامت اور تعلیم کے فرائض ساتھ ساتھ سرانجام دیں۔ وہ عالم دین جو اپنی زندگی دینی تعلیم حاصل کرنے اور پڑھانے کے لیے وقف کرے، اس کی قدر و قیمت بہت زیادہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا: قرآن سیکھیں اور اپنی اولاد کو بھی سکھائیں۔ سرکاری سکولوں کی چھٹیاں شروع ہونے والی ہیں۔ ان چھٹیوں میں بچوں کی تعلیمی کمزوریوں کے ازالہ اور دینی تعلیم حاصل کرنے لیے منصوبہ بندی کریں۔ منعقدہ کلاسوں میں بچوں کو بھیجیں اور انہیں دینی مدارس اور کالجوں اور جامعات میں داخل کرائیں۔


آپ کی رائے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید دیکهیں